حکومتی مجرمانہ غفلت سے ایسا لگ رہا ہے کہ گلگت بلتستان میں جنگل کا قانون نافذ ہے۔ سعدیہ دانش

استور(شمس الرحمن شمس) پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی صوبائی سکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ ایک نااہل شخص کو پارٹی صدر بنانے کے لئے فوری قانون سازی ہوسکتی ہے تو گلگت بلتستان سے ٹیکس کے خاتمے کے لئے کیوں نہیں۔ حکومتی مجرمانہ غفلت سے ایسا لگ رہا ہے کہ گلگت بلتستان میں جنگل کا قانون نافذ ہے۔ صوبائی حکومت کا طرز عمل جمہوریت کی توہین ہے۔حالات و واقعات سے ثابت ہو رہا ہے کہ عوام پر الزام لگانے والی حکومت خود سی پیک کے خلاف سازش میں شریک ہے۔ گلگت بلتستان میں نظام زندگی مفلوج اور شدید سردی میں عوام کئی روز سے سڑکوں پر ہیں مگر وفاقی اور صوبائی حکومت آنکھیں بند کئے بیٹھی ہے۔وزیر اعلی اور وزراء ہوش کے ناخن لیں اور اس بات کا ادراک کریں کہ حکومت عوام کی خدمت کے لیے ہوتی ہے نہ کہ عوام پر ظالمانہ اور جابرانہ فیصلے مسلط کرنے کے لئے۔صوبائی حکومت کی عوامی مسائل میں عدم دلچسپی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ کوئی بھی اہم ایشو احتجاج اور عوامی دباؤ کے بغیر حل نہیں ہوتا۔انکی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ عوام اپنے کاروبار بند کر کے احتجاج کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔صوبائی حکومت کا شور خالی برتن کے زیادہ بجنے کے مصداق ہے۔اس حکومت نے گلگت بلتستان کے عوام کے جو قیمتی سال محض تنخواہیں اور مراعات لینے میں ضائع کئے ہیں انکا حساب دینا ہوگا۔پیپلز پارٹی پر تنقید کرنے والے اس حقیقت سے نظریں کیوں چراتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی پہچان مرحلہ وار آئینی اصلاحات اور اختیارات کس کے مرہون منت ہیں۔پیپلز پارٹی ٹیکسوں کے خلاف اور کسی بھی طرح کی زیادتی اور ناانصافی کے خلاف بھر پور احتجاج میں عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔پیپلز پارٹی ہر قیمت پر عوامی حقوق کا دفاع اور تحفظ کرے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments