مقامی زبانیں، آئینِ نو اور طرزِ کہن

ایک عرصے سے میں کافی ڈسٹرب ہوں۔ میرے خطے کے پڑھے لکھے لوگ جن سے نئی پود کو بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ وہ ایک نان ایشو کو لے کر خود بھی پریشان ہیں اور نئی نسل کو بھی پریشانی سے دوچار کر رہے ہیں۔ خطۂ شمال کی مقامی زبانیں یا یوں کہئیے کہ زبانچے جس میں شنا، بلتی، وخی، بروشسکی اور کھوار وغیرہ شامل ہیں۔ ان زبانچوں کو نصاب کا حصہ بنائے جانے پر ایک بڑے حلقے میں اور وہ بھی پڑھے لکھے حلقے میں اس کاوش کو سراہا جا رہا ہے اور اس سے مقامی زبانچوں کی ترویج و اشاعت کا ڈھنڈورا بھی پیٹا جا رہا ہے۔ میں حیران ہوں مجھے معاف کر دیجئیے گا یا میرا مطالعہ آپ کی طرح وسیع نہیں ہے اس لیے مجھے سمجھنے میں دقت ہو رہی ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے ٹھنڈے دماغ سے سوچا جائے کہ کیا یہ واقعی خوش آئند اقدام ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نصاب میں ان زبانچوں کی شمولیت کو نیک شکون سمجھتے ہیں جس ملک میں اس کی اپنی قومی زبان کچھ سالوں کی مہمان ہو۔ اگر نہیں تو آپ سرکاری دفاتر کا معائنہ کرکے دیکھ لجئیے۔ اردو میں لکھی گئی آپ کی درخواست بھی قبول نہیں کی جاتی۔ ایسے میں مقامی زبانوں کی بقا کی بات کرنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف نہیں ہے کیا؟ مجھے آج سرسید احمد خان، محمد عبدوہ، مولانا مودودی اور اس قبیل کی دیگر ہستیاں رہ رہ کے یاد آرہی ہیں جنہوں نے وقت کے نبض کو سمجھا تھا اللہ ان کو غریقِ رحمت کرے اگر وہ اس وقت انگریزی کی اہمیت کو اجاگر نہیں کرتے، انگریزی حرام والے فتوؤں کو پسِ پشت نہ ڈالتے تو مسلمان قوم آج بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑی ہوتی ایک الگ ریاست کا قیام جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا۔ پھر اقبالؒ نے اپنی شاعری کے ذریعے ان اقوام کو آڑے ہاتھوں لیا جو آئینِ نو سے ڈرنے اور طرزِ کہن پہ اڑنے کو اپنی انا کی تسکین سمجھتی تھیں۔ ایسی اناپرست اقوام سے اقبالؒ مخاطب ہیں؎

آئینِ نو سے ڈرنا، طرزِ کہن پہ اڑنا

منزل یہی کھٹن ہے قوموں کی زندگی میں

بس ہمارے ساتھ بھی یہ ایشو ہے۔ نہ جانے اس خطے کو کس بدخواہ کی نظر لگی ہے کہ کبھی یہ فرقہ ورانہ فسادات کی زد میں ہوتا ہے تو کبھی ایسے گھسے پٹے ایشوز میں الجھا رہتا ہے۔ خدارا! آپ شنا بولے، وخی بولے، بروشسکی بولے، کھوار بولے یا کچھ اور۔ لیکن کچھ چیزیں چاردیواری کے اندر ہی اچھی لگتی ہیں۔ ان کو کھینچ کھانچ کے نصاب میں شامل کرکے آخر آپ نئی نسل کو کیا تحفہ دینا چاہتے ہیں۔ ایک اور مشکل سے دوچار ہونے کا تحفہ۔ ہمارے بچے بڑی مشکل سے اردو پڑھتے ہیں۔ اب ان مقامی زبانچوں کے لیے ان کے ناتواں کاندھوں میں اتنی ہمت کہاں سے آئے گی۔ میں اس وقت کراچی میں ہوں۔ جب سے یہ مقامی زبانوں اور نصاب کا مسلہ اٹھا ہے۔ میں یہاں سندھ میں سندھی نصاب کا جائزہ لے رہا ہوں۔ بچوں سے ملتا ہوں اور ان سے پوچھا ہوں کہ ’’کیا محسوس کرتے ہیں سندھی زبان کا نصاب میں پڑھنا کیسے لگتا ہے۔‘‘ یقین کیجئیے بچے روتے ہیں۔ کہتے ہیں ’’سر! ہم ایک عذاب میں پھنس گئے ہیں۔ یہی ایک مضمون سندھی فیل ہوتا ہے۔ اللہ غارت کرے ان لوگوں کو جنہوں نے اس کو نصاب کا حصہ بنایا۔‘‘ اللہ نہ کرے کل کلاں کوئی ہمیں یہ بد دعائیں دیں۔ اس لیے کوئی بھی فیصلہ لینے سے پہلے اس کے محرکات اور اثرات کے بارے میں سوچنا زندہ قوموں کی پہچان ہوتی ہے۔ بس انا کے خول میں بند شینا، کھوار، بروشسکی اور وخی کا ڈول پیٹنے سے حقیقت بدل تو نہیں سکتی ہے ناں۔

آپ یقیناً اس حوالے سے چین، روس اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی مثال دیں گے کہ جناب انہوں نے اپنی زبان میں تعلیم حاصل کی اور آج دُنیا پہ چھائے ہوئے ہیں۔ میں اس حوالےسے ڈاکٹر مبارک علی کا حوالہ دینا چاہوں گا۔ وہ لکھتے ہیں:

’’جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ آخر دُنیا میں مسلمان کی عزت کیوں نہیں ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ دُنیا میں ان قوموں کا احترام ہوتا ہے اور ان کی عزت ہوتی ہے جو دُیا کی تہذیب و تمدن میں اضافے کرتے ہیں، اس میں حصہ لیتے ہیں، جو علم کی تخلیق کرکے اس کو زرخیز بناتے ہیں۔ اگر قومیں دوسری کے علم و ایجادات پر انحصار کرنے لگیں اور خود اس عمل کا حصہ نہ بنیں تو ایسی قومیں اپنا احترام کھو دیتی ہیں۔ لہذا دیکھا جائے تو اس وقت مسلم ممالک اور معاشرے محض کنزیومرز ہیں، کنٹربیوٹرز نہیں ہیں۔‘‘

مقامی زبانچوں کو بچانا ہی ہے ان کی ترویج و اشاعت ہی کرنا تو اس کے لیے ریسرچ سینٹرز بنائے جائے۔ اس میں شاعری کی جائے۔ اپنے گھروں میں اپنے بچوں کے ساتھ اپنی مقامی زبان میں بات کی جائے۔ بچے تو ماشااللہ سے ماما، پاپا، ڈیڈی، ممی اور سویٹ ہارٹ کے چکروں میں ہے تو زبان کی خاک ترویج ہوگی۔ زندہ قومیں وقت کے ساتھ چلا کرتی ہیں۔ وقت کے نبض کو جانتے ہوئے سفر کرتی ہیں۔ آج کی زبان انگریزی ہے۔ دُنیا کے ہر شعبے کی زبان انگریزی ہے۔ یہ میڈیکل کی زبان ہے، یہ سائینس کی زبان ہے، یہ انجنئیرنگ کی زبان ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور جناب ہم چلے ہیں مقامی زبانوں کی ترویج و اشاعت کے لیے۔ آخر ہم اپنے بچوں کو شنا، وخی، بروشسکی وغیرہ وغیرہ پڑھا کے کیا بنانا چاہتے ہیں؟ کیا ہم پیچھے کی طرف سفر نہیں کر رہے ہیں؟ غلطی سے کہیں ریورس گئیر تو نہیں لگی ہے؟ ہمیں آگے بڑھنا ہوگا ہمیں بہت آگے جانا ہے تو اپنے بچوں کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنا ہوگا۔ سائنس کی بات کرنی ہوگی۔ انٹلیکٹ سے سوچنا ہوگا۔ ورنہ دُنیا بہت آگے جائے گی اور ہم شاید وقت کی دھول میں اپنی شناخت تک کھو بیھٹیں گے۔ اقبالؒ نے فرمایا تھا؎

یہ کاروانِ ہستی ہے تیز گام ایسا

قومیں کچل گئی ہیں جس کی روا روی سے

پھر بھی آپ ان مقامی زبانچوں پہ کام کرنا چاہتے ہیں تو بخدا! حروفِ تہجی کے اسٹائل پہ تو متفق ہوجاؤ۔ زبان کی ترقی و ترویج کے نام پہ سجی نام نہاد سہی لیکن ان کانفرنسز میں کچھ مخصوص چہروں کے علاوہ علمی و ادبی لوگوں کو بھی مدعو کیا جائے۔ چند مخصوص لوگ پورے خطے کی نمائندگی نہیں کرسکتے۔ واقعی میں آپ کو اپنی زبان سے پیار ہے اور آپ دل سے اس کی ترویج و اشاعت چاہتے ہیں تو اپنی انا کے خول سے باہر آجائے۔ آج کی زبان میں اس کے حروفِ تہجی تیار کیجئیے۔ آج کی زبان انگزیزی ہے۔ مقامی زبانوں کے پیٹرن کو انگلسائز کرنے کی ضرورت ہوگی اس سے نہ صرف بچے شوق سے پڑھ سکیں گے بلکہ بین الاقوامی محقیقن بھی ان زبانچوں تک رسائی حاصل کر پائیں گے۔ اگر یہاں بھی انگریزی حرام والا فتویٰ دھراتے رہیں گے تو دُنیا میں تماشہ بن جائیں گے کیونکہ دُنیا کو کامیابیوں سے سروکار ہوتا ہے فتوؤں سے نہیں۔ اللہ معاف کرے ہمارے حصے میں کامیابیاں کم فتوے زیادہ ہیں۔

ایسے حالت میں بس یہی دعا کی جاسکتی ہےکہ اللہ پاک ہمیں حقیقی سمجھ عطا فرمائے۔ اقبالؒ کے اس شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔

اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

شاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مری بات

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments