چینی جیلوں سے پاکستانی قیدیوں کو واپس لایا جائے، اہلِ خانہ کا اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ

اسلام اباد (بیورو رپورٹ)حکومت پاکستان فوری طور پر چائینہ میں قید یوں کو فوری طور پر واپس لائے اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر عمل درامد کو یقینی بنائے۔چین میں کوئی انسانی حقوق نہیں ہے ۔چین میں قید یوں کو نماز پڑھنے پر بھی پابندی ہے۔یہ بات نیشنل پریس کلب کے باہر چین میں قید پاکستانیوں کے اہل خانہ نے احتجاج کرتے ہوئے کہا انھوں نے کہا کہ چین میں پاکستانی قیدیوں کے ساتھ حیوانوں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے۔اس موقع پر چین سے رہائی پاکر انے والے پشاور سے تعلق رکھنے والے مستان خان سہیل کریم اور پیار علی نے کہا کہ جس طرح سے قیدیوں پر ظلم کیا جاتا ہے وہ بیان نہیں کرسکتے ہیں۔ہمیں انسانوں جیسا سلوک نہں کیا جاتا ہے جبکہ پاکستانیوں پر بدترین تشدد روز کا معمول ہے انھوں نے کہا کہ ایران تاجکستان اور افغانستان اپنے قیدیوں کو واپس لے کر جا رہے ہیں مگر دفتر خارجہ پاکستانی قیدیوں کے بارے میں پوچھتی تک نہیں ہے۔

قیدیوں کے اہل خانہ قدیر احمد راحیل احمد اور زبیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر عمل درامد کو یقینی بنائے. چین میں قید پاکستانی جو کہ عرصہ دراز سے چین کے مختلف جیلوں میں مختلف الزامات میں قید و بند کے صعوبتیں برداشت کررہے ہیں جن میں تقریبا 450سے زائد پاکستانی موجود ہے اور جن میں 16خواتین بھی شامل ہے عرصہ دراز سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔اور ان قیدیوں کے اہل خانہ پاکستان میں کسمپرسی اور لاچاری کی زندگی گزار رہے ہیں چونکہ وہ چائینہ میں جاکر اپنے پیاروں کے کیس کی مدعیت نہیں کرسکتے ہیں ۔یاد رہے کہ چائینہ میں انسانی حقوق نہ ہونے کی وجہ سے قیدیوں کے ساتھ بدترین سلوک کیا جارہا ہے۔اور جیل میں قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جارہا ہے اور اسلامی طریقہ کار کے مطابق رہنے نہیں دیا جا رہا ہیں بدترین تشدد کی وجہ سے ابھی تک 3پاکستانی قیدیوں ہلاک ہوچکے ہیں۔قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے حکومت پاکستان اور حکومت چائینہ کے مابین 2007میں ایک معاہدہ بھی طے پا چکا ہے لیکن تاہم اس پر عمل درامد نہیں ہو پارہا ہے۔لہذا ہم قیدیوں کے اہل خانہ وزیر اعظم پاکستان صدر پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر قیدیوں کے حوالے سے کئے گئے معاہدے پر عمل درامد کروائے اور قیدیوں کو پاکستان منتقل کیا جائے تاکہ وہ باقی سزا اپنے ہی ملک میں کاٹے۔گزشتہ کئی برسوں سے اس حوالے سے ہم دفتر خارجہ اور داخلہ میں کئی درخواستیں دینے کے باوجود ابھی تک اس پر پیش رفت نہیں کیا جارہا ہے ہم حکومت پاکستان اور حکومت چائینہ کے اعلی حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ دوستی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے فوری طور پر معاہدے پر عمل کرے تاکہ 450خاندان سکھ کے ساتھ زندگی گزار سکے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments