غذر میں صرف سرکاری افسران اور کچھ من پسند افراد کو بجلی مل رہی ہے، عوام کی زندگی اجیرن

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

غذر (بیورو رپورٹ) غذر میں تاریخ کی طویل ترین لوڈ شیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی من پسند افراد اور سرکاری آفسیران کو سپیشل بجلی کی لائین اور عام صارفین کو بیس سے بائیس گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ نے عوام کو ذہینی مریض بنا دیا غذر میں اس سے قبل بجلی کی اتنی لوڈ شیڈنگ کبھی نہیں ہوئی تھی جو اس سال ہے حالانکہ 2017میں سہلی ہرنگ اور تھوتی پاور پراجیکٹ سے بجلی کی فراہمی کے باوجود اس سال تاریخ کا طویل ترین لوڈ شیڈنگ نے عوام کو پریشان کرکے رکھ دیا ہے اور جو بجلی آتی ہے اس کی وولٹیج بھی اتنی کم ہوتی ہے کہ بجلی کے ساتھ ساتھ عوام نے زمانہ قدیم کے لائٹین استعمال کرنا شروع کر دیا ہے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر گاہکوچ میں بجلی کی طویل ترین لوڈ شیڈنگ سے کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہوکر رہ گیا ہے اورفوٹو سٹیٹ اور موبائل شاپس کا کاروبار کرنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہیں دوسری طرف محکمہ برقیات نے اپنے من پسند افراد کو سپیشل بجلی کی لائینوں سے نوازا ہے اوربعض سرکاری آفسیران کو بھی سپشیل بجلی کی لائینیں فراہم کر دی گئی ہے جبکہ بتھریت پاور ہاوس کے ٹوٹ جانے والے پانی کے پائپ تین ہفتے گزرنے کے باوجود بھی مرمت ہوکر نہیں ن پہنچ سکے اور اس وقت بتھریت سے بجلی کی فراہمی نہ ہونے سے سب سے زیادہ بجلی کی لوڈشیڈنگ گاہکوچ اور پونیال میں ہوتی ہے عوام نے گندم کی پسائی کے لئے ایک بار پھر پن چکیوں کارخ کر دیا ہے گاہکوچ شہر میں کروڑوں روپے کی لاگت سے سٹرک کے کنارے فلک پوش قسم کے صرف بجلی کے پول لگتے نظر آتے ہیں مگر بجلی کئی نظر نہیں آتی ان بجلی کے پول لگنے سے گاہکوچ مین بازار کی سڑک مزید تنگ ہوگئی ہے اور اگر گلگت گاہکوچ سڑک کی تعمیر شروع ہوئی تو کروڑوں کی لاگت سے لگائے گئے یہ پول پھر سے اکھاڑنے پڑینگے غذر میں بجلی کی طویل ترین لوڈ شیڈنگ سے ہر شہری پریشان ہیں مگرزمہ داران مکمل طور پر خاموش ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments