آغا خان ایجو کیشن سروس کے سکولز نہیں ہوتے تو یاسین میں بچیوں کی تعلیم صفر فیصد ہوتی، راجہ جہانزیب

آغا خان ایجو کیشن سروس کے سکولز نہیں ہوتے تو یاسین میں بچیوں کی تعلیم صفر فیصد ہوتی، راجہ جہانزیب

44 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

یاسین (معراج علی عباسی ) ہائی سکول یاسین خاص میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ممبرقانون ساز اسمبلی راجہ جہانذیب نے کہا کہ تحصیل یاسین میں گرلز سکول نہ ہونے کے برابر ہے اگرآغاخان نیٹ ورک کے سکول نہ ہوتے تو یاسین میں بچیوں کی تعلیم ایک فی صد بھی نہ ہوتا ۔میرئے پاس بہت ہی قلیل بجٹ ہے سکولوں کی تعمیرکے لیے ہیوی رقم درکار ہوتا محکمہ ایجوکیشن کے ساتھ مل کرمحکمانہ فنڈکے زریعے یاسین میں لڑکیوں کے لیے ہائی سکول بنانے کی کوشش میں ہوں ۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک آنے کے بعد وفاقی حکومت گلگت بلتستان کی تعمیروترقی کے لیے بہت سنجیدہ ہے ۔اگرگلگت بلتستان میں ترقی نہیں ہوئی تو سی پیک کو انجام تک پہنچانے میں مسائل درپیش ہوسکتے ہے۔اس لیے گلگت بلتستان کی تعمیرو ترقی نہ صرف حکومت پاکستان بلکہ چینی حکومت کی بھی اولین ترجہات میں شامل ہے ۔سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گلگت بلتستان کو ترقی کے اعتبار سے کم ازکم کاشغرکے برابر لانے کا اعلان کیا ہے پاک آرمی کے اعلانات سو فی صد سچ ہوتے ہے ۔انہوں نے کہا کہ غذر کے گورنمنٹ سکولوں میں بہت تبدیلی آئی ہے انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کاش میراکو چھوٹا بیٹا ہوتا تو اسے کسی پرائیویٹ سکول کے بجائے ہائی سکول یاسین میں داخل کرتا۔

تقریب سے اپنے خطاب میں سابق ممبرقانون ساز اسمبلی و سینئرنایب صدر مسلم لیک ن گلگت بلتستان غلام محمد نے کہا محکمہ ایجوکیشن گلگت بلتستان ایک باوقار ادارہ ہے اس ادائے کی عزت و منزلت ہمارئے دلوں میں ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں اپنے دور اقتدار میں یاسین کے اندار 5گرلزمیڈل سکولز،3گرلزپرایمری سکولوں کے ساتھ انٹرکالج فار بوائزایاسین ایندانٹرکالج فارگرلز یاسین منظورکرویا۔میڈل سکول یاسین خاص اور لالک جان میڈل سکول ہندور کو اپ گریڈ کرکے ہائی سکول کا رجہ دلویا۔انہوں نے کہا کہ سیکنڈی لیول تک تعلیم حکومت کی زمداری ہے اور ہربچے کا حق ہے گلگت بلتستان کے صوبائی حکومت نے سیکنڈی ایجوکین عام کرنے کے لیے مناسب اقدمات کیا ہے ۔اپ ہماری زمدری ہے کہ سکولوں سے باہر بچوں کو ہرصورت سکول تک لانے میں اپنا کردار ادا کرئے ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے محکمہ ایجوکیشن گلگت بلتستان کوتمام تر وسائل فراہک کیا ہے ۔سکولوں میں ضرورت کے مطابق اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ اور دیگرضروری سامان دستیاب ہے اپ گورنمنٹ سکولوں کے معیار اے کے ای ایس کے برابر ہونا چاہے۔

تقریب سے اپنے خطاب میں ڈی ڈی ای غذر نقب اللہ خان نے کہا کہ تحصیل یاسین میں زیرتعلیم طلباء میں طالبات کی تعداد زیادہ ہے یاسین میں گرلزہائی سکول نہ ہونے کی وجہ سے ہم لڑکیوں کو بھی بچوں کے ساتھ رکھ کر کوایجوکیشن دینے پر مجبور ہے ۔انہوں نے ممبرقانون ساز اسمبلی راجہ جہانذیب اور محکمہ ایجوکیشن گلگت بلتستان کے اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میڈل سکول فارگرلزطاوس کے احاطے میں موجود گورنمنٹ ہائرسیکنڈی سکول فار گرلز کو ہائی سکول گرلزکا درجہ دیکرمیٹرک تک کلاس چلانے کی اجازت دیا جائے تاکہ یاسین کے مختلف بوائزسکولوں میں زیرتعلیم طالبات کے لیے وصول تعلیم میں درپیش مسائل کو حل ہوکیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔