خبریں

گوپس یاسین اور روندو کو بھی اضلاع کا درجہ دیا جائے، مسلم لیگ ن غذر کے رہنماوں کی ‘وزیر اعلی سے اپیل اور مطالبہ’

غذر( دردانہ شیر ۔سیلم شیرین) پاکستان مسلم لیگ (ن) ضلع غذر کے صدر و وزیر سیاحت گلگت بلتستان فدا خان فدا ، مشیرخوراک غلام محمد ، جنرل سکریٹری ڈاکٹر مستان خان اور دیگر عہدیداران نے گاہکوچ میں پریس کلب میں ایک پرنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گوپس یاسین کے عوام کا ایک درینہ مطالبہ ہے کہ گوپس یاسین کو الگ ضلع کا درجہ دیا جائے انہوں نے کہا کہ ہم وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان سے یہ اپیل اور مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ درایل تانگیر کو اضلاع بنانے کا اعلان کیا ہے ان کے نوٹفیکشین کے ساتھ ساتھ گوپس یاسین اور روندو سکر دو کو بھی الگ اضلاع بنانے کا بھی نوٹیفکشن جاری کرے تاکہ ان علاقوں کے عوام کا درینہ مطالبے کی پوراہوسکے انہوں نے کہا کہ آرڈر 2018 کے تحت وفاق نے تمام اختیارات صوبائی حکومت کو منتقل کر دیا ہے اور اضلاع بنانا وزیر اعلیٰ کے اختیار میں ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ تمام اضلاع ہم اپنے صوبائی وسائل سے بنا رہے ہیں ۔اس میں وفاق کا کوئی عمل دخل نہیں ہے.

انہوں نے کہا کہ جب 2015 کو ہماری حکومت بر سر اقتدار آئی تو ہمارے صوبائی صدر اور موجودہ وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان نے بڑے بڑے پروجیکٹس لائے اور گلگت بلتستان میں کئی اربوں کے میگا پروجیکٹس شروع ہوئے اسی طرح غذ ر کے اند ربھی اس وقت پانچ ارب کے قریب پروجیکٹس منظور ہوئے ہیں جن میں سے بعض پروجیکٹس پر کام جاری ہے اور بعض ٹینڈر ہونے کو ہے انشان اللہ یہ سب کام میدان میں آپ کو نظرآئینگے ۔

انہوں نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی اور اس وقت نواز شریف نے کچھ انتظامی یونٹس کا اعلان کیا تھا لوگ سمجھ رہے تھے کہ یہ اضلاع بنیں گے یا نہیں  مگر اب وزیر اعلی گلگت بلتستان نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے درایل اور تانگیر کو بھی الگ الگ ضلع بنایا ہے ہم نے اج پاکستان مسلم لیگ (ن) غذر کے اجلاس میں بھی گوپس یاسین کو ضلع کا درجہ دینے کے لئے قرارداد پاس کیا ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ داریل تانگیر کے ساتھ ساتھ گوپس یاسین اور روندو کو بھی ضلع کا درجہ دینے کے لئے ایک ساتھ نوٹیفیکشن جاری کیا جائے۔

انھوں نے مزید کہا کہ خدا کے فضل گلگت بلتستان میں اہم پروجیکٹس جن میں کچھ پایہ تکمیل کو پہنچ گئے ہیں اور کچھ پر تیزی سے کام جاری ہے ۔ اور آج مسلم لیگ کا ترقیاتی پروجیکٹس میدان میں ہے اور سب کو نظر آرہا ہے ۔ اور مسلم لیگ کی وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کا سالانہ ترقیاتی بجٹ 17 ارب روپے کر دیا جس سے علاقے میں ترقیاتی کاموں کا جال پھیلایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں صرف پنجا ب ہے جہاں سو فیصد ترقیاتی بجٹ خرچ ہورہا ہے اور اس کے بعد گلگت بلتستان ہے جہاں کی بجٹ کا سو فی صدرخرچ ہورہا ہے اور ایک روپیہ بھی واپس نہیں ہورہا ہے یہ مسلم لیگ کی صوبائی حکومت کا کمال ہے کہ جس نے ترقیاتی بجٹ کو جس قدر استعمال میں لایا قابل تعریف ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں مشیر خوراک غلام محمد نے کہا کہ گلگت سے گاہکوچ تک سڑک کی پیچ ور ک کا کام تیزی سے جاری ہے چونکہ اس روڈ کو پہلے سی پیک میں رکھنے کی بات ہوئی تو اس کی تعمیر میں تاخیر ہوااور یاسین ریسٹ ہاؤس سے ہندور تک سڑک کی ٹینڈ ر عنقریب ہونے والا ہے انہوں نے کہا کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے بروقت منصوبوں کا آغاز نہیں ہورہا ہے جب موسم صاف ہوگا تو فوراََ ان پروجیکٹس پر کام کی رفتار میں تیزی ائیگی ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ غذر روڈ کو سی پیک سابق حکومت نے رکھا تھا مگر موجودہ حکومت نے چکدرہ سے چترال تک روڈ بنانے کی منظوری دی ہے جبکہ چترال سے گلگت تک روڈ کو سی پیک فیز ٹو میں رکھنا ان علاقوں کے عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس روڈ کو بھی فیز ون میں شامل کیا جائے تاکہ ایک طرف عوام کو امدورفت میں اسانی ہوگی تو دوسری طرف سالانہ لاکھوں کی تعداد میں سیاح بھی اس خطے کا رخ کر سینگے۔ایک سوال کے جواب میں مشیر خوراک گلگت بلتستان غلام محمد کا کہنا ہے کہ تحصیل آشکومن کو بھی سب ڈویژن بنانے پر غور کیا جارہا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔

متعلقہ

Back to top button
%d bloggers like this: