ڈویژنل فارسٹ آفیسر نے جوتی جنگل تھک میں غیرقانونی طور پر 375 درخت کاٹنے کےالزام میں نامزد ملزم کو جیل بھیج دیا

چلاس ( ڈسٹرکٹ رپورٹر ) ڈویژنل فارسٹ آفیسر افتخار احمد نے جوتی جنگل تھک میں غیرقانونی درختان کاٹنے والے نامزد ملزم شرافت ولد عبدالوہاب کو جیل بھیج دیا ملزم پر 375 درخت کاٹنے کا الزام تھا۔

رینج فارسٹ آفیسر عبدالحمید ، نصیر احمد اور عبدالصدیق نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ تھک کے علاقے جوتی جنگل میں جولائی 2017 میں غیرقانونی قانونی طور پر 375 درختان کاٹے گئے تھے جس پر محکمہ جنگلات نے کیس نمبر 119/17 ٹو 12/17 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ محکمہ جنگلات نے شیر افضل ولد عبدالوہاب کو ملزم نامزد کردیا تھا جس کو گرفتار کرکے فارسٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کردیا۔ عدالت میں شیر افضل نے بیان دیا کہ جنگل کی کٹائی میں میرا کوئی کردار نہیں البتہ میرے بھائی شرافت نے اس جنگل کو کاٹا ہے جس پر محکمہ جنگلات کے فیلڈ سٹاف نے شرافت ولد عبدالوہاب کو نامزد کرکے فارسٹ مجسٹریٹ افتخار احمد کی عدالت میں پیش کردیا اور نامزد ملزم کے بھائی کی شہادت پر فارسٹ مجسٹریٹ افتخار احمد نے شہادتوں کی بنیاد پر نامزد ملزم کو ایک ماہ قید، کٹائی کی گئی درختان مال سرکار اور دس ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔

انہوں نے کہا کہ جوتی جنگل میں 375 درختان کی کٹائی میں صرف فرد واحد نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے علاقے کے لوگ بھی تھے اور ایسی کیسز میں فیصلے دینا بہت مشکل کام ہوتا ہے لیکن محکمہ جنگلات کی تاریخ میں پہلی بار ایسا تاریخی فیصلہ دیا ہے جس کے اثرات انتہائی مثبت نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ فرد واحد کے خلاف فیصلہ دینا روز مرہ کا معمول ہے لیکن اس فیصلے کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات افرادی قوت کی کمی کے باوجود جنگلات کی حفاظت کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لارہے ہیں اور کسی بھی صورت جنگلات میں غیرقانونی طور پر کام کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگلات کی کٹائی کرنے والوں کو اسی انداز میں سزا کا سلسلہ جاری رکھا گیا تو یقینی بات ہے کہ ہم جنگلات کی بہتر انداز میں حفاظت کرنے میں کامیاب ہونگے اور اس میں کمیونٹی کی تعاون نہایت ضروری ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments