تحریک عدم اعتماد کا شوشہ

تحریر: محمدقاسم

وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی بازگشت ایک دفعہ پھر زور پکڑ چکی ہے۔اس سے قبل گورنر گلگت بلتستان میر غظنفر کی نشست خالی ہونے کے بعد میر کے فرزند پرنس سلیم کی جیت کے بعد عدم اعتماد کا زور شدت اختیار کیا گیا مگر ایک طویل خاموشی کے بعد نگر سے پی پی پی کے منتخب رکن اسمبلی نے 20 اراکین اسمبلی کی حمایت کا دعوی کر کے خاموش سمندر میں پتھر پھینک دیا ہے۔

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا اعوان کل 33 اراکین پر مشتمل ہے۔ جن میں 24جنرل انتخابات کے زریعے 6 خواتین کی مخصوص نشت اور 3 ٹیکنوکریٹس ممبران ہیں۔ جن میں پاکستان مسلم لیگ ن کے22 اراکین۔ اسلامی تحریک 3 ۔وحدت المسلمیں 3۔ پاکستان پیپلزپارٹی 2۔ جبکہ جمعیت علماء اسلام ۔تحریک انصاف اور بلاورستان نشنل فرنٹ کی ایک ایک نشت ہے۔ جب کہ ڈویزن سطح پہ دیکھا جائے تو بلتستان ڈویزن سے 13 گلگت ڈویزن سے 13اور دیامر ڈویزن میں 7 قانون ساز اسمبلی کے ممبران ہیں۔ سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو ملک کےتمام سیاسی پارٹیوں کے ٹکٹ ہولڈر گلگت بلتستان کے عام انتخابات میں حصہ لیتے ہیں تاہم خطے کی سیاسی تاریخ پہ نظر ڈالی جائے تو وفاق میں جس کی حکومت ہو گلگت بلتستان کی شاہی کرسی بھی اسی پارٹی کی قدم بوسی کرنے پہ مجبور ہوجاتی ہے۔وفاقی حکومت کا ایک نمائندہ خصوصی یہاں کے عام انتخابات میں براہ راست عمل دخل کرکے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے میں کامیاب رہتا ہے۔اور عین اظہار راے کے دن بلٹ بکس پہ غیبی مدد کا عنصر زیادہ شامل ہوتا ہے اور عوامی فیصلے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں

وفاق میں جب مسلم لیگ ق کی حکومت تھی اور پرویز مشرف کی طوطی سر چڑھ کے بولتا تھا تو گلگت بلتستان کے عام انتخابات میں مشاہد حسین سید نے گلگت میں ڈیرے ڈال کر فتح و کامیابی کے جھنڈے گاڑھے۔اور میر غضنفر علی خان کو بحیثیت ڈپٹی چیف ایگزیکٹو گلگت بلتستان منتخب کیا گیا۔ مسلم لیگ ق کے بعد جب مرکز پی پی پی کی حکومت آئی تو پی پی پی کی حکومت نے ایک صدارتی آرڈنینس کے ذرئعے اصلاحاتی پیکیج برائے گلگت بلتستان کے وجود کو عمل میں لایا۔اور وقت کے امورکشمیر و گلگت بلتستان قمر زمان کائرہ کو گلگت کا پہلا گورنر تعنیات کر دیا گیا قمر زمان کائرہ گلگت بلتستان کے عام انتخابات میں کھل کر اثر انداز ہوئے یوں اکثریت سے پی پی پی کی حکومت بنانے میں کامیاب رہے اور سید مہدی شاہ کا نام خطے کے پہلے وزیر اعلی کے طور پر تاریخ کا حصہ بن گیا۔

اور جب وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت آئی تو سیاسی پرندوں نےمسلم لیگ کی چھتری تلے جمع ہونے میں اپنی عافیت سمجھی۔اور وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان اپنے لاو لشکر کے ساتھ گلگت میں قیام پذیر ہوگئے اور مسلم لیگ کی کامیابی کے لئے دن رات کوشاں رہے اور عام انتخابات میں اکثریتی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے یوں گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے 24 میں 16 نشستیں مسلم لیگ اپنے نام کرنے کا سہرا سر پہ سجا لیا۔

۔ گلگت بلتستان کے معصوم عوام کو مذہبی اور سیاسی قیادت نے ہمیشہ اپنی ذاتی انا اور ذاتی مقاصد کےلئے خوب استعمال کیا۔اور خطے کے عوام میں دوریوں کا سبب بھی یہی دو طبقے ہیں۔یہ دو طبقےاپنی ذاتی شہرت کے لئے سادہ لوح عوام کے جذبات کو ابھارنا اور عوام کی طاقت کو اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرنا ان کے عادات قبیحہ کے جز لاینفک بن چکے ہیں ۔

سابق وزیر اعلی گلگت بلتستان سید مہدی شاہ ایک اچھے اور سادہ طبعیت کے مالک تھے۔مذہبی انتہا پسندی سے کوسوں دور ہیں۔مگر دیامر کے چند مذہبی اور سیاسی لوگوں نے عوام میں مسلکی تعصب کی فضا بنا کر عوامی جذبات کو ابھارا۔اور پی پی پی کی اصلاحاتی پیکیج کو قاتل پیکیج کا نام دیکراحتجاجی مظاہرے کرائے اور سادہ لوح عوام کا ایک جم غفیر ان کے ہاں میں ہاں ملاتا رہا اور عوامی جذبات کو کھلواڑ کرتے رہے اور بعد ازاں اسی قاتل پیکیج کے تحت انتخابات میں حصہ لینے میں ذرا سی بھی شرم محسوس نہیں کی۔

گلگت بلتستان کے عوام کو جوش کی بجائے ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔آخر ہم کب تک ان مذہبی اور سیاسی ٹھیکداروں کے ہاتھوں مداری کا بندر بنتے رہینگے۔اور ان کے ذاتی مقاصد کے لئے کب تک ہم استعمال ہوتے رہینگے۔

موجودہ صوبائی حکومت ایک اچھے سمت کی طرف جارہی ہے گلگت اور بلتستان ڈویزن میں ریکارڈر تعمیراتی کام ہوئے ہیں یہ الگ بات کہ دیامر ڈویزن میں کچھ کام نہیں ہوا ہے۔۔سکردو روڈ یہاں کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ ہر وقت کے حکمران کا وعدہ رہا مگر عملی جامہ پہنانے کا شرف مسلم لیگ کو ہوا۔۔

اگر پاکستان پیپلزپارٹی کے دو ممبران اسمبلی مسلم لیگ کے 24 ممبران میں سے وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن پہ تحریک عدم اعتماد لانے کے لئے متحدہ اپوزیشن کے 11 ارکان ایک پیج پہ متحد ہو بھی جائے تب بھی مزید 7 لیگی ممبران کی حمایت کی ضرورت پڑے گی ۔اگر متحدہ اپوزیشن ایک صف میں نہ ہوں تو مزید لیگی ممبران عدم اعتماد تحریک کے لئے درکار ہونگے

وزیر اعلی گلگت بلتستان پہ تحریک عدم اعتماد کا راگ الاپنے والوں کے پاس نیا وزیر اعلی کے طور پہ کونسا نام سامنا لا رہے ہو۔یہ سوال بھی اپنی جگہ کافی پیچیدہ ہے۔کیونکہ پاکستان پیپلز اور تحریک اسلامی میں بلی چوہے کا کھیل ایک عرصے سے جاری ہے۔ اور وحدت المسلمیں کے لئے بھی اقتدار کی راہ فراہم ہوتا دیکھائی نہیں دیتا۔ مجھے تو نہیں لگتا دیامر سے کوئی لیگی ممبر اسمبلی بغاوت کرے۔دیامر کے لوگوں میں ایک اچھائی یہ ہے کی جس کے ساتھ دوستی کرتے ہیں تو بھی کھل کے کرتے ہیں اور اگر کوئی ناپسند ہو تو بھی کھل کے اظہار کیا کرتے ہیں ۔ بغل میں چھری منہ میں رام رام والی قصے کہانیاں سے بلکل نا بلد ہیں یہ ناممکن ہے کہ دیامر کے ممبران اسمبلی حافظ حفیظ الرحمن کے ساتھ بےوفائی کرے۔ سابق اپوزیشن لیڈر حاجی شاہ بیگ کے ساتھ متحدہ اپوزیشن نے تحریری معاہدوں کی دھجیاں اڑائے اور اپنے کیئے معاہدے کو توڑ کے وعدہ خلافی کے مرتکب ہونے پر دیامر کے اہم رکن اسمبلی بھی متحدہ اپوزیشن سے نالاں ہیں۔

مسلم لیگ بلتستاں کے رہنما فدا محمد ناشاد مرکزی قیادت کے فیصلے کو نظرانداز کر کے کبھی بھی شاد نہں رہنگے۔ ابراہیم ثنائی۔اکبر تابان۔اور ڈاکٹر اقبال بھی کھل کے سامنے آ کے مخالفت کر کے کسی کی حمایت حاصل کرنے میں مصلحت کا شکار ہیں۔آخر وہ کون مرد قلندر ہوگا جو آگ پانی اور سانپ ملا کر اقتدار کی کرسی پہ براہ جمان ہوگا۔

میرے خیال میں وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کے خلاف تحریک عدم اعتماد کسی کی سوچ تو ہوسکتی ہے مگر منطقی انجام تک پہچانے میں بہت ساری دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔نیز خطے کے حالات بھی اتنے بڑے فیصلے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments