گلگت بلتستان کا آئینی مسئلہ اور کچھ تلخ حقائق

رشید ارشد

اب تو بس کریں ،،،،ستر برس بہت ہوتے ہیں کسی قوم کی پستی کیلئے ،گلگت بلتستان کی قوم کو مذہبی اور سیاسی رہنماوں نے اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھا کر منزل سے دور کر دیا ،اب اور کتنے امتحاں لیں گے اس قوم کا ،بس بھی کریں ،

نہیں معلوم کتنے ہو چکے ہیں امتحاں اب تک
مگر تیرے وفاداروں کی ہمت ہے جواں اب تک

ستر برسوں سے ہمارے رہنماوں نے پوری قوم کو ایک ایسے راستے پر منزل کی آس میں چلایا کہ اس راستے کی انتہا تک نہیں ،بھول بھلیوں کے اس سفر میں قوم تھک چکی ہے ،اب قوم سے سچ بولا جائے تو بہتر ہے ،ستر برسوں سے گلگت بلتستان میں گلگت بلتستان کے آئینی مستقبل کے حوالے سے دو آوازیں ہی گونج رہی تھیں ،ایک طبقے نے آواز بلند کی کہ گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنایا جائے اور سٹیٹ سبجیکٹ رول بحال کیا جائے دوسرے طبقے نے آواز بلند کی کہ گلگت بلتستان کو کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیا جا ئے اور سٹیٹ سبجیکٹ رول نہ لگایا جائے ،یہ دونوں مطالبات سیاسی منطق اور دلیل سے خالی صرف ضد اور عناد پر مبنی تھے ،جو طبقہ کشمیر طرز سیٹ اپ کی رٹ لگا رہا تھا اس کی سوچ بھی مذہبی اور جو صوبے کی گرادان الاپ رہا تھا اس کی سوچ بھی مذہبی ۔۔۔،اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس طبقے نے کشمیر طرز کے سیٹ اپ کے ساتھ سٹیٹ سبجیکٹ کی مخالفت کی اس سے سوال کیا جائے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کشمیر طرز کا سیٹ اب ہو اور سٹیٹ سبجیکٹ رول نافذ نہ ہو کیونکہ کشمیر کی دو اکائیوں میں تو سٹیٹ سبجیکٹ رول پر سختی سے عمل ہو رہا ہے ،،،یہ مطالبہ دلیل اور منطق سے خالی ثابت ہو گیا ،اور جو طبقہ صوبے کی مالا جپتا تھا اس کا مطالبہ کہ صوبے کے ساتھ سٹیٹ سبجیکٹ بھی نافذ ہو تو اس سے سوال ہے کہ دنیا کا وہ کون سا قانون اور صوبہ ہے کہ ایک ملک کے صوبے میں دوسرے صوبے کے شہریوں کو زمین خریدنے پر سٹیٹ سبجیکٹ رول کے تحت پابندی ہو ،۔۔۔یہ دونوں مطالبات غیر منتقی اور دلیل سے خالی تھے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ستر برس تک ہماری قیادت نے قوم کی ہمدر دیاں حاصل کرنے کیلئے جھوٹ پر جھوٹ بولا ،کوئی ایک رہنما ایسا نہیں آیا جو قوم سے تلخ حقیقت کا بھر ملا اظہار کرتا کہ گلگت بلتستان صوبہ نہیں بن سکتا ہے ،اک بات یہ بھی ہے کہ شاید گلگت بلتستان کے عوام بھی یہ سچ سننا نہیں چاہتے کہ گلگت بلتستان تاتصفیہ کشمیر صوبہ نہیں بن سکتا ہے شاید یہ وہ خوف ہے جس کی بنا پر ہمارے رہنما بھی جھوٹی تسلیاں دیتے رہے ،اور قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے دوڑاتے رہے ،خیر یہ ماضی کی کھتا ہے ،اب بات آتی ہے کہ تا تصفیہ کشمیر گلگت بلتستان کو عبو ری آئینی صوبہ کیوں نہیں بنایا جاتا ہے ،تو جواب عرض ہے کہ پاکستان کے قانون کے مطابق صوبوں کی تشکیل کیلئے ایک پورا طریقہ کار وضح ہے ،اس کیلئے بہت ساری شرائط ہیں ان شرائط پر گلگت بلتستان اترتا نہیں ہے ،صوبے کیلئے آبادی بھی اسی طرح ہونی چاہئے اور وسا ئل کا ہونا بھی ضروری ہے ،عملی اقدامات کا وقت آتا ہے تو جذباتی نعروں سے کام نہیں چلتا ،اس وقت زمینی حقائق کے مطابق فیصلے ہوتے ہیں ،زمینی حقائق یہ ہیں کہ گلگت بلتستان چونکہ مسئلہ کشمیر کے ساتھ وابستہ ہے اس لئے تا تصفیہ کشمیر صوبہ نہیں بن سکتا ہے ،صوبہ بنایا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان نے ستر برسوں سے مسئلہ کشمیر پر جو موقف اپنایا ہے اس موقف میں دراڑ آتی ہے ۔لاکھوں شہدا کی قربانی کے بعد کیا مسئلہ کشمیر کو دفن کر دیا جائے ،ایسا نہیں ہوتا ہے،اگر ایسا ہو سکتا تھا تو وفاق کب کا گلگت بلتستان کو آئین پاکستان میں شامل کر چکا ہوتا ،گلگت بلتستان کی تازہ مردم شماری کے مطابق آبادی کم و بیش سولہ لاکھ کے ہے اس آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو قومی اسمبلی میں تین سیٹیں اور سینٹ میں تین نشستیں ملتی ہیں ،فرض کریں پاکستان اگر تمام تر مجبوریوں اور رکاوٹوں کے باوجود گلگت بلتستان کو صوبہ بنا دیتا ہے تو پھر جو صوبوں کے ساتھ سلوک ہوتا ہے وہی سلوک گلگت بلتستان کے ساتھ ہوگا ۔۔گلگت بلتستان سے گندم سبسڈی کا خاتمہ ہوگا ،ہر شعبے میں ٹیکس نافذ ہوگا ،،گلگت بلتستان کی آبادی اتنی نہیں کہ اس ٹیکس سے صوبے کا نظام چلے ،جبکہ آبادی کے لحاظ سے تقسیم میں زیادہ سے زیادہ گلگت بلتستان کے حصے میں دو سے تین ارب رقم آئے گی ،ٹیکسوں سے آمدن چار ارب سے زیادہ ممکن نہیں جبکہ وفاق اس وقت گلگت بلتستان کو پچپن ارب سے زیادہ رقم دیتا ہے ،ہمارے سیا ستدانوں نے قوم کو محنت کی طرف راغب کرنے اور خود کفیل بنانے کے بجائے سبسڈی کی گندم کا عادی بنا دیا ہے ،صوبہ بننے کی صورت میں گندم کی سبسڈی کا تو خاتمہ ہوگا ،جبکہ قوم گندم سبسڈی کے مسئلہ پر ایک قدم پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہیں ،خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا ،صو بہ بننے کی صورت میں یہ مزے نہیں ہوں گے جو ہم اب لے رہے ہیں ،پاکستان کے چاروں صوبوں کے عوام کے ہر فرد کے حصے میں قومی وسائل کی تقسیم کی رقم 36000ہزار آتی ہے جبکہ ہمیں جو رقم وفاق سے ملتی ہے اسے فی کس تقسیم کیا جائے تو 56000ہزار بنتی ہے ،چاروں صوبوں کو وفاق سے کوئی اضافی رقم نہیں ملتی ہے وہی رقم ملتی ہے جو آبادی کے لحاظ سے تقسیم میں اس کے حصے میں آتی ہے جبکہ گلگت بلتستان کا پورا بجٹ وفاق دیتا ہے ،ابھی حالیہ ٹیکس تحریک کو ہی دیکھ لیں کہ کچھ سیاسی مفاد پرستوں اور سیاسی یتیموں نے صرف اپنے سیاسی مفاد کیلئے عوام کو گمراہ کیا اور آسمان ایسے سر پر اٹھا لیا کہ جیسے کوئی بہت بڑی رقم عوام سے وصول ہوتی ہو ،تمام تر ٹیکسوں کی رقم پونے دو ارب بنتی ہے جبکہ وفاق پچپن ارب روپے دیتا ہے ،اس وقت گلگت بلتستان میں جاری میگا منصوبوں کیلئے پی ایس ڈی پی کے تحت 105ارب دے رہا ہے ،بالفرض گلگت بلتستان کو صوبہ بنا دیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں چھہ سیاستدانوں کا روزگار تو لگ سکتا ہے لیکن عوام کا اس میں کوئی معاشی مفاد ہر گز نہیں ،عوام پر تو ٹیکسوں کا بوجھ بھی پڑے گا اور گندم سبسڈی سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ وفاق سے ملنے والی بھاری گرانٹ سے بھی محروم ہوں گے،گلگت بلتستان میں ترقیاتی کاموں کی جو رفتار اب ہے وہ بھی نہیں ہوگی ،ان تمام زمینی حقائق کے باوجود بھی اگر فیصلہ کیا جائے کہ مسئلہ کشمیر کو سرد خانے کی نذر کر کے گلگت بلتستان کو آئین پاکستان میں شامل کرنا ہے تو اس صورت میں ہماری آبادی اور مختلف معیار وہ نہیں کہ صوبہ کے قانون کو فالو کر سکیں اس صورت میں یہ ممکن ہے کہ ہمیں کہا جائے کہ کوہستان ،چترال اور گلگت بلتستان کو ملا کر صوبہ بناتے ہیں یا ہزارہ کے ساتھ ملا کر صوبہ بناتے ہیں تو اس صورت میں کیا ہمارے لوگ اس فیصلے کو قبول کریں گے ،،،یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب ہمارے سیاستدانوں اور بالخصوص جذباتی نعروں سے قوم کو گمراہ کرنے والوں کے پاس ہونے چاہئے ،،جذباتی نعروں سے نکل کر زرا سوچیں تو ہمیں نظر آئے گا کہ ہمارا مقدمہ جذبات پر مبنی تو ہے لیکن زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتا ہے ۔فاٹا کی آبادی اسی لاکھ کے قریب ہے اور کوئی آئینی مشکل بھی نہیں اس کے باوجود صوبہ نہیں بن سکا ہے تو گلگت بلتستان کی کم و بیش سولہ لاکھ کی آبادی پر صوبہ کیسے بن سکتا ہے ،اب تجزیہ کرتے ہیں موجودہ سیٹ اپ کا،،کہنے کو تو اب بھی گلگت بلتستان صوبہ ہے صرف آئینی تحفظ حاصل نہیں ہے اور کچھ اختیارات جو صوبے کی منتخب حکومت کے پا س ہونے چاہئے وہ جی بی کونسل کی وساطت سے وفاق کے پاس ہیں ،اگر وفاق سے اختیارات گلگت بلتستان کو ملیں اور موجودہ سیٹ اپ کو آئینی تحفظ حاصل ہو تو ملک کے چاروں صوبوں سے زیادہ سہولیات گلگت بلتستان کو ملتی ہیں ،قومی مالیاتی اداروں میں نمائندگی بھی ملے گی اور وفاق جیسے پہلے گلگت بلتستان کو پورا بجٹ مہیا کرتا ہے ایسے ہی کرتا رہے گا ،گندم میں سبسڈی بھی برقرار ہوگی ،صوبائی حکومت مکمل با اختیار ہوگی ،جیسے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی اور صوبائی حکومت کے اختیارات ہوتے ہیں وہی اختیارات گلگت بلتستان اسمبلی کو بھی حاصل ہوں گے ،سرتاج عزیز کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی سفارشات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور اب قانونی ڈرافٹ کی تیاری کے مرحلے میں ہے اس کے بعد یہ ڈرافٹ کابینہ میں منظوری کیلئے پیش ہوگا کابینہ سے منظوری کے بعد اسمبلی ایکٹ کے طور پر اسمبلی میں جائے گا جہاں سے منظوری کے بعد اس کو مکمل قانونی تحفظ حاصل ہوگا ۔سرتاج عزیز کی سربراہی میں بننے والی آئینی اصلاحاتی کمیٹی نے تمام سٹیک ہولڈر سے طویل مشاورت کے بعد سفارشات تمام تر قانونی اور سفارتی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب کیں ہیں ،آخری ڈرافٹ اس قدر گلگت بلتستان کے عوام کے لئے فائدہ مند ہے کہ زرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کی قیادت نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کیلئے بھی اسی طرح کا سیٹ اپ دیا جائے جو گلگت بلتستان کو دیا جا رہا ہے ،اس سے اندازہ کر سکتے ہیں جو ڈرافٹ تیار ہوا ہے وہ کس قدر موثر ہے ،اس مرحلے پر ہمیں جذباتی نعروں کے سحر میں مبتلا ہونے کے بجائے اپنے سیاسی اور معاشی مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے قدم بڑھانے ہوں گے ،وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن گلگت بلتستان کے وہ رہنما ہیں جو اپنے سیاسی مفاد کیلئے قوم کو غلط راستے پر چلانے کے قائل نہیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی سیاست نہیں قوم کا مستقبل عزیز ہے،وزیر اعلی گلگت بلتستان اور مسلم لیگ کی قیادت نے گلگت بلتستان کو عوام کی خواہش کے مطابق اختیارات دینے کیلئے طویل جدو جہد کی ہے امید ہے کہ یہ قربانیاں اور جدو جہد رنگ لائے گی اور گلگت بلتستان کے عوام کو مسلم لیگ ن کی حکومت ایک اچھا آئینی نظام دے گی ،انشا اللہ

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments