(فیچر) عزم و ہمت کی داستان ۔۔۔۔۔ سکینہ بی بی

تحریر عابدشگری

وہ تو صرف اپنی بچوں کی بہتر مستقبل اور پرورش کی خاطر نکلی تھی لیکن معاشرے کی خواتین کیلئے رول ماڈل بن گئیں اور پورے معاشرے کو اپنا اعتراف کروانے پر مجبور کر دیا۔

یہ کہانی ہے مادر ملت ایوارڈ سے لیکر لاتعداد ایوارڈ حاصل کرنے والی سکینہ بی کی جن کا ایک کمرے پر مشتمل سلائی سنٹر آج گلگت بلتستان میں خواتین کا سب سے بڑا ادارہ بن گیا ہے اور جہاں یو ایس ایڈ جیسے ادارہ براہ راست معاونت کررہے ہیں۔

آج سینکڑوں خواتین ان سے فیضیاب ہو کر نہ صرف اپنے اور اہل عیال کی رزق روٹی کا ذریعہ بن رہی ہیں بلکہ معاشرے کی تعمیر و ترقی کیلئے مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔

شگر کھرگڑونگ سے تعلق رکھنے والی عزم و ہمت اعلیٰ مثال خاتون سکینہ بی بی چار بچوں کی ماں ہیں۔ ان کا شوہر محکمہ ڈاک میں ملازم تھا۔ خوش حال زندگی گزر رہی تھی، تاہم قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا کہ شوہراپنے محکمے کے کچھ نادیدہ دوستوں کی ناکردہ گناہوں کی نذر ہو گئے۔ غبن کا کیس دائر ہوا، نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔

عدالت میں ابھی کیس چل ہی رہا تھا کہ اچانک معلوم ہوا کہ ان کے ایک گردے نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ ایک گردہ نکالا تو دوسرے نے بھی جواب دے دیا۔ وہ موت کی آغوش میں چلے گئے اور انہیں بیوہ اور بچوں کو یتیم کر گئے۔ شوہر کی موت کے بعد بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت کی ذمہ داری سکینہ کے کندھوں پر آ گئی۔ عین جوانی کی بیوگی کی زندگی گزارنا پل صراط پر چلنے کے مترادف ہے، تاہم انہیں اس کی فکر نہیں تھی، فکر تھی تو چار بچوں کی پرورش کیلئے کیا کریں۔

اپنے والد کی پرانی سلائی مشین مانگ کر کپڑے سلانے کی کوشش کی۔ ضرورت ایجاد کی ماں کی مصداق پر سلائی سیکھنے کیلئے گھر سے باہر نکلیں اور سکردو کی ایک ادارے سے باقاعدہ تربیت حاصل کی، اور واپس آکر گاﺅں کے عورتوں اور بچوں کی کپڑے بازار سے کم نرخ پر سلانا شروع کیا تو گاﺅں کی عورتوں نے بھی خوب ساتھ دیا۔ اس طرح گھر اور بچوں کی خرچ چلنا شروع ہوا۔ اور کچھ بچت بھی ہونے لگی۔ سکینہ بی علاقے پہلی خاتون تھی جو کہ براہ راست نہ صرف کاروبار سے منسلک ہوئی تھیں بلکہ تربیت اور ٹریننگ کیلئے گھر سے باہر نکلی تھیں، ان حالات میں جب معاشرے میں خواتین کا کاروبار کرنا اور گھر سے باہر نکلنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔

مرکز میں تیار شدہ کچھ ملبوسات

علاقے کی بیشتر آبادی غریب اور متوسط گھرانوں پر مشتمل ہے۔ یہاں کی خواتین صرف گھر سے کھیت تک محدود ہیں۔ تاہم ان کی دلوں میں بھی خواہشیں اُٹھ رہی تھیں کہ وہ بھی باعزت اور خود انحصار زندگی گزاریں۔ جس کا اظہار سکینہ بی کے پاس اکثر خواتین کرتی تھیں۔ جس پر انہوں نے سوچا کیوں نہ ان خواتین کیلئے کچھ کریں۔ انہوں نے سکردو سے ایک ادارے سے کچھ سلائی مشینیں ادھار لیا اور اپنے گھر کی ایک کمرے کو سلائی سنٹر قرار دیکر ارد گرد کے محلے کی خواتین کو سلائی اور کڑھائی سکھانے لگیں۔

اس سنٹر کی خواتین اس قدر ماہر ہو گئیں کہ نہ صرف اپنے گھر کے بچوں کے کپڑے سلانے کے قابل ہو گئیں بلکہ محلے کے دیگر گھروں کی کپڑے سلاکر آمدنی کا اچھا ذریعہ بن گئیں۔ ان کا سلائی سنٹر کامیابی کیساتھ چلتا رہا اور درجنوں سے سینکڑوں خواتین ان سے فیضیاب ہوتی رہیں۔

اب انہوں نے کچھ سہیلیوں کے ساتھ مل کر سوچا کیوں نہ ایک ادارہ بنایا جائے جو خواتین فلاح و بہبود کیساتھ معاشرے کی تعمیر و ترقی اہم کردار ادا کرے۔ انہوں نے اس سنٹر کو رجسٹرڈ کروا لیا اور اسے ادارے کی شکل دے دی۔ ان کی راہ میں معاشرہ مشکل بن کر کھڑا تھا تاہم ان کی عزم بلند تھا اور ارادہ نیک۔ اب سکینہ بی علاقے کی خواتین کیلئے ایک رول ماڈل بن چکی تھیں۔

خواتین اپنے مسائل کی حل ان سے مشورہ کرنے لگیں۔ ان کی خواتین کیلئے بے مثال خدمات پر انھیں پاکستان میں خواتین کا سب سے بڑا ایوارڈ مادر ملت ایوارڈ کا حقدار قرار دیا گیا اور اس وقت کے صدر مملکت پرویزمشرف نے انھیں یہ یہ ایوارڈ عطا کیا۔

اس کے بعد بھی کتنے ہی ایوارڈ اور گولڈ میڈل ان کے نام ہوئے جن کی تعداد انہیں خود سے بھی یاد نہیں۔

موجودہ سلائی مرکز کا بیرونی منظر

ان کے ایک کمرے سے شروع ہونے والی سلائی سنٹر اب ایک مستحکم ادارہ بن چکا ہے۔ جاپان ایمبسی کی جانب سے ایک بڑی گرانٹ سے ادارے کا اپنا آفس اور دو منزل پر مشتمل عمارت تعمیر کی گئی، جہاں سلائی، کڑھائی، بنائی، پیکو اور فیشن ڈیزائن کے مکمل آلات اور مشینیں دستیاب ہیں۔ ان کا ادارہ اب ایک بااعتماد ادارہ بن چکا ہے اور یو ایس ایڈ جیسے انٹرنیشنل ادارے علاقے کی خواتین کو اپنے حقوق اور فرائض اور ہراسمنٹ ایکٹ 2010 سے آگاہی کیلئے اس ادارے کی معاونت کر رہے ہیں۔ اس کے ذریعے ادارے کی جانب سے گاﺅں گاﺅں آگاہی سیشن کیساتھ علاقے کی 30خواتین کو لیڈرشپ اور ہراسمنٹ ایکٹ پر 5روزہ ٹریننگ دی گئی۔

اس ٹریننگ کے اختتام پر یہاں کی خواتین کی جانب سے اپنا لیڈر منتخب کرلیا۔ اس ادارے کے تمام ممبران خواتین پر مشتمل ہیں۔ سکینہ بی اب بھی اس وقت کو یاد کرتی ہیں کہ انہیں اپنے بچوں کی خاطر گھر اور شہر سے باہر نکلنے پر لوگوں کی طنز اور نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑتا تھا لیکن آج ان کا لگایا گیا ننھا پودا تناور درخت بن چکا ہے۔

سکینہ بی بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئیں اور ان کی بدولت اب یہاں کی خواتین اپنے حقوق کی حصول کیلئے میدان میں نکل آئی ہیں۔

زیر تربیت خواتین کام میں مصروف
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments