انجمن تاجران دو گروہوں میں بٹ گئی، تلخ کلامی، 21 اور 22 دسمبر کو شٹر ڈاون ہڑتال کا اعلان

گلگت ( ارسلان علی ) انجمن تاجران دو گروپوں میں بٹ گئی ، دوران پریس کانفرنس دونوں گروپوں کا ایک دوسروں کے خلاف تلخ جملوں کا استعمال ، ایک گروپ نے 21اور22دسمبر کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کر دیا جبکہ دوسرے گروپ نے احتجاج سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے انجمن تاجران گلگت بلتستان پر عدم عتماد کا اظہار کر دیا ۔ عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے چےئرمین مولانا سلطان رئیس اور صدر انجمن تاجران محمد ابراہیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کسی کے مخالف نہیں بلکہ عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران قوم کے مفاد کیلئے ٹیکس خلاف تحریک کا آغاز کررہے ہیں جب تک ایڈاپٹیشن ایکٹ 2012کو ختم نہیں کیا جاتا ہے تب تک احتجاج جاری رہے گا ہم قوم کے مفاد کیلئے جیل بھرو تحریک کیلئے بھی تیار ہیں انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان سطح پر انجمن تاجران ٹیکس کے خلا اور ٹیکس خاتمے تک متفق ہیں ۔ اگر صوبائی حکومت قوم کے خیر خواہ ہے تو ایڈاپٹیشن ایکٹ میں ترمیم کرکے جابرانہ ٹیکس کا خاتمہ کریں ۔ انہوں نے صوبائی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے وئے کہا کہ وزیر اعلیٰ جی بی کونسل ممبران کی عیاشیوں اور اپنے عیاشیوں کیلئے جیب بھرو تحریک کے تحت مظلوم عوام پر ٹیکس لگا رہے ہیں اگر حفیظ کو پیسوں سے اتنا پیار اور محبت ہے تو کشکو اٹھا کر دونوں مساجد سے چندہ کریں مگر عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران جابرانہ ٹ ؁کس لگانے کی ہر گز اجازت نہیں دینگے ۔ انجمن تاجران کے دوسرے گروپ جن میں مولانا نثار احمد ، بشارت حسین ، عقیل احمد ، الطاف حسین ، منصور ولی خان ، لال خان و دیگر نے انجمن تاجران کو خود ساختہ اور نام نہاد قرار دیکر 21دسمبر کو شٹر ڈاؤن ہڑتال سے لا تعلقی کا اعلان کرتے ہوئے مقامی ہوٹل میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کا نہ تو انجمن تاجران سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی انجمن تاجران عوامی ایکشن کمیٹی کے گمنام ایجنڈے کی حمایت کرتے ہیں ایکشن کمیٹی نام نہاد انجمن تاجران کے صدر کو کس ایجنڈے کیلئے استعمال کررہے ہیں تاجروں کو اس بارے میں علم نہیں انہوں نے کہا کہ کرنل احسان علی روڈ ، کشروٹ ایریا ، نسیم سینما ایریا ، کنوداس ، این ایل آئی مارکیٹ ، کلمہ چوک ، یادگار چوک کے کسی ایک تاجر کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور مقامی ہوٹل میں مذاکرات ہوئے اور فیصلہ ہوا کہ دو گھنٹے بعد ملکر وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے بعد احتجاج کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا مگر نام نہاد گروپ نے ڈھائی سو سے زائد تاجروں کو مقامی ہوٹل میں چھوڑ کر عوامی ایکشن کمیٹی کے ایجنڈے کو لیکر میڈیا بریفن گید گئی ۔ اسلئے تمام ایریوں کے انجمن تاجران نے فیصلہ کیا ہے کہ فوری طور پر انجمن تاجران ایسوسی ایشن کی نئی کابینہ انتخابات کا اعلان کیا جائیگا۔ انہوں نے ود ہولڈنگ ٹیکس کے نام پر اکید دسمبر سے شٹر ڈاؤن ہڑتال کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے احتجاج سے لا تعلقی کا اعلان کرتے ہوئے تمام دوکانیں کھولنے کا اعلان کر دیا ۔

آپ کی رائے

comments