دیامر سمیت گلگت بلتستان بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر منایا گیا

چلاس(مجیب الرحمان)”کشمیر سے رشتہ کیا ! لا الہ الا اللہ “ملک بھر کی طرح دیامر میں بھی کشمیریوں سے یکجہتی کا دن جوش و جذبے سے منایا گیا۔ضلع بھر میں ریلیاں نکالی گئیں اور مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔جبکہ جدو جہد آزادی کے شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔ریلی کے شرکاء نے کشمیری بہن بھائیوں سے ہمدردی اور یکجہتی اور بھارتی ظالمانہ تسلط اور مظالم کے خلاف زبردست نعرے بازی بھی کی۔مرکزی تقریب چلاس شہر میں بوائز ہائی سکول چلاس میں منعقد ہوئی۔جس میں ڈپٹی کمشنر دیامر دلدار احمد ملک سمیت دیگر محکموں کے سربراہان ،سول سوسائٹی طلباء اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر دیامر دلدار احمد ملک نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت ظلم و بربریت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔معصوم اور بے گناہ شہریوں کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔عالم اسلام اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔مسلمانوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر سازشیں ہو رہی ہیں۔اور وہ مذہب علاقائیت صوبائیت لسانیت کے نام پر لڑا کر مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں۔آپس میں اتفاق و اتحاد اور برداشت کی صلاحیت پیدا کر کے ان سازشوں کو ناکام بنائیں ۔کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کی بھر پور حمایت اور بھارتی ظلم و جبر کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے۔تاکہ معصوم کشمیریوں کا قتل عام رک سکے۔تقریب سے ڈی ڈی ایجوکیشن فقیر اللہ،سابق ڈی سی دیامر الحاج آدم شاہ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر دیامر دلدار ملک کی قیادت میں یکجہتی ریلی بھی نکالی گئی۔ریلی کے شرکاء نے انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔یوم یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں منعقدہ تقاریب میں طلباء و طالبات نے بھی ملی نغموں اور تقریروں کے ذریعے کشمیریوں سے یکجہتی کا بھر پور اظہار کیا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments