ایکسائز اینڈ ٹیسکیشن کے گودام میں ضبط شدہ گاڑیوں کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار گولی لگنے سے زخمی

سکردو (رضاقصیر ) سکردو میں ایکسائز اینڈ ٹیسکیشن کے گودام میں ضبط شدہ گاڑیوں کی حفاظت پر مامور ایک پولیس اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہو گیا ہے۔

پولیس کے مطابق کانسٹیبل قمر عباس پر حملہ بدھ کی رات اس وقت کیا گیا جب وہ ویئر ہاؤس میں ان گاڑیوں کی نگرانی کر رہے تھے جنہیں ایکسائز کے عملے نے دن کے وقت شہر کے مختلف مقامات سے غیر قانونی ہونے کے شک کی بنا پر ضبط کیا تھا۔

واقعہ کی تفصیل بتاتے زخمی انسپکٹر نے کہا کہ وہ گزشتہ شب ڈیوٹی پر موجود تھے کہ رات کے اندھیرے میں نامعلوم افراد نے اچانک فائر نگ شروع کر دی اور ایک گولی انہیں لگی جس سے وہ زخمی ہو گئے۔ “زخمی ہونے کے بعد میں نے بھی جوابی فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں ملزمان رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھا تے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے”۔

سکردو کے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے محکمے نے شہر میں بدھ کے روز ہی غیر قانونی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاون شروع کیا اور ایک دن میں 23گاڑیاں قبضے میں لے لی گئی ہیں” ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن افسر ناصر علی نے شک ظاہر کیا ہے کہ پولیس اہلکار پر حملہ کسی ضبط شدہ گاڑی کے مالک کی کارروائی ہو سکتی ہے۔

“ہو سکتا ہے انہی گاڑیوں کے مالکان میں سے کسی نے ہمارے عملے پر فائرنگ کی ہو تاہم جب تک پولیس کی تفتیش مکمل نہیں ہوگی تب تک حتمی طورپر کچھ نہیں کہا جاسکتا”۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس حملے کے باوجود غیر قانونی گاڑیوں کے خلاف یہ مہم نہ صرف جاری رہے گی بلکہ اس میں تیزی لائی جائے گی۔

ناصر علی نے کہاکہ اسمبلی سے پاس ہونے والی قانون کے مطابق چوری اور ٹمپرنگ نمبر والے گاڑیاں جس کا وہ مالکانہ حقوق ثابت نہ کر سکیں کو ایکسائز اینڈ ٹیکسن قبضے میں لے کر قانونی کاروائی کرنے کا مجاز ہے۔

ادھر سکردو میں سینئر سپرانٹنڈنٹ پولیس راجہ مرزا حسن نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ پولیس نے شک کی بنیاد پر چھ افراد کو حراست میں لیا ہے لیکن ابھی تک اس حملے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments