ضلعی انتظامیہ نے چلاس میں‌شاہراہ قراقرم کے ارد گرد بنائی گئی تجاوزات گرادیں‌، غریبوں کو نشانہ بنانے اور بااثر افراد کو بخشنے کا الزام

چلاس(ابوبکر صدیق،قادر حسین) دیامر کی ضلعی انتظامیہ نے چلاس شاہراہ قراقرم کے اوپر غیر قانونی تجاوزات کو گرا دیا۔گزشتہ ہفتے این ایچ اے کی طرف سے تجاوزات کو ہٹانے کیلئے نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک ہفتے کا ٹائم دیا گیا تھا ،تاہم نوٹس کے باوجود تجاوزات کو نہ ہٹائے جانے پر دیامر کی ضلعی انتظامیہ نے پولیس اور جی بی لیویز کی مدد سے شاہراہ قراقرم چلاس کے مقام پر تمام غیر قانونی تجاوزات کو مسمار کر دیا گیا ہے ،اسسٹنٹ کمشنر چلاس بلال احمد کی نگرانی میں تجاوزات کے خلاف اپریشن کیا گیا اور تمام ہوٹلوں ،دکانوں اورکھوکھوں کو اُکھاڑ کر پھینک دیا گیا ،اپریشن کے دوران ہوٹلوں اور دکانوں میں موجود سامان بھی ملبے کی زد میں آگئی اور لوگوں کا کافی نقصان بھی ہوا ہے۔اسسٹنٹ کمشنر چلاس بلال احمد نے میڈیا کو بتایا کہ چلاس شہر میں تجاوزات کے خلاف اپریشن کا دائرہ کار بڑھائیں گے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو عبرت ناک سزا دیں گے ۔

ادھر آپریشن نے متاثرہ افراد نے خبرنگار “مامون اللہ” کو بتایا ہے کہ  چلاس میں تجاوزات کے خلاف آپریشن میں بااثر افراد کے ہوٹلوں ،دکانوں اور کھوکھوں کو مسمار کرنے کے بجائے غریبوں کی دکانوں پر بلڈوزر چلایا ہے ،جو کہ ظلم کی انتہاء ہے ۔

ان خیالات کا اظہارآپریشن سے متاثرہ افرادشاہ فرمان،انعام اللہ و دیگرنے اپنے ایک بیان میں کیا ۔

انہوں نے کہا کہ این ایچ اے تجاوزات کو ہٹانے کیلئے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا تھا ،جبکہ ضلعی انتظامیہ نے اپنا پاور شو کرنے کیلئے غریب لوگوں کے دکانوں پر بلڈوزر چلا دیا ہے ،جبکہ بااثر افراد کی مارکیٹوں اور دکانوں ہاتھ تک نہیں اُٹھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ امتیازی سلوک ختم کرے اور تمام شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے ،یہ کہاں کا انصاف ہے کہ بااثر افراد ا کوپریشن سے بچایا جائے اور غریب لوگوں کے املاک پر بلڈوزر چلایا جائے،اس ظلم کو برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری نوٹس لیکرہمارے اوپر ہونے والے ظلم اور زیادتی کا نوٹس لیں ،ورنہ ہم عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہونگے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments