گوہر آباد دیامر میں غیرقانونی تعمیرات مسمار

چلاس (قادر حسین سے) ضلع دیامر کی تحصیل چلاس کے نواحی گاوں گوہر آباد کینو داس کے قریب سنگ نالہ میں درائے سندھ کے ساتھ دیامر بھاشہ ڈیم کے ریزروائر حدود میں غیرقانونی طور پر کی گئیں تعمیرات کے خلاف ضلعی انتظامیہ نے جی بی سکاوٹس اور دیامر پولیس کی مدد سے سخت آپریشن کیا ،اور نئی تعمیر شدہ تمام مکانات کو بلڈوزر لگا کر مسمار کر دیا گیا۔ڈپٹی کمشنر دیامر دلدار ملک کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر چلاس بلال احمد نے پولیس اور جی بی سکاوٹس کی بھاری نفری کے ہمراہ کینو داس میں غیرقانونی طور پر تعمیر کئے گئے تمام مکانوں کو منہدم کیا اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظام کئے گئے تھے دیامر بھاشا ڈیم کے حدود میں غیرقانونی مکانات تعمیر کرنے کا مقصد اراضی اور تعمیرات کا معاوضہ حاصل کرنا تھا ضلعی انتظامیہ کی طرف سے دیامر بھاشہ ڈیم کے حدود میں ضلعی انتظامیہ لفٹ آور کے نام سے ادائیگی نہ ہونے والی زمینوں کے معاوضہ جات ادا کرنے والی ہے اسسٹنٹ کمشنر چلاس بلال احمد نے میڈیا کو بتایا کہ انتظامیہ کسی بھی صورت غیرقانونی طور پر تعمیرات کرنے والوں کو ادائیگی نہیں کرے گی اس آپریشن سے حکومت کو کروڑوں روپے کی بچت ہو گی ۔ ڈیم ایریا میں تعمیرات پر پابندی عائد ہے ۔ لوگوں نے راتوں رات معاوضوں کے حصول کیلئے تعمیرات کی تھیں جنہیں گرا دیا گیا ہے ۔ڈپٹی کمشنر دیامر نے آپریشن کی نگرانی کرتے ہوئے کہا کہ ڈیم ایریا میں کسی قسم کی تعمیرات قبول نہیں ہوگی رکاوٹ پیدا کرنے والے افراد کے خلاف باقاعدہ اے ٹی اے کا پرچہ کیا جائے گا ری سیٹلمنٹ کے سلسلے میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں ہوگی ہم علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے عوام کی وسیع تر مفاد میں سوچ رکھتے ہیں ۔ادھر گوہر آباد کے عوام نے انتظامیہ کی جانب سے اُٹھائے گئے اس اقدام کو ظلم و بربریت کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے سخت احتجاج کی دھمکی دی ہے اور کہا کہ انتظامیہ فوری طور پر ہمارے نقصانات کا ازالہ کرے ورنہ دما دم مست قلندر ہوگا ۔گوہر آباد کے لوگوں کا مزید کہنہ ہے کہ ہمارے مکانات کو مسمار کرکے پس پردہ کرپشن کرنے کیلئے ضلعی انتظامیہ راہ ہموار کررہی جیسے ہم ناکام بنائیں گے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments