محبتوں کا تہوار ہماری نفرتوں کے نرغے میں‌

تحریر: میمونہ عباس خان

اہلِ مغرب نے چودہ فروری کو محبت کے رشتے سے کیا منسوب کیا کہ ہمیں ایسا محسوس ہونا شروع ہوا گویا یہ قدم اٹھا کر مغرب والوں نے ہماری سیدھی سادی مشرقی اقدار کی دھجیاں اڑانے کی مذموم سازش کی ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اہلِ مغرب کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پاکستان میں کتنے لوگوں نے یومِ محبت منایا اور کتنے ٹھیلے والے اور گل فروش بمعہ اہل وعیال دھندہ مندا ہونے کے سبب اس دن بھوکے سوئے۔ فرق تو انہیں بھی نہیں پڑا جنہوں نے اس دن کو چوری چھپے بند دروازوں کے پیچھے منایا جبکہ ان مٹھی بھر لوگوں کو تو بالکل بھی نہیں جنہوں نے اس یوم کے خلاف چند شکوک بھرے اعتراضات کے سبب اہلِ وطن کو محبت کے خلاف ڈٹ جانے پر مجبور کیا۔
یہ ایک عجیب المیہ ہے کہ ہم محبت کی کسی بھی رسم کو فروغ دینے سے تو قاصر ہیں لیکن نفرت کے نہ صرف پجاری بن چکے ہیں بلکہ اس کے بیوپار میں بھی خوب مہارت حاصل کرنے لگے ہیں۔ پھر یہ لفظ “محبت” ہماری عام عوامی اصطلاح اور فہم کے مطابق صرف جسموں کے وصل تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔اور اسی تفہیم کے پیشِ نظر محبت جیسے اعلیٰ و ارفع جذبے کے معانیٰ اور وسعت و گہرائی کو سوچنے یا ماپنے میں ہماری فرسودہ اور  گھٹن ذدہ سوچ بے بس دکھائی دیتی ہے۔ تبھی تو محبت اور اس سے منسلک جذبات ہمارے معاشرے میں کلنک کی صورت اختیار کرتے جارہے ہیں۔ حالآنکہ یہ وہی معاشرہ ہے جہاں دو ماہ سے لے کر اسی سالہ عورت سے زنا بالجبر بھی کیا جاتا ہے اور اسے کچرے کے ڈھیر کی زینت بھی بنادیا جاتا ہے۔ اسی معاشرے میں ہی روزانہ کی بنیاد پر کئی لڑکے اغوا ہوتے ہیں اور جنسی ذیادتی کا نشانہ بنتے ہیں۔ پھر ابھی زینب کو روندے ہوئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں؟ اور ذیادہ دور کیوں جائیں کہ میرا اپنا شہر گلگت، لڑکوں کے ساتھ آئے روز ہونے والے جنسی ذیادتی کے واقعات سے بھرا پڑا ہے۔ کچھ عرصے قبل سامنے آنے والے ایک ہولناک واقعے میں معصوم حسنین کو نہ صرف اغوا کیا گیا بلکہ جنسی ہوس اور درندگی کا نشانہ بناکر اس ننھی سی جان کی مسخ شدہ لاش کو دریا کے کنارے پھینک دیا گیا۔ بدقسمتی سے ہم ایسے وحشت ناک واقعات کو پیچھے چھوڑ کر، ان کے مجرموں کو بھلا کر آگے بڑھ جاتے ہیں اور پھر ملک کے کسی اور کونے سے کوئی اسماء ان جیسوں کے دوبارہ  ہاتھ لگتی ہے۔اور پھر وہی واویلا مچانے سے لے کر خاموش ہونے تک کا دائرہ نئے سرے سے بننے لگتا ہے۔کون جانے کب تک ہم نفرت و بربریت سے منسوب ایسے ہی دردناک اور ہوسناک واقعات کے چشم دید گواہ بنتے رہیں گے۔
ایسے مجرمان کو یہاں صرف اس لیے شہ ملتی ہے کہ یہاں قانون واقعی اندھا ہوچکا ہے۔ کئی بار مجرم کی نشاندہی ہونے کے باوجود اس پر ہاتھ ڈالنے میں جیسے یہی قانون اپنے ہاتھ باندھ لیتا ہے۔ جبکہ دوسری طرف ہم  اہنے گریابن مین جھانکنا چاہیں تو بحیثیتِ انسان اور معاشرے کے ایک فعال رکن کے ہر شخص اپنے فرائض سے غافل نظر آتا ہے۔ بہت ہوا تو احتجاج  کر لیا یا مجرم کو لعن طعن کرلیا۔ تبھی تو معاشرے سے نرم خوئی، خوش گفتاری، بھائی چارہ اور رشتوں کے احترام پر مبنی روایات دم توڑ رہی ہیں۔ جبکہ منافقت سے پُر ہمارے یہی اعمال دلوں میں پنپتی گھٹن اور اذہان میں پلتے ناسور کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ نتیجتاً پدر سری معاشرے کے روایات کا علمبردار مرد محبت کے نام پر جنسِ مخالف کو زبردستی حاصل کرنے میں نہ صرف فخر محسوس کرتا ہے بلکہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جانے میں نہیں ہچکچاتا۔
محبت کی اگر چند لفظوں میں سادہ سی تعریف بیان کردی جائے تو وہ ہے اپنوں سے جڑے رہنے کا خوبصورت احساس اور ان کی خوشی میں راضی رہنا مگر ہمارے بیشتر  مردوں نے دراصل اپنی کمزوریوں اور نفرتوں کو محبت کا نام دے کر جو ایک نیا بیانیہ تخلیق کیا ہے اس کی رو سے محبت کا احساس بے غیرتی اور کسی حد تک بزدلی  کے زمرے میں آتا ہے، چاہے وہ شرعی بیوی سے ہو، غیر شرعی محبوبہ سے،جنم دینے والی ماں سے ہو یا پھر اپنی سگی بہن سے۔ کہیں محبت کا اظہار کرنے والا شوہر زن مرید کا طعنہ سنتا ہے تو کہیں اپنی بہن یا بیٹی کی خوشیوں کو ترجیح دینے والا مرد بےغیرت کہلاتا ہے۔ مگر اس کے الٹ اگر دیکھیے تو شوہر کی محبت میں جان لٹانے والی بیوی قابلِ تقلید اور اپنی خوشیوں کو قربان کرنے والی بیٹی یا بہن قابلِ فخر گردانی جاتی ہے۔اپنی خوشی کے لیے مرد چاہے تو عورت کو زبردستی حاصل کرے، وہ نہ مانے تو اس کے چہرے پر تیزاب ڈال کر اسے کبھی کسی کا نہ ہونے دے یا سرے سے جان ہی لے لے۔
اور کیا معاشرے کا بڑا حصہ اس سب میں مصروف نہیں؟ تو اتنی منافقت،جھوٹ، ریاکاری اور دھوکے بازی کے بیچ محبت کی گنجائش ہے کہاں؟ اور کیسے اس کی روح کو سمجھا جائے کہ یہاں تو آنکھوں پر نفرتوں کا گہرے پردے پڑے ہیں۔ احساس کی جگہ بےحسی نے لی ہے تبھی تو نہ انسانیت کے مظاہرے ہیں، نہ محبت کی خوشبو پھیلی محسوس ہوتی ہے، نہ روح کو مضمحل ہونے سے روکتی رسیلی دھنیں ہیں اور نہ ہی دلوں میں امید کے دیے جلتے ہیں۔  اگر کچھ ہے تو وہ غیض ہے اور نفرتوں کے شعلے ہیں جو بظاہر پرسکون نظر آتے ہمارے جسموں کا ایندھن بنے ہوئے ہیں جس میں نہ صرف ہمارے وجود لمحہ لمحہ جھلس رہے ہیں بلکہ معاشرے کو بھی جلا کر راکھ کرتے چلے جارہے ہیں۔ ہم پھولوں کی بجائے کانٹے اگانے میں مصروف ہیں۔ یہ جانے بغیر کہ کانٹے پھولوں کے ساتھ لگے ہوں، رستے پرخار بنائے ہوئے ہوں یا پھر ذہن اور دل میں پیوست ہوئے ہیں اگر انہیں وقت پر نکالا اور ہٹایا نہ جائے تو اذیت تا دیر بھگتنی پڑتی ہے۔ تاوقتیکہ کوئی مسیحا انہیں چن نہ لے۔ اور بھلا اپنے آپ سے بڑھ کر کون کسی کے دکھ اور درد کا مداوا کر سکتا ہے۔
ہمارے لیے یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ محبت تو کائنات کی تخلیق میں شامل وہ بنیادی اکائی ہے جس کے سبب ہر شے کا توازن برقرار ہے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ایسے جذبے کو صرف دو جسموں کے اتصال سے منسلک کیا جائے۔ کیونکہ یہ جتنی بھی خوبصورتی ہمارے اطراف بکھری ہوئی ہے، وہ اس خاص محبت کا کمال ہے جو میرے رب کو اپنی مخلوق سے ہے۔ پھر ہم کیوں بھلا اس خوبصورت احساس سے منکر ہوئے جارہے ہیں ؟ اور اس خوبصورت احساس سے ایسی خوفناک تشبیہات جوڑے رکھی ہیں کہ واقعی محبت قبیح فعل نظر آنے لگی ہے۔ ضرورت ہے تو بس اس احساس کی جس کی رو سے زندگی ایک بیش قیمت تحفہ ہے جس سے خوشیاں کشید کرنے اور دوسروں میں بانٹنے میں اگر صرف کردیا جائے تو زندہ رہنے کو جواز میسر آجائے۔اور سال میں ایک دن محبت کا بائیکاٹ کرنے سے اچھا ہے کہ پورے سال کو محبتوں سے مہکائے رکھیں کہ اس دن ہمیں دنیا کو یہ نہ بتانا پڑے کہ ہم محبت سے گھبرائی ہوئی قوم ہیں اور لاشوں اور جنازوں پر اپنے احساسات کو پروان چڑھاتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments