سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی باتیں اور ممبران اسمبلی

تحریر: ںثارعلی

گزشتہ دو دنوں سے سوشل میڈیا پر ممبرقانون ساز اسمبلی گلگت بلتسان غلام حسین ایڈوکیٹ کی طرف سے سوشل میڈیا کے اہک پوسٹ پر کی جانے والی نازیبا کمینٹس کی سکرین شارٹ بنا کر سینکڑوں لوگ شئیر کرتے ہوئے نہ صرف مذمت کر رہے ہیں بلکہ انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنا یا جا رہا ہے۔ غلام حسین نے کمینٹس میں جن الفاظ کا چناؤ کیا وہ قابل اعتراض ہیں ۔ لیکن یونس بلتی نامی نوجوان بھی اس پوسٹ کے زمہ دار ہیں انہوں نے انہیں ایسے پوسٹ کرنے پر مجبور کیا( جو کہ نہیں کرنا چاہئیے تھا)۔

کہانی کی شروعات 24 فبروری رات 10 بج کر دس منٹ پرجنرل سکرٹری پی پی پی گانچھے نظر کاظمی کی طرف سے کی جانیوالی ایک پوسٹ سے ہوتی ہے۔ جس میں وہ لکھتے ہیں ” خپلو گانچھے ملدومر بیاوی رانگاہ پر معاوضہ دئیے بغیر سرکار کا غریب عوام کی زمین پر زبردستی قبضہ ۔سرکار ہوش کے ناخن لیں عوام اب اس کالے قانون کی شدید مذمت کرتی ہےاور پیپلز پارٹی سرکار کےاس کالا قانوں کی کی شدید مزمت کرتی ہے۔اور پیپلز پارتی سرکار کے اس کالے قانون کے خلاف بہت جلد احتجاج کی کال دے گی اور سرکار کے اس اقدام کے خلاف دھرنا دے گی۔”

اس پوسٹ پر بلتستان سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا کے صارفین نے کمینٹس کے زریعے انتظامیہ کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ پوسٹ سے شروع ہونے والی بحث کے دوران یونس نامی نوجوان نے کمنٹس کر تے ہوئے الفاظ کا چناؤ کچھ یوں کیا۔

” بھائی پی ایم ایل این کے جو کتے ایم ایل اے ہیں، انکو گھر سے نکال لیں”۔

اس کا جواب دینے کے لئے حلقہ 2 گانچھے کے نمائندے غلام حسین ایڈوکیٹ نے کمنٹس میں جن الفاظ کا سہارا لیا ( جسکوصحافت کی اخلاقیات کا خیال رکھتے ہوئے لکھنا مناسب نہیں) وہ نہ صرف قابل اعتراض ہیں بلکہ قابل مذمت بھی ہیں۔

مگردوسری طرف بھی نظر دوڑانے کی ضرورت ہے کہ یونس بلتی نامی نوجوان نے اپنے رائے میں ایم ایل اے کے لئے کتے کا لٖفظ کا انتخاب کیا، کیا وہ درست ہیں؟ جس کی کسی نے بھی مذمت نہیں کی۔۔۔۔۔ میں بطور صحافت کے طالب علم کی حثیت سے یونس بلتی کے نازیبا الفاظ کی مذمت کرنا بھی اپنا فرض سمجھتا ہوں۔۔

آئین پاکستان 1973کے آرٹیکل 19 کی رو سے شہریوں کو آزادی اظہار رائے کا حق صرف شرافت اور اخلاقیات کےدائرے میں رہتے ہوئے حاصل ہیں۔

11 اکتوبر 2017 کو عرفان بلتستانی نامی نوجوان جو کہ جرمنی مین مقیم ہیں، نے کے آئی یو کیمپس سکردو کو بلتستان یونیورسٹی میں ضم کرنے کے سلسلے میں کچھ  پوسٹس کی تھیں، جن کے جواب میں صوبائی وزیرتعلیم نے اُسے ” کتے کا بچہ ” کا کہا تھا۔ بعدازاں جب عوام کی طرف سے شدید تنقید کے بعد صوبائی وزیر نے صرف اپنے کمنٹ کو ڈیلیٹ کیا، بلکہ اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے زریعے معذرت بھی کر لی۔   

  سوشل میڈیا کے ایکٹیو صارف کی حثیت سے میں کچھ واقعات کا بھی عینی شاہد ہوں، جب دیگر ممبران اسمبلی جن میں میجر(ر) محمد امین اور ڈپٹی سپیکر  جعفر اللہ خان شامل ہیں، نے عوام کی طرف سے معمولی تنقید کرنے پر جواب میں قابل اعتراض، غیر مہذب اور نا شائستہ الفاظ کا سہارا لیا۔ 

وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن کو سختی سے نوٹس لیکرممبران اسمبلی پر سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی، غیر مہذب اور ناشائستہ الفاظ کا استعمال کرنے پر پابندی لگانے کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف عوام اور بل الخصوص نوجوانوں کو سیاسی نمائندوں پر تنقید کرتے وقت اخلاقیات اورادب کو خاطر ملحوظ رکھنا چاہئیے۔ تنقید برائے تذلیل نہیں بلکہ تنقید برائے اصلاح کی روش اپنانی چاہیے۔ 

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments