نواز لیگ گلگت بلتستان کی تاریخی حیثیت کو مسخ کرنے کے درپے ہے، آئین کے آرٹیکل 1 میں ترمیم کر کے آئینی تحفظ دیا جائے، امجد ایڈوکیٹ

 استور(شمس الرحمن شمس) پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ نواز لیگ گلگت بلتستان کی حیثیت کو مسخ کرنے کے درپے ہے۔اگر گلگت بلتستان متنازعہ ہے تو جموں کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیا جائے جس طرح بھارت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کمشیر کو با اختیار ریاست بنایا اسی طرح پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 1 میں ترمیم کر کے گلگت بلتستان کو آئینی تحفظ دیا جائے کیونکہ جموں کشمیر بھی اقوام متحدہ کے قراردادوں کے مطابق متازعہ خطہ ہے اس کے باوجود بھارت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 میں تبدیلی کر کے جموں و کشمیر کو با اختیار ریاست بنا کر بھارت کی سنیٹ کو قومی اسمبلی میں نمایندگی دیکر جموں و کشمیر کے لوگوں کو متنازعہ ہونے کے باوجود با اختیار ریاست بنا دیا گیا ہے انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگی کے وفاقی وزراء کئی بار کہہ چکے ہیں کہ گلگت بلتستان متازعہ خطہ ہے مکمل طور پر آئینی حقوق نہیں دیں سکتے ہیں دراصل نواز لیگ کی وفاقی حکومت گلگت بلتستان کی شناخت مسخ کرنا چاہ رہی ہے۔وفاقی حکومت کے موقف سے گلگت بلتستان کے عوام میں شدید تشویش پیدا ہوئی ہے۔غیر منطقی اور غیر ذمہ دارانہ بیانات سے سی پیک کو متنازعہ بنانے کے درہے قوتوں کی حوصلہ افزائی ہو رہی یے۔نواز لیگ ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت ملکی سلامتی سے کھیل رہی ہے۔وفاقی حکومت کے موقف سے گلگت بلتستان کے عوام سخت مایوس ہوئے ہیں۔کیا گلگت بلتستان کے عوام کوئی جانور ہیں جن کا فیصلہ اقوام متحدہ کرے گا۔جب کہ اقوام متحدہ خود چند بڑی طاقتوں کا آلہ کار ہے۔گلگت بلتستان کے عوام نے اپنا فیصلہ ستر سال قبل پاکستان کے ساتھ الحاق کر کے سنایا ہے۔ایسے میں آدھا تیتر آدھا بٹیر بنائے رکھنا جنگ آزادی کے مجاہدین کے خون کے ساتھ مذاق کے مترادف یے۔دراصل گلگت بلتستان کے حقوق کی راہ میں نواز لیگ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔کیونکہ گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے حوالے سے جو کمیٹی بنائی گئی تھی وہ شیخ چلی کی داستان بنادی گئی ہے اس کمیٹی کی سفارشات میں گلگت بلتستان کے عوام کا موقف بھی شامل کیا جائے تاکہ یہاں کے عوام کو مطمئن کیا جا سکے۔کئی سال گزرنے کے باوجود اس کمیٹی کی سفارشات کا فائنل نہ ہونا بذات خود ایک سوالیہ نشان یے۔ایسا لگتا ہے وفاقی حکومت اس حساس اور اہم ترین معاملے میں جان بوجھ کر لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔دراصل نواز لیگ کی وفاقی اور صوبائی حکومت قومی اہمیت کے معاملات کو پس پشت ڈال کر ایک ثابت شدہ نااہل شخص کو اپنا قائد تسیلم کرتے ہوئے اسکی مدح سرائی میں مگن ہیں۔اس صورتحال میں ان سے قومی نوعیت کے فیصلوں کی توقع رکھنا عبث ہے۔جن کا نااہل قائد ملکی سلامتی کے ذمہ دار اداروں اور عدلیہ کے خلاف بلاجواز ہرزہ سرائی کا مرتکب ہو رہا ہو وہ ملک و قوم کے کسطرح وفادار ہو سکتے ہیں۔قادر بلوچ کا گلگت بلتستان کے حوالے سے جو بیان ہے اس کو آئینی تحفظ دیا جائے یعنی آئین کے اندر لکھا جائے اس کے بعد خود بخود گلگت بلتستان کے حقوق طے ہونگے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments