ہماری پہچان پاکستان

تحریر:عاصم خان

فانوس بن کر جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے

پاکستان کا مطلب کیا”لا اللہ الاللہ”

پاکستان اسلام کے نام پر بننے والا ملک ہے۔پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور اس کی بنیاد نظریہ اسلام ہے۔1947کو آزاد ہونے والا یہ اسلامی ملک اسلامی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات استوا کرتا ہے۔ہمارا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے۔پاکستان ہماری پہچان ہے۔پاکستان کی وجہ سے آج ہم سکھ کی سانس لے رہے ہیں۔ہمیں فخر ہے کہ پاکستان میں پیدا ہوے۔یکم نومبر 1947کو آزاد ہونے والا کہ خوبصورت علاقہ جنت نظیر وادی جغرافیائی لہٰذ سے دنیا کیلئے اہمیت کا حامل28000مربع میل پر پھیلا ہوا علاقہ گلگت بلتستان جو پاکستان کا حصہ ہے۔اگر پاکستان نہ ہوتا تو گلگت بلتستان نہ ہوتا۔بعض لوگ یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ گلگت بلتستان الحاق نہیں ہوا پاکستان ہمیں کیا دیتا ہے مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہوتا ہے کہ ایسے لوگ جو ایسی باتیں کررہے کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں۔گلگت بلتستان جب آزاد نہیں ہوا تھا اس وقت مسلمانوں کے اندر یہ جذبہ تھا کہ گلگت بلتستان بنے گا پاکستان۔اگر گلگت بلتستان کو الگ ہی ملک بنانا ہوتا تو اس وقت کے لیڈر یہ نہ کہتے کہ ہم ڈوگروں سے آزادی حاصل کرکے جلدی ہی جلد پاکستان کا حصہ بنے۔اگر ایسا تھا تو گلگت ایجنسی پاکستان سے الحاق کیوں کرتی۔اکتوبر تا نومبر1947کی تاریخ پڑھتے تو آج یہ نہ کہتے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ہے۔ایسے لوگ انڈیا اور امریکہ کیلئے کام کرتے ہیں۔انڈیا آج بھی یہ نہ چاہتا ہے کہ گلگت بلتستان والے پاکستان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوجائے تاکہ وہ فائدہ لے سکے۔اس وقت کے ایک غیرمسلم ویلم الیگزینڈر میجر براؤن یہ نہ چاہتے تھے کہ گلگت پاکستان کا حصہ ہے گلگت کا پاکستان کے ساتھ الحاق کرانے میں میجر براؤن کا اہم کردار ہے جو ایک غیرمسلم ہے وہ چاہتے تھے گلگت کے مسلمان اور پاکستان کے مسلمان ایک ہوں اگر ایک غیرمسلم ایسا سوچتا تھا مسلمان کیسے نہیں سوچتا ہوگا۔بابر خان ہمارے قومی ہیرو تھے یہ علاقہ ابھی آزاد نہیں ہوا تھا وہ چاہتے تھے کہ پاکستان کے حق میں گلگت میں انقلاب برپا کیا جائے۔اگر پاکستان کے الحاق نہیں کرتے تو بابر خان یہ کیوں سوچتے کہ پاکستان کا حصہ بنے؟؟ اگر ایسا نہیں تھا تو جب جنگ کا معرکہ شروع ہونے سے پہلے پلاٹونیں بہرکوں سے باہر آتے اور ہر جوان جہاں جمع تھے جہاں ایک میز پر قرآن رکھاتھاگزرنا شروع ہوئے وہ اپنا دایاں ہاتھ قرآن پر رکھتے اور اللہ کے حضور قسم نہ کھاتے تو وہ پاکستان کے مقاصد سے وفادار رہیں گے۔ابھی آزادی نہیں ملی ہے پاکستان سیا تنی محبت کہ پہلے ہی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم پاکستان سے کبھی بھی بے وفائی نہیں کرینگے۔ہمارے ہیرو بابر خان، شاہ خان، ہرگز یہ نہیں سوچتے کہ گلگت ایجنسی کو مکمل طور پر پاکستان کا حصہ بنائیں۔پاکستان سے اتنی محبت تھی کہ اس وقت کے میجر براؤن سرحد کے وزیر اعلیٰ کو پاکستان بھجوانے کیئے ایک پیغام وائرلیس کے ذریعے ارسال کرتا ہے۔کہتا ہے کہ گلگت میں پاکستان کے حق میں انقلاب برپا ہوچکا ہے”میجر براؤن لکھتا ہے کہ میں نے انھیں کہا کہ اگر و ہندوستان کے ہوائی حملے سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو مذہبی گروہ بندی اور مخالفانہ روئے کو چھوڑع کر آپس میں متحد ہوجائیں۔میں نے انھیں یقین دلایا کہ اگر انھوں نے ایسا کیا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی قدم چومے گی اور پاکستان کے مفیدشہری بنیں گے۔افسوس کا مقام ہے کہ کچھ لوگ گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی حقوق دیگر طریقوں سے سادہ اور شرمیلے گلگت بلتستان کے عوام کو گمراہ کررہے اور کہتے ہیں کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا۔یہاں پر میں یہ سوال کرتا چلوں کہ اگر پاکستان کے ساتھ الحاق نہ کرے تو کہاں جاتے؟ کیا انڈیا جاتے؟ کیا چین جاتے؟ یا روس جاتےَ ایسا نہیں ہے۔پاکستان ہماری منزل ہے۔1965کی جنگ ہو یا1971کی جنگ ہو یا 1999کی جنگ پاکستانن کے باڈروں میں ہمارے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں۔بعض ہوگ کہتے کہ جی بی کے پانی کوبند کریں گے جب تک ہمیں حق نہیں ملے گا ہم پاکستان کے ساتھ نہیں دینگے۔بچوں والی باتیں کرتے ہیں اور عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔پانی تو اللہ کی رحمت ہے۔ہم پاکستان سے اپنی محبت کہ پاکستان کا عبوری صدر اپنے گھوڑے سے نیچے آکر قائد اعظم کا بھیجا ہوا ایک پولیٹیکل بندے کا استقبال کرتا ہے۔گلگت بلتستان کے لوگ محب وطن پاکستانی ہے۔اگر گلگت بلتستان کے لوگ اینٹی پاکستانی تو آج CPECجیسے اہم منصوبے یہاں سے نہیں گزرتے گلگت بلتستان کے لوگ محب وطن پاکستان نے۔انڈیا کبھی یہ نہیں چاہتا ہے کہ گلگت بلتستان والے ترقی کرے۔انڈیا کی نظر جنت نظیر جیسا خطہ کے اوپر لگی ہوئی ہے تاکہ یہاں سے CPECجیسے اہم منصوبے یہاں سے نہ گزرتے پاکستان کی ترقی ہماری ترقی ہے۔آج ہم سب کو مل کر ایسے ملک کے بارے مین چوچنا چاہئے کہ پاکستان کیسے ترقی کرے۔آج بیرونی قومیں ہمیں آپس میں لڑا کر اپنے لئے فائدہ لے رہے ہیں اور آج ہم سب ایک دوسروں کے دست گریباں بن بیٹھے ہیں۔مجھے آج ایک اقبال کی بات یاد آتی ہے۔

فرقہ بندی اورذاتیں ہیں

کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

جس طرح ہمارے آباؤ اجداد نے اس علاقے کو آزاد کراکر ہمیں دیا آج ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اپنے اس پہاڑی علاقے کی حفاظت خود کریں۔ضرورت اس امر کی کہ آج ہم سب تعصب، لسانیت، قومیت سے بالاتر ہوکر ایک جان بنے۔حضور ؐ کا ارشاد ہے

“کہ مسلمان ایک جسم کے مانند ہیں”

ااج ہمین آپس میں لڑا کر انڈیا اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔کبھی ہمیں مذہب کینام سے کبھی ہمیں قومیت کے نام سے لڑا کر اپنا عزائم کو کامیاب کرنا چاہتی ہے۔آئیے آج ہم سب مل کر ایک جان بن کر ملک خداد پاکستان کی حفاظت کریں

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments