نئے مالی سال کا تاریخی بجٹ ، حکومت کے لئے امتحان بھی 

گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 63ارب کی خطیر رقم کا بجٹ آئندہ مالی سال 2018-19کے لئے تجویز کیا گیا ہے ۔ آمدہ مالی بجٹ اپنی بھاری رقم کے علاوہ اس حوالے سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ بجٹ نئے انتظامی آرڈر گلگت بلتستان آرڈر 2018کے زیر انتظام پیش کیا جائیگا۔ جس میں گلگت بلتستان کو دیگر صوبوں کو برابر لانے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ اب یہ صوبائی حکومت گلگت بلتستان کا امتحان ہے کہ وہ اس بجٹ کو کامیاب کرنے اور اس بجٹ کو عوامی مفاد میں کس طریقے سے خرچ کرتی ہے ۔ مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت کو یہ اعزا ز بھی حاصل ہوا ہے کہ گزشتہ دو سالوں سے مسلسل 100فیصد بجٹ خرچ کررہی ہے جو کہ ماضی کے حکومت کے مقابلے میں کارنامہ کے برابر ہے ۔ گورننس آرڈر 2009کے تحت بننے والی حکومت کے پاس نہ صرف بجٹ انتہائی محدود تھا بلکہ بجٹ میں سے بھاری رقم واپس وفاق کے خزانے میں جمع ہونا بھی معمول ہوکررہ گیا تھا ۔وفاق کے خزانے میں واپس چلی جانے والے ترقیاتی بجٹ کو روکنے کے لئے مسلم لیگ ن نے پہلی فرصت میں گلگت بلتستان کے لئے کنسولڈیٹڈ اکاؤنٹ قائم کردیا جس کے بعد استعمال نہ ہونے والی رقم کو اس اکاؤنٹ میں منتقل کردیا گیا اور اسے آمدہ بجٹ میں شامل کرتے گئے ۔اور ترقیاتی منصوبوں پر حکومت نے بھرپور توجہ دی ۔یوں گزشتہ کئی سالوں سے نامکمل منصوبوں کو بھی مکمل کرکے ان منصوبوں پر مسلم لیگ ن کی تختی چڑھادی گئی ۔ اور کئی نئے منصوبوں کو بھی مکمل کرکے عوامی مسائل و مشکلات میں نمایاں کمی کردی گئی ۔

آئندہ مالی سال 2018-19کے بجٹ کے حوالے سے گزشتہ روز صوبائی حکومت نے پری بجٹ سیمینار کا انعقاد کیا ۔ جس میں نہ صرف بجٹ کے نمایاں خدوخال سامنے لائے گئے بلکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے اس حوالے سے آراء بھی لی گئی ۔ آمدہ بجٹ میں پہلی مرتبہ گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں غربت کی شرح معلوم کرنے کے لئے اقدامات کئے گئے جس کے مطابق ضلع دیامر میں غربت کی شرح سب سے زیادہ اور ضلع ہنزہ میں سب سے کم غربت کی شرح سامنے آگئی ہے ۔ گلگت بلتستان کا آمدہ بجٹ میں 31 ارب سے زائد رقم غیر ترقیاتی مد میں جبکہ 17ارب سے زائد رقم ترقیاتی بجٹ میں شامل ہے ۔ وفاقی پی ایس ڈی پی کے منصوبوں میں گلگت بلتستان کے لئے 8ارب سے زائد کے منصوبے موجود ہیں جبکہ گندم سبسڈی کے پونے 8ارب روپے الگ ہیں۔آمدہ بجٹ میں محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت پر توجہ دی گئی ہے ۔ توانائی کے ضروریات پوری کرنے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کو کم کرنے کے لئے برقیات کے بجٹ میں 51فیصد اضافہ کردیا گیا ہے ۔ محکمہ برقیات کے 7میگا منصوبے آمدہ بجٹ میں شامل ہیں۔ محکمہ تعمیرات کے بجٹ میں 55فیصد اضافہ کردیا گیا ہے تاکہ ترقیاتی کاموں میں کسی قسم کی رکاوٹ سامنے نہیں آسکے ۔ سوشل سیکٹر میں 21فیصد اضافہ کردیا گیا ہے ۔

گلگت بلتستان آرڈر2018 کی وجہ سے آمدہ بجٹ میں پی ایس ڈی پی کے منصوبوں کے رفتار میں تیزی بھی متوقع ہے کیونکہ اس سے قبل پی ایس ڈی پی کے منصوبوں کا پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر وزارت امور کشمیر کے سیکریٹری ہوا کرتے تھے جبکہ نئے آرڈر میں پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر کے زمہ داریاں گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹری کو تفویض کردئے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آزاد کشمیر سمیت دیگر صوبوں میں تمام پی ایس ڈی پی منصوبوں کا نگران متعلقہ وفاقی سیکریٹری ہی ہوتا ہے تاہم گلگت بلتستان میں چیف سیکریٹری کو مقرر کردیا ہے تاکہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر نہ ہو ۔گزشتہ تین سالوں سے وفاقی پی ایس ڈی پی کا کوئی بھی منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا ہے جن میں ہینزل پاور پراجیکٹ سمیت دیگر اہم منصوبے بھی شامل ہیں۔

مسلم لیگ ن کی صوبائی حکومت کے لئے یہ بجٹ اور آئندہ مالی سال اس لئے بھی کسی امتحان سے کم نہیں ہے کہ گزشتہ تین سالوں تک وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان کی حکومت دوستانہ تعلقات کی بنیاد پر چلتی رہی اور انہیں کہیں پر بھی کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئی ۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ کے پیش کرنے سے قبل ہی وفاق میں نگران حکومت نے زمہ داریاں سنبھال لی ہے اور ممکنہ طور پر 25جولائی پر مسلم لیگ ن کے علاوہ کوئی اور جماعت اقتدار میں آئے گی کیونکہ بتایا گیا ہے کہ یہ ’تبدیلی ‘ کا سال ہے ۔ پیپلزپارٹی کے گزشتہ دور حکومت میں وفاق اور صوبے میں الگ الگ پارٹیوں کی حکومت کا تجربہ یہی رہا ہے کہ مقامی حکومت کے پاس احتجاج کا راستہ سامنے آجاتا ہے اور ترقیاتی سمیت دیگر انتظامی امور میں صوبائی حکومت کو طرح طرح کے مسائل پیش ہوتے ہیں اور رکاوٹیں کھڑی ہوتے ہیں ۔ اب مسلم لیگ ن کے پاس وفاق میں اپنی حکومت نہیں ہے اور وفاق کے سایہ کے بغیر ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے لہٰذا ایک بڑا امتحان بھی یہاں سے شروع ہوتا ہے ۔ اس امتحان میں صوبائی حکومت کس حد تک کامیاب ہوتی ہے یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم حکومت کو منظم انداز اور طریقہ اپنانے کی ضرورت ہے کیونکہ گزشتہ تین سالوں میں ترقیاتی کاموں میں سامنے آنے والی شکایات کو صرف ردی ٹوکری کی نذر کردیا گیا اور کسی بھی موقع پر کسی منصوبے پر کوئی وضاحت نہیں لی گئی ۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ اتنی غیر زمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا جائے ورنہ ایک منصوبے کی شکایت کئی منصوبوں میں رکاوٹ کا سبب بن سکتی ہے ۔ ترقیاتی منصوبوں میں شکایات کی ایک مثال ہنزہ نگر میں ہونے والے ٹینڈرز کی چیف کورٹ سے کالعدم قرار دئے جانے کو ہی دیکھا جاسکتا ہے ۔

گلگت بلتستان میں متحدہ اپوزیشن کی کوشش رہی ہے کہ حکومت کے اقدامات پر رکاوٹیں کھڑی کی جائیں اور رکاوٹیں کھڑی کرنے میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہوگئے ۔ جس کی جھلک وزیراعظم کے دورہ گلگت بلتستان کے موقع پر دیکھی بھی گئی اور مشاہدہ بھی کیا گیا ۔ اسی طرح پری بجٹ سیمینار کو بھی اپوزیشن نے رد کردیا تاہم بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کی تجویز کو رد کرتے ہوئے اپوزیشن نے بھرپور شرکت کرنے کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی سابقہ ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے سوال اٹھایا ہے کہ بجٹ اپنے رشتہ داروں اور مخصوص ٹھیکیداروں تک محدود نہ کیا جائے ۔ گلگت بلتستان کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں میں بجٹ نام کا کوئی چیز وجود نہیں رکھتا ہے ۔ اگر لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ترقیاتی کام کررہے ہیں تو وہ چل رہے ہیں ورنہ دورافتادہ علاقے پتھر کی زندگی گزاررہے ہیں ۔ جہاں پر سہولیات نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ وزیراعلیٰ گلگت شہر کے علاوہ دیہی علاقوں پر بھی توجہ دیں۔ بہر حال اپوزیشن نے بجٹ اجلاس میں شرکت کی حامی بھرلی ہے اور یقیناًمجبوری بھی ہے ۔ اب بجٹ پیش ہونے کے بعد معلوم پڑے گا کہ بجٹ کو کس زاویہ اور کس محور کے گرد بنایا گیا ہے کیونکہ بجٹ کو ضروریات کی بنیاد پر بنانے کی ضرورت ہے جس کا اعلان وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور چیف سیکریٹری نے پری بجٹ سیمینار میں بھی کردیا تھا۔ نئے آرڈر کے ساتھ نیا تاریخی بجٹ سیاست یا اقرباء پروری کی نذر نہیں ہونا چاہئے ۔ فلاحی کاموں پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے سوشل سیکٹر کی کارکردگی بالکل صفر ہے اب تک کوئی ایسا قابل زکر منصوبہ سامنے نہیں لایا گیا ہے ۔ تعلیم کے میدان میں بھی اعلیٰ تعلیم کے دروازے اب تک نہیں کھلے ہیں۔ صحت کارڈز کا گیم بھی صرف من پسند افراد تک محدود ہے اس روش کو ترک کرنے کی ضرورت ہے ۔اور سب سے بڑھ کر ماحولیاتی آلودگی کے سدباب کے لئے پائیدار اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments