مسلکی تنازعات کا آسان حل

تحریر: محمد جواد شگری

’’ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق اسلام کے تمام فرقوں میں سے ایک ہی فرقہ جنتی ہے۔ اور وہ ہمارا فرقہ ہے۔‘‘ کالے سوٹ میں ملبوس نوجوان نے ، جسکا نام علی شیرازی تھا، زور دے کر کہا۔

’’ کیا دلیل ہے آپ کے پاس؟‘‘۔ گھنی داڑھی رکھنے والے عبدالغنی نے چشمے کو ٹھیک کرتے ہوئے استفسار کیا۔

’’ ہمارے ایک علامہ صاحب مجلس میں بتا رہے تھے۔‘‘ علی شیرازی نے اسی جوش کے ساتھ جواب دیا۔’’ انہوں نے ایک بہت اچھی دلیل دی تھی جسکے مطابق تم سب جہنم جاؤگے۔ صرف میرا فرقہ جنت جائے گا۔ ابھی وہ دلیل میرے ذہن میں نہیں ہے‘‘۔ علی شیرازی نے اپنے دلائل مکمل کرلئے۔

’’ یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی، بالکل اسی طرح کی بات تو پرسوں جمعے کے خطبے میں ہمارے مفتی صاحب بھی کررہے تھے۔ انہوں نے ثابت کیا تھا کہ ہمارا فرقہ فقط جنت جائے گا۔ باقی سب جہنم میں۔‘‘ عبدالغنی ، سگریٹ کا آخری کش لگاکر ساتھ والے گملے کے کنارے پر مسلتے ہوئے گویا ہوا۔ علی شیرازی پہلے ہی سگریٹ کے بچے ہوئے حصے کو پاوں کے نیچے مسل چکا تھا۔ دارالحکومت کی سرکاری یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے لان میں اسی شعبے کے دونوں ہم جماعتوں کے درمیان کافی دیر سے بحث جاری تھی۔ ان دونوں سے کچھ پرے مطالعے میں مصروف عمیر حسن کبھی کبھار کتاب بند کرکے ان کی گفتگو سن کر زیرِلب مسکراتا تھا اور دوبارہ مطالعے میں محو ہوجاتا تھا۔ لیکن جنت اور جہنم والی بات سن کر اس نے کتاب بند کرتے ہوئے ایک فلک شگاف قہقہ بلند کیا۔ جسے سن کر علی شیرازی اور عبدالغنی دونوں چونک گئے اور اس کی طرف دیکھنے لگے۔ عمیر حسن کتاب بغل میں دبائے کرسی کو اسی حالت میں گھسیٹتا ہوا ان دونوں کے قریب پہنچ گیا۔

’’ ہاں دوستو! کیا فیصلہ ہوا؟ کس نے جنت میں جانا ہے اور کس نے جہنم میں؟‘‘ عمیر حسن نے طنزیہ انداز میں سوال کیا۔

’’جو حق پر ہوگا وہی جنت جائے گا اور دوسرا جہنم‘‘۔ عبدالغنی بول پڑا۔

’’ لیکن تھوڑی دیر پہلے تومیں کچھ اور سن رہا تھا‘‘۔ عمیر نے ویٹر کو اپنی طرف آنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

’’ تم نے جب سن لیا ہے تو سوال کیوں کررہے ہو؟‘‘۔ علی شیرازی نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

’’ میرا سوال یہ ہے کہ کیا اللہ نے لوگوں کو جنتی اور جہنمی قرار دینے کی ذمہ داری ہمیں دی ہے یا اپنے پاس رکھا ہوا ہے؟‘‘ عمیر نے ویٹر کو تین چائے لانے کا اشارہ کرتے ہوئے سنجیدہ انداز میں استفسار کیا۔

’’ ہمارے مولوی حضرات خود کو انبیاء کا وارث سمجھتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری لوگوں کو دین کے احکامات پر عمل کرنے کی تلقین کرنا ہے یا لوگوں کو کافر قرار دینے کیلئے دلائل کا انبار لگانا؟‘‘ دونوں کو خاموش پاکر عمیر نے اگلا سوال جھاڑ دیا۔

’’ عمیر بھائی! لوگوں کا اپنے دین پر یقین بڑھانے کیلئے ایسی گفتگو بھی لازم ہوجاتی ہے۔ اسلئے علماء ایسی باتیں بیان کرتے ہیں۔‘‘ علی شیرازی نے اپنے موقف کے حق میں دلیل دی۔

’’ علی بھائی! جو شخص جمعے کی نماز پہ یا مجلس میں حاضر ہوتا ہے، وہ پہلے سے ہی دین پر یقین رکھنے والا ہوتا ہے۔ اسے اس طرح کی باتوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن اسے روزمرہ کے مسائل سے متعلق اسلامی تعلیمات کا جاننا نہایت ضروری ہے۔ علاوہ ازیں لوگوں کو عالمی سطح پر مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم سے آگاہ کرنا اور اتحاد و اتفاق کی باتیں کرنے کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے کچھ مولانا حضرات اپنے خطاب میں اکثر ان لوگوں کو سنا رہے ہوتے ہیں۔ جو وہاں حاضر نہیں ہوتے۔ اور جو وہاں موجود ہوتے ہیں وہ خالی دامن گھر چلے جاتے ہیں۔میں سارے علماء کی بات نہیں کررہا۔ کچھ علماء واقعاً دینِ اسلام کی خدمت کا حق ادا کررہے ہیں۔ میری مراد وہ نہیں ہیں۔‘‘ عمیر حسن نے اپنی بات مکمل کرکے چائے کی پیالی اٹھائی اور ٹرے باقی دوستوں کی طرف بڑھائی۔

’’ ایک پرسنل سوال پوچھ سکتا ہوں؟‘‘ عبدالغنی نے چائے کی پیالی اٹھاتے ہوئے پوچھا۔ اس دوران علی شیرازی کچھ غیر مرئی چیزیں اپنی پینٹ سے جھاڑنے کی کوشش کررہا تھا۔

’’ ہاں ضرور ‘‘۔ عمیر نے جواب دیا۔ تھوڑی دیر تک ماحول پرسکون ہوگیا تھا۔ علی شیرازی بھی عبدالغنی کی طرف متجسس نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔

’’ آپ کا تعلق کس مذہب سے ہے؟‘‘ عبدالغنی نے ایک طویل وقفے کے بعد سوال داغ دیا۔

’’ اسلام‘‘۔ عمیر نے مختصر جواب دیا۔

’’ وہ تو مجھے پتہ ہے۔ میں مسلک کا پوچھ رہا تھا‘‘۔ عبد الغنی کھسیانا سا ہوگیا ۔

’’ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مسلک کیا تھا؟‘‘ عمیر نے انتہائی سنجیدگی سے سوال کے جواب میں سوال کردیا۔

’’ ان کا تو کوئی مسلک نہیں تھا۔ ‘‘ عبدالغنی نے گویا شکست تسلیم کرلی تھی۔

’’ ہاں بھائی! تو بتادے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مسلک کیا تھا؟‘‘ عمیر نے علی شیرازی سے سوال کیا۔

’’ اس وقت تو کوئی مسلک نہیں تھا۔ آج کل آپ جیسا بھی مسلمان ہونگے ۔ضرور کسی مسلک سے تعلق رکھتے ہونگے۔ مثلاً آپ یا تو ہاتھ باندھ کے نماز پڑھو گے یا کھول کے۔ کوئی درمیانی صورت تونہیں ہوگی۔ بالفرض اگر کوئی درمیانی صورت نکل بھی آئی تو بھی وہ نیا مسلک ہی ہوگا۔‘‘ شیرازی ہار ماننے کو تیار نہ تھا۔ عبدالغنی نے بھی سر کے اشارے سے گویا شیرازی کی تائید کری۔

’’ اچھا! مجھے ایک بات بتائیں ۔ کہ آپ دونوں کس کو رب مانتے ہو؟‘‘۔ عمیر نے جارحانہ لہجہ اختیار کرلیا تھا۔

’’ ظاہر ہے اللہ کو‘‘ دونوں نے یک زبان ہوکر جواب دیا۔

’’رسالت پر دونوں ایمان رکھتے ہو؟ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر انبیاء پر‘‘۔ اگلا سوال کیا گیا

’’ بے شک‘‘۔ دونوں کی ایک ہی صدا نکلی۔

’’ نماز وں کی رکعتیں، اوقات ، اذکار ، قبلہ ، رمضان کے روزے، حج، زکواۃ اور دیگر واجبات ایک جیسے ہیں یا نہیں‘‘۔ عمیر نے ایک ہی سانس میں پورا جملہ مکمل کرلیا

ایک سناٹا سا ماحول پر چھا گیا۔

’’ ایک جیسے ہیں۔ سوائے چند فروعی اختلافات کے۔ اگر اختلافات اور مشترکات کی فہرست بنائی جائے۔ تو کوئی اسی فیصد کے قریب مشترکات نکلیں گے۔ زیادہ سے زیادہ بیس فیصد اختلافات ہونگے۔ وہ بھی ایسے اختلافات ہیں جنہیں ہم نے ایشو بنایا ہوا ہے۔ درحقیقت وہ بھی کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مثلاً ایک فرقے کے متعلق مشہور ہے کہ وہ فقط تین وقت کی نماز پڑھتے ہیں۔ لیکن جب ان کی کتابیں پڑھی جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں بھی پانچ وقت کی نمازیں ہیں۔ بالکل اسی طرح سے جیسا کہ باقی فرقوں میں ہے۔صرف یہ مسئلہ ہے کہ وہ فرقہ شریعت میں دی گئی ایک چھوٹ پر زیادہ عمل پیرا ہے۔ یہ چھوٹ تو دیگر فرقوں کی کتابوں میں بھی مذکور ہے۔پھر بھی کچھ لوگ نمازوں کو الگ الگ کرکے پانچ اوقات میں ادا کرتے ہیں۔ یہ فقط ایک مثال تھی۔ اسی طرح کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں۔‘‘ دونوں دوستوں کو دم بخود دیکھ کر عمیر حسن نے اپنے ہی سوال کا خود ہی جواب دے دیا۔

’’ لیکن عمیر بھائی! انکے فرقے والے تو ہمارے بزرگوں کو برا بھلا کہتے ہیں۔ پھر اتحاد کیسے ہوسکتا ہے‘‘۔ عبدالغنی نے گویا اپنے ترکش کا آخری تیر چلا دیا۔

’’ ان کے فرقے کے اگر بعض لوگ نادانی میں کسی بزرگ کو برا بھلا کہتے ہیں تو پورے فرقے کو متہم کرنا مناسب نہیں۔ انکے اس دور کے سب سے بڑے مرجع تقلید کا فتویٰ سنا نہیں کہ اہلسنت کے مقدسات کی توہین حرام ہے۔ مذہب سے لاعلم افراد کی باتوں کو وجہ نزاع بنانے کے بجائے علماء اور مراجعین کی باتوں کو اہمیت دینی چاہئیے۔ جس طرح جامعہ الازہر نے شیعہ مذہب کو اسلام کا پانچواں فرقہ تسلیم کرکے فقہ جعفریہ کا شعبہ اپنی یونیورسٹی میں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح اتحاد کی راہ ہموار ہوگی۔ دشمنان اسلام جب مسلمانوں کے خلاف کاروائی کرتے ہیں تو یہ نہیں دیکھتے کہ وہ شیعہ ہے یا سنی۔ عراق اور افغانستان کی صورتحال ہمارے سامنے ہے۔ایسی حالت میں ہمیں مشترکات پر تکیہ کرتے ہوئے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ امام خمینی نے کیا خوب فرمایا تھا کہ تم لوگ ہاتھ کھولنے اور باندھنے پر لڑ رہے ہو جبکہ دشمن تمہارے ہاتھ کاٹنے کے درپے ہے۔‘‘ عمیر حسن نے اپنی بات مکمل کی اور ڈیپارٹمنٹ کی طرف اشارہ کیا۔ دونوں نے چونک کر دیکھا۔ پروفیسر عبدالرشید خراماں خراماں کلاس روم کی طرف بڑھ رہے تھے۔ تینوں دوستوں نے جلدی جلدی سے اپنے بیگز سنبھال لئے اور علومِ قرآنی کی کلاس لینے کیلئے پروفیسر عبدالرشید کے پیچھے ہولئے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments