سالِ نو کی پُر نور صُبحِ نو

تحریر: اشتیاق احمد یاد

2017 ء کا آخری دن یعنی 31 دسمبر گلگت بلتستان ک لیے ایک بہت بڑی نوید دے کر رُخصت ہوا اور سالِ نو کی صُبحِ نو کو پُر نور بنا گیا۔

اقبال کہتے ہیں ؛

جہاں تازہ کہ افکارِ تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

میرے اِس پُر نور سے انسان کا اندرون اور علمی نور مراد ہے۔ کیو نکہ یہ نور جاوداں اور غیر زوال پزیر ہوتا ہے۔ مہذب اور با شعور قومیں اپنی زبانوں ، ثقافت اور فنونِ لطیفہ پر نہ صرف بجا طور پو فخر کرتی ہیں بلکہ اِن کے تحفظ، ترویج اور ترقی کے لیے دامے، درمے ، سخنے اور قدمے اپنا بھر پور کردار ادا بھی کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی قوموں کے ہاں نرم و نازک جذبات، انسانی اقدار، جذبہء ایثار، مساوات، مقامی دانش اور ہم آہنگی اپنی مثال آپ ہے۔ قدرت نے خطہء گلگت بلتستان کو انمول نعمتوں اور بیش بہا خزینوں سے نوازا ہے۔ اِس خطے کا لسانی و ثقافتی تنوّع، ادبی تنوّع، حیاتیاتی تنوّع ، اساطیری تنوّع، معدنیاتی تنوّع، جغرافیائی تنوّع اور لاثانی قدرتی رعنائیوں میں تنوّع شاید ہی دنیا کے کسی خطے کو نصیب ہو۔ اِس ممتاز تنوّع کو توانا، متحرک اور فائدہ مند بنانا گلگت بلتستان کے باسیوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ستّر سالوں سے یہاں کے باسی اپنی اس بنیادی ذمہ داری کو نبھانے میں کچھ نہ کچھ کردار ادا کر رہے ہیں جس کو سراہا جانا ضروری ہے۔ لیکن یہ بنیادی ذمہ داری ویسے نہیں نبھائی گئی ہے جس کی یہ متقاضی ہے۔ پچھلے کچھ سالوں میں اس میں تھوڑا بہت خونِ جگر شامل کیا جارہا ہے ۔ عصری تقاضوں کے تناظر میں یہ بھی ہنوزمثالی نہیں ہے۔

لسانی و ثقافتی تنوّع اور ادبی تنوّع کو توانا، متحرک اور فائدہ مند بنانے کا ایک آزمودہ اور بہترین طریقہ ’’مقامی زبانوں ‘‘ کا تحفظ، ترویج اور ترقی ہے۔ جبکہ ’’مقامی زبانوں ‘‘ کے تحفظ، ترویج اور ترقی کا آزمودہ اور بہترین طریقہ سکولوں میں اِن زبانوں میں درس و تدریس کا ہونا ہے۔ اِسی تناظر میں پچھلے نو ماہ سے گلگت بلتستان کی حکومت، گلگت بلتستان کی انتظامیہ ، محکمہء تعلیم گلگت بلتستان، نامور ادیب ظفر وقار تاج صاحب اور خطے کی پانچ مقامی زبانوں شینا، بلتی ، بروشسکی، کھوار اور وخی کے ماہرین اور ادبا غیر معمولی کردار ادا کر رہے ہیں اور اِن زبانوں میں نصاب سازی کے عمل کو لسانی ، فنّی و سائنسی بنیادوں پر پروان چڑھارہے ہیں۔ ظفر وقار تاج صاحب کی سربراہی اور ڈائریکٹر ایجوکیشن فیض اللہ لون صاحب کی انتظامی معاونت سے یہ ماہرین ابتدائی طور پر اپنی اپنی زبانوں میں سکولوں میں درس و تدریس کے لیے ’’قاعدے ‘‘ مرتّب کر رہے ہیں۔ یہ امر نہایت طمانیّت کے باعث ہے کہ شینا کا قاعدہ مرتّب ہو چکا ہے اور دیگر زبانوں میں رواں ماہ کے آخر تک قاعدے منصۂ شہود پر آئیں گے۔ پھر یہ قاعدے گلگت بلتستان کے سکولوں میں فروری/ مارچ سے درس و تدریس کا باقاعدہ حصّہ ہونگے۔

گلگت بلتستان کی اِن پانچ مقامی زبانوں کے ماہرین کا اپنی اپنی زبانوں میں رسم الخط ، اضافی اصوات اور نظامِ لکھائی پڑھائی پر منّفق ہونا جوئے شِیر لانے کے مترادف تھا۔ گو کہ یہ ماہرین اور ادبا عشروں سے اپنی زبانوں میں لکھائی پڑھائی میں اہم کام سر انجام دے رہے تھے مگر رسم الخط ، اضافی اصوات اور نظامِ لکھائی پڑھائی پر کافی حد تک آپس میں منّفق نہیں تھے۔ جس کے باعث لکھائی پڑھائی کے متفرق نظاموں کو اپنائے ہوئے تھے۔ یہ پیچیدہ صورتِ حال ایک چیلنج کی صورت بنی ہوئی تھی۔ پچھلے نو ماہ کی کاوشوں سے شینا کے ماہرین اس معاملے میں ایک پیچ پر آچکے تھے جبکہ دیگر چار زبانوں کا یہ مسئلہ حل طلب تھا۔ اس تناظر میں ظفر وقار تاج صاحب کی سربراہی میں متعدد اجلاس منعقد کیے گیے۔ جس کے نتیجے میں یہ مسئلہ حل کی جانب بڑھنے لگا۔ اس مسئلے کو فنّی اور سائنسی بنیادوں پر حل کرنے، نظامِ لکھائی پڑھائی (Orthography) پر سیر حاصل گفتگو کرنے اور تین زبانوں بروشسکی، کھوار اور وخی کے ماہرین کے آپس میں اتّفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے گلگت بلتستان حکومت اور گلگت بلتستان کی انتظامیہ کے زیر انتظام ۲۹ دسمبر سے ۳۱ دسمبر ۲۰۱۷ تک کے آئی یو گلگت میں تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی ۔ جس میں اِن تین زبانوں کے ماہرین کے ساتھ ساتھ شینا زبان کے ماہرین اور ادبا نے بھی شرکت کی۔ اس ورکشاپ میں سہل کاری کے فرائض فورم فار لینگویج انیشیٹیو، FLI اسلام آباد کے ماہرینِ لسانیات نسیم حیدر اور امیر حیدر کے ساتھ ساتھ لسانیات کے کنسلٹنٹ زمان ساغر و معروف قلم کار اور IBT کا لام کے ڈ ائیریکٹر زبیر توروالی نے سر انجام دئیے جبکہ عبدالصبور نے اُن کی معاونت کی۔ اس تین روزہ تربیتی ورکشاپ میں سہل کاروں نے رسم الخط، حروفِ تہجی، اضافی اصوات ، مصوّتوں، مصمّتوں ، یونی کوڈ کے نظام اور دیگر اہم فنّی موضوعات پر عمیق اور مفید تربیت فراہم کی۔ سیکریٹری پانی و بجلی/ چیئر مین صوبائی نصاب ساز کمیٹی برائے مقامی زبانیں ظفر وقار ظفر صاحب بھی مسلسل تین دن شریک رہے اور نگرانی کے ساتھ ساتھ مناسب آراء بھی دیتے رہے۔ تربیتی ورکشاپ میں جہاں فنّی لحاظ سے بہت کچھ سیکھا گیا وہیں یہ تاریخ ساز پیش رفت بھی سامنے آئی کہ گلگت بلتستان کی دوزبانوں بروشسکی اور وخی کے ماہرین اپنی اپنی زبانوں کے رسم الخط، حروفِ تہجی، اضافی اصوات ، مصوّتوں، مصمّتوں اوریونی کوڈ کے نظام پر مکمل طور پر متّفق ہوئے۔ جبکہ کھوار زبان کے ماہرین چند اختلافات کے باعث متّفق نہیں ہو سکے جس پر ظفر وقار تاج صاحب نے یہ مسئلہ گلگت بلتستان حکومت کی کابینہ میں لے جانے کا فیصلہ کیا تاکہ کوئی حل تلاش کیا جا سکے۔ اِس ضمن میں بلتی زبان کے ماہرین سے جلد گفت و شنید کرنے کا بھی فیصلہ ہوا۔ شینا زبان کے ماہرین اس معاملے پر پہلے ہی متّفق ہو چکے ہیں۔

تربیتی ورکشاپ کی اختتامی تقریب سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے ظفر وقار ظفر صاحب نے کہا کہ گلگت بلتستان کی مقامی زبانوں کے رسم الخط اور اضافی اصوات پر ماہرین میں اتفاقِ رائے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِس ضمن میں نصاب ساز کمیٹی میں شامل مقامی قلم کاروں ، ادبا اور ماہرینِ لسانیات کی انتھک محنت اور لچک کا مظاہرہ نہ صرف قابلِ ستائش ہے بلکہ قابلِ تقلید بھی ہے۔ انہوں نے مذید کہا کہ اس مثالی اتّفاقِ رائے اور مستقبل میں سکولوں میں مقامی زبانوں میں درس و تدریس سے انگنت فوائد حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ آپس کی ہم آہنگی کو بھی غیر معمولی فروغ ملے گا۔ تربیتی ورکشاپ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کلچر گلگت بلتستان سلمان پارس نے خصوصی شرکت کی۔

ورکشاپ میں شریک ماہرین نے گلگت بلتستان حکومت، مقامی انتظامیہ بالخصوص ظفر وقار تاج صاحب اور محکمہء تعلیم کی اس سلسلے میں بروئے کار لائی جانے والی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں سراہا۔ اِس موقع پر ظفر وقار تاج صاحب نے نصاب سازی کے اس عمل میں غیر معمولی کردار ادا کرنے پر سہل کاروں اور مقامی ماہرین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور کے آئی یو کے ڈپارٹمنٹ آف ماڈرن لینگویجز کے ذمہ داران کی جانب سے تعاون پر اُ ن کا بھی خصوصی شکریہ ادا کیا۔

اپنے اِس قطعہ کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔

ادب، زبان و ثقافت ہیں زندگی کے نشاں
اِنہی کے دم سے ہے قائم سرودِ بزمِ جہاں
ہے دلفریب ہر اک کوچہء چمن اپنا
بہشت اور بہشتی مرے مکین و مکاں

آپ کی رائے

comments