گلگت بلتستان حکومت نے طلبہ کے ساتھ ہاتھ کر دیا، سکالر شپ پر چین جانے والے تاحال فنڈز سے محروم

شگر(پ ر)صوبائی حکومت کی جانب سکالرشپ پر چائنہ بھیجے گئے 18طلباء تاحال سکالرشپ سے محروم،طلباء اور والدین ذہنی اذیت میں مبتلاء ہوگئے۔ان طلباء کو گذشتہ سال باقاعدہ ٹیسٹ کے ذریعے دوست ملک چائنہ کے تعلیمی اداروں میں انجینئرنگ کیلئے منتخب کیا گیا تھا اور ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ تین سال تک ان کی پوری تعلیمی اخراجات گلگت بلتستان کی حکومت برداشت کرے گی۔ تاہم چین پہنچنے کے بعد معلوم ہوا کہ گلگت بلتستان کی حکومت صرف ایک سال کا خرچہ براشت کریگی، جبکہ باقی دو سال چائنہ کی حکومت اس کی تعلیمی اخراجات برداشت کرے گی۔ یہ بھی وعدہ کیا گیا تھا کہ ان طلباء کو پارٹ ٹائم روزگار کے حصول کیلئے بھی مواقع فراہم کیے جایں گے، لیکن ویزہ کی نوعیت صرف تعلیمی ہونے کی وجہ سے طلباء پارٹ ٹائم جاب کی سہولت سے بھی محروم ہیں۔

صوبائی حکومت کی جانب سے سکالرشپ کی فراہمی میں تاخیر کی وجہ سے یہ طلباء گھروں سے بھاری اخراجات منگوانے پر مجبور ہیں ۔تاہم کچھ طلباء کے سواء باقی سب کے گھروں کی حات ان کی اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہیں۔ والدین قرضہ لیکر ان کی اخراجات برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔

طلباء کا وزیر اعلی ٰ اور چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کے نام خط میں کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے ہمیں چائنہ میں بے یارومدگار چھوڑ کر فرار ہوگئے اور ذمہ دار ہماری کال اور مسیج کا جواب نہیں دیتا۔ وہ ان حالات سے بہت دلبرداشتہ ہے اور واپس آنا چاہتے ہیں لیکن واپسی کی کرایہ ہماری قوت برداشت سے باہر ہے۔ہم ادھر پریشان اور والدین پاکستان مین سخت پریشان ہے۔ہم صرف پاکستان کی بدنامی کی خوف سے احتجاج نہیں کررہے ہیں لہذا ہماری مسائل کو جلد حل کرنے کیلئے اقدامات کئے جائے۔ لیکن اگر اس ماہ کے آخر تک ہمار مسئلہ حل نہ ہوا تمام طلباء سخت احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے۔

آپ کی رائے

comments