دینی مدارس سمیت تعلیمی اداروں میں تنقیدی فکر نہ پڑھائے جانے کی وجہ سے منجمد اذہان پیدا ہورہے ہیں، سروے رپورٹ

اسلام آباد(احسان مچلو) پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے زیر اہتمام قومی سطح پر ہونے والی مدرسہ سروے کی رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔ اس رپورٹ کی تقریب رونمائی اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایازتھے جبکہ مقررین میں صاحبزادہ امانت رسول، حارث خلیق، ڈاکٹر خالد مسعود، خورشید ندیم،سبوخ سید،مجتبی راٹھور اور محمد یونس شامل تھے۔

یہ سروے ملک بھر کے 44 مدارس میں کیا گیا، اس میں 135 طلبہ  اور 89 اساتذہ کے انٹرویوز کیے گئے۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں موجود مدارس کے طلبہ کو تاریخ کا مضمون پڑھانے کی شدید ضرورت ہے۔ تاریخ پڑھانے سے متنوع تاریخی تشریحات ان کے سامنے آئیں گیں جس سے طلبہ کی دلچسپی میں اضافہ بھی ہوگا۔ اس رپورٹ کے مطابق مدارس کے طلبہ کو فکری تربیت کی ضرورت ہے۔ اس رپورٹ کا یہ کہنا ہے کہ مدارس کے طلبہ کو معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کے لیے ریاستی اقدامات کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق مدارس کے طلبہ کی سوچ میں فرقہ وارانہ عنصرموجود ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ وہاں پڑھائے جانے والے مضامین کو تمام مکاتب فکر کے لوگ اپنے اپنے پیرائے اور اپنی سوچ کے مطابق پڑھاتے ہیں۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دینی مدارس سمیت تعلیمی اداروں میں تنقیدی فکر نہ پڑھائے جانے کی وجہ سے منجمد اذہان پیدا ہورہے ہیں، اس لیے ضرورت ہے کہ مدارس اور دیگر تعلیمی اداروں میں تنقیدی فکر کو لازمی پڑھایا جائے۔

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے مدرسہ سروے کی رپورٹ کو سراہتے ہوئے اس کے نتائج سے مکمل اتفاق کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مدرسہ سٹڈیز کے عنوان سے ملک بھر کی عصری جامعات میں ادارے کھولے جانے چاہیے تاکہ مدرسہ کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments