پاک بھارت جامع مذکرات میں کرگل لداخ روڈ کے حوالے سے ضرور بات ہو گی ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد (فدا حسین ) دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارت ایک مرتبہ پھر مذکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھی جب مذکرات ہوئے تو کر کل لداخ روڈ کھولنے کے حوالے سے ضرور بات ہوگی ۔جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار نیوز بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت مذکرات سے انکاری ہے کیونکہ 2013سے بھارت نے مذاکرات بند کر رکھے ہیں۔ پاکستان نے 2015میں دوبارہ مذکرات شروع کرنے کی کوشش کی تھی اس سلسلے میں2015میں ہارٹ آف ایشاء کانفرنس کے وقت بھارت کی وزیر خارجہ سشما سورا ج کی پاکستان کے موقع پر پاک بھارت جامع مذکرات کا اعلان ہوا تھا۔ کرگل لداخ سمیت تمام بند راستوں کا کھولنا بھی اسی پاک بھارت جامع مذکرات کاحصہ ہے تاہم وہ مذکرات شروع ہونے سے پہلے پٹھان کوٹ کا واقعہ پیش آیا۔ بھارت نے اسی واقعے کو بنیاد بنا کر مذاکرات سے انکار کر دیا اور مستقبل میں جب بھی مذکرات ہوئے کرگل لداخ روڈ کھولنے کے حوالے سے ضرور بات ہو گی۔

انہوں نے مزید کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیاں موجود تمام مسائل کا واحد حل مذاکرات ہی ہے اس لئے بھارت کو مذکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے جس کا بھارت ابھی تک انکار کرتا آیا ہے ۔

انہوں نے گوادر میں چین کے فوجی تعیناتی کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ گوادر میں چائنا کی فوجی پوسٹ قائم کرنے کے بار ے میں کسی قسم کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے بلکہ اس طرح کی خبروں کا مقصد اقتصادری راہداری اور چین اور پاکستان کے درمیاں قائم تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے۔

سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہونے سے پہلے ترجمان نے اپنے اوپنگ ریمار کس میں فلسطنی سفیر کی ریلی میں شرکت کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے فلسطین کے مسئلے کی حمایت کرتا آیا ہے اورفلسطین کے سفیر اس سے پہلے بھی مسئلہ فلسطین سے متعلق ریلیوں میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان مخالف بیان پر پاکستان میں امریکہ کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجا ج ریکارڈ کرایا تھا ۔امریکہ کی طرف سے پاکستان میں کسی ممکنہ کاروائی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا “کہ زندہ قوموں پر اس طرح کے مواقع آتے رہتے ہیں” اس لئے پاکستان ہر طرح کے دباؤ کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہے ۔

آپ کی رائے

comments