پس چہ باید کرد؟

تحریر:حبیب اللہ آل ابراہیم
کم سن یچوں کے ساتھ پے درپے پیش آنے والے جنسی تشدد کے واقعات کے بعد بھی ہمارے معاشرے کے ذمہ داروں اورحکمرانوں کی آنکھیں نہیں کھلیں۔قصورمیں کم سن بچی زینب کو ایک درندہ صفت شخص نے نہ صرف ہوس کا نشانہ بنایا بلکہ اس معصوم کلی۔کو مسل بھی ڈالا لیکن بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی این جی اوز اور وقت کی حکومت نے اس واقعے سے سبق حاصل کرکے بچوں کے تحفظ کویقینی بنانے کے لئے تسلی بخش کام نہیں کیا۔اس واقعے کے بعد پنجاب سمیت ملک کے مختلف شہروں میں اسی طرح کے متعدد واقعات رونماہوئے لیکن کسی بھی ذمہ دارکے کانوں پرجوں تک نہیں رینگی دینی حلقے اورعلماء کرام نے بھی چپ کا روزہ نہیں توڑا ۔عوام نے بھی ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے شعور اجاگر کرنے اور حکمرانوں کو قانون سازی پر مجبور کرنے کیلئے زندہ اور مہذب قوم ہونے کا ثبوت فراہم نہیں دیا۔معصوم بچوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی اطلاع پرفوری کارروائی کرنے میں محکمہ پولیس کے ذمہ داروں نے روایتی سستی اورغیر معمولی کوتاہی کا عملی مظاہرہ کیا جس نے ایسے واقعات کے رونما ہونے میں مدد کی۔علی پوراسلام آباد میں ایک کم سن بچی فرشتہ کے اغواء کی رپورٹ درج کرنے کیلئے جانے والے لواحقین سے پولیس تھانے کی صفائی کا کام لیتی رہی اگرپولیس بر وقت کارروائی کرلیتی تو بچی کی زندہ بازیاب ہونے کی قوی امید تھی اس طرح کے کئی واقعات دیگرعلاقوں میں بھی پیش آئے جن کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے بروقت کارروائی کرنے کے بجائے روایتی سستی کا عملی مظاہرہ کیا۔قصورسے گلگت تک کی کم سن زینبوں  کے ساتھ پیش آنے والے واقعات سے ایسا محسوس ہورہاہے جیسے ہم انسانی معاشرے میں نہیں بلکہ جنگل میں رہ رہے ہیں۔اسلام نے بیٹی کی عزت اس وقت کی جب عرب معاشرے میں بیٹوں کو ننگ تصورکرکے زندہ درگورکیا جاتاتھا۔رسول اکرم ۖ کی زندگی میں بچوں سے پیارکرنے کے کئی واقعات ملتے ہیں آپ ۖ کا حکم ہے کہ بچوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئو اور انہیں نیکی کی باتیں بتائو لیکن ہم قولی اورزبانی حد تک ان احادیث اوراحکامات پرعمل پیراہیں ۔دین پرکٹ مرنے کیلئے ہرکوئی تیارہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ دین پرعمل کرنے والے خال خال ہیں۔
مہذب اقوام میں کوتاہی سرزد ہونے کے بعد ذمہ داروں کی تعین کے لئے احتجاج اور دھرنوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔نیوزی لینڈ کی دومساجد میں ہونے والے حملوں کے بعد وہاں کی وزیراعظم نے نہ صرف متاثرین کے زخموں پر مرہم رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی بلکہ ایسے واقعات کی تدارک کیلئے جہاں قانون سازی کی وہاں خطرناک اسلحوں کے لائسنس منسوخ کرکے ان کی جمع آواری کی گئی لیکن ہمارے ملک میں حکمرانوں کی غفلت اورکوتاہی سے رونما ہونے والے ان گنت واقعات نے ان کے دلوں کو پتھربنادیا ہے جس کے باعث ایسے واقعات کے رونما ہونے پرکسی قسم کے ردعمل دیکھنے میں نہیں آتا۔عوام بھی بریکنگ نیوز دیکھنے اورپڑھنے کے عادی ہوچکے ہیں ایسے واقعات کے رونما ہونے کے بعد بھی کسی قسم کا ردعمل سامنے نہیں آتا۔عوام کی خاموشی معاشرے کو درندوں کے معاشرے میں بدل دیتی ہے ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اگرحکومت نے سستی اورکوتاہی کا مظاہرہ کیا تو کم از کم باشعور طبقہ ان کو قانون سازی اورمجرموں کو سخت سے سخت سزادلانے کیلئے دبائو میدان میں اترتے لیکن مجال ہے زبانی اظہار مذمت کے علاوہ کسی نے بھی۔سنجیدہ کوشش کی ہو۔اسلام رحم وکرم کا دین ہے انسانوں کیساتھ جانووں پربھی رحم کرنے کی  تلقین کرتاہے ۔بوجھ اٹھانے والے جانوروں کے بچوں پربوجھ لادنے کی اسلام ممانعت کرتاہے لیکن انسانوں کے معاشرے میں رحم عنقاہوکررہ گیاہے ۔بچوں سے پیاراسلامی تعلیمات کا حصہ ہے دورحاضرمیں بچوں کے ساتھ پیش آنے والے بے رحمانہ واقعات سے  ایسا محسوس ہورہاہے جیسے ہم من حیث قوم ترقی کی طرف نہیں تنزلی کی طرف جارہے ہیں۔قصورسے گلگت تک کم سن بچوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات نے زمانہ جاہلیت کو بھی شرما دیا ہے۔ایسے غیرانسانی افعال کی جنتی زیادہ مذمت کی جائے کم ہے لیکن یہ مذمتی بیان،کسی افسر یااہلکار کی سرزنش و معطلی اسی طرح کمیشن اور جی آئی ٹی کی تشکیل اگرچہ دور حاضرکا فیش ہے لیکن یہ مسئلے کا حل کسی صورت نہیں ہے ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان سے لے کربے نظربھٹوکی شہادت تک کتنے کمیشن بنے !ان کی رپورٹ اورسفارشات کہاں چلی گئیں اوران پرکس حدتک عملدرآمد ہوااس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں پولیس کی کارکردگی روزاول سے تسلی بخش نہیں ہے۔رشوت ستانی اورجرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کے حقیقت پرمبنی الزامات شروع سے ہیں انصاف کے ساتھ کھلواڑ کی ابتداء تھانے سے ہوتی ہے۔اقرباء پروری،غریبوں کے ساتھ ظلم وستم اوراختیارات کا ناجائز استعمال پولیس کا پرانا شیوہ ہے جو آج تک چلا آرہاہے اس میں کسی قسم کی تبدیلی لانے اورتھانہ کلچرکو ختم کرکے پولیس کو عوام دوست بنانے اورپولیس کے بارے میں عوام کے زہنوں میں جو خوف اور نفرت ہے اس کو ختم کرنے کیلئے ابھی تک کوئی اقدامات نہیں ہوئے نہ ہی اس حوالے سے پولیس کی زہن سازی یا تربیت کا کوئی اہتمام کیا جارہاہے۔عدالتوں سے بھی انصاف کے حصول کیلئے صبرایوب اورقارون کی دولت درکارہے اس طرح کے نظام میں تبدیلی لانے اورانصاف کے حصول کو آسان بنانے کیلئے نعروں اورجھوٹے اعلانات کے علاوہ کسی نے بھی کوئی کام نہیں کیا۔انصاف کے حصول میں حائل رکاوٹوں اور دشواریوں سے تنگ آکرایک غریب بیٹی کے غریب باپ کی دریا میں چھلانگ لگاکر خودکشی نظام حکومت اور وقت کے حکمرانوں کے منہ پر زور دارطمانچہ ہے۔ملک میں بچوں کے حقوق کے تحفظ خاص طور پر چائلڈ لیبرکی روک تھام کیلئے متعدد این جی اوز موجود ہیں لیکن ان کی کارکردگی ٹھنڈے کمروں یا فوٹوسیشن تک محدود ہے عملی طور پر ملک میں بچوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے ان سے ان کا کوئی سروکار نہیں ہے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے کام کرنے کے بجائے ایسے واقعات کے رونما ہونے کے بعد واویلا زیادہ کرتی ہیں۔قصورکی زینب کے ساتھ پیش آنے والے ناخوشگوار واقعے کے بعد حکومت وقت اور این جی اوز نے بقدرجثہ سیاست چمکانے اور پوائنٹ سکورنگ کی کوشش کی ۔کسی نے بھی ایسے بھیانک واقعات کی روک تھام اور اپنے بچوں کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے سنجیدہ کوشش یا قانون سازی کی طرف توجہ نہیں دی۔موجودہ حکومت کو یوٹرن لینے اورکرسی بچانے میں جبکہ اپوزیشن کرسی چھیننے میں مصروف ہیں۔اقتدار چھن جانے کا غم غلط کرنے کے لیے آل پارٹیزکانفرنس بلائی جاسکتی ہے لیکن اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات کرنے کا کسی کے پاس بھی وقت نہیں ہے۔حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کو آئین سمیت ملک وقوم اس وقت خطرے میں نظرآتی ہیں جب ان سے اقتدار کی کرسی چھن جائے ورنہ اقتدارکی کرسی پر براجمان ہوکرسب کو ساون کے اندھے کی طرح ہر چیز ہری نظرآتی ہے۔نسل نو کی تعلیم و تربیت اور ان کو درپیش مسائل کا حل ملک میں آنے والی کسی بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں رہی۔اس وقت ملک میں صحت مند سرگرمیوں کا شدید فقدان ہے۔بے روزگاری عروج پرہے۔دینی جماعتوں کی پوری توجہ اب سیاست کی طرف چلی گئی ہے۔مدارس کو این جی اوز کی شکل میں چلانا شروع کردیا ہے جہاں سے سالانہ کروڑوں کی آمدنی ہوتی ہے جبکہ چھوٹے مدرسوں سے کوئی آمدنی نہیں ہوتی۔دوسری طرف والدین بھی بچوں کیلئے دینی تعلیم دلانے کا قائل نہیں ہیں نتیجتاًمعاشرہ دینی اقدار اور تعلیمات سے دور چلاج جارہا ہے جس سے ایسی برائیاں جنم لے رہی ہیں۔اس وقت جو دینی جماعتیں خاص طورپرگلگت بلتستان میں کام کررہی ہیں ان کی وجہ سے عوام کے مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں جو نمائندے اس وقت دینی جماعتوں کی طرف سے نمائندگی کررہے ہیں ان میں دینی جماعت کے نمائندوں کی خصوصیات نہیں ہیں۔ہارس ٹریڈینگ ،ووٹ کے لئے پیسے لینا،ٹھیکوں کی بندربانٹ،مک مکائو اور دیگر الزمات ہیں جن کی وجہ سے جہاں گلگت بلتستان کی مذہبی حلقوں اورعوام میں ان کا احترام ختم ہوتا جا رہا ہے وہاں ان کی مقبولیت میں بھی دن بدن کمی دیکھی جارہی ہے اس طرح آنے والے وقتوں میں دینی اور دیگر سیاسی جماعتوں میں چنداں فرق نہیں رہے گا۔جس پالیسی کے تحت یہ دینی سیاسی جماعتیں آگے بڑھ رہی ہیں اس سے مستقبل قریب میں گلگت بلتستان کے مسائل میں اضافہ اوردشواریاں بڑھ سکتی ہیں۔
جنسی تشدد میں اضافے کی ایک وجہ شعور و آگاہی کا فقدان بھی ہے سرکاری سکولوں میں جہاں نظام تعلیم ابتر صورتحال سے دوچار ہے وہاں زیرتعلیم بچوں کی تربیت خاص طور پر غیرنصابی سرگرمیوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے مگراس طرف توجہ دینے اور طلبہ میں نصابی سرگرمیوں کے ساتھ غیرنصابی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں سرکاری سکولوں میں طلبہ میں مقابلے کا رجحان بھی کم ہے۔اس وقت تعلیم کے ساتھ ساتھ غیرنصابی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور مقابلے کے رجحان کے فروغ کیلئے اقدامات وقت کی ضرورت ہے۔سزا وجزا کا فقدان بھی ایسے واقعات کے رونما ہونے کی ایک وجہ ہے اب تک رونما ہونے والے ایسے واقعات کے بعد بااثر مجرموں اور غفالت کا مرتکب قرار پانے والے پولیس اہلکاروں کو بچانے کیلئے مقدمے کا رخ بدلاگیا ہے ۔گلگت میں رونما ہونے والے واقعے میں ایسا ہی کیا جانے کی کوشش ہورہی ہے حالانکہ میڈیکل رپورٹ میں زیادتی ثابت ہونے کی اطلاع سامنے آرہی ہے۔مجرم یا پولیس اہلکاروں کو بچانے کا یہ عمل معاشرے میں اس طرح کے واقعات کے رونما ہونے کی وجہ بن رہاہے جس کی روک تھام اور مجرموں کو خواہ وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے قانون سازی ہونی چاہئے اس حوالے سے ہونے والی کوتاہیاں معاشرے میں مزید برائیاں جنم دیں گی۔
نوجوانوں کیلئے مثبت اورصحت مند سرگرمیوں کے انعقاد کے مواقع موجود نہیں ہیں۔صحت مند معاشرے کے قیام کے لئے صحت مند سرگرمیوں کے مواقع پیداکرنا نہایت ضروری ہے۔کھیلوں اورعلاقائی تہواروں کے انعقاد کے بے شمار مواقع ہیں ان کے انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے حکومتی سرپرستی ضروری ہے اس حوالے سے اب تک حکومت کی طرف سے عدم دلچسپی کا عملی مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔علاقائی اورسیاحتی میلوں اورتہواروں کے انعقاد کویقینی بنانے کیلئے حکومت اقدامات کرے۔حکومت کی طرف سے سرپرستی نہ ہونے سے علاقائی تہواریں معدومی کی طرف بڑھ رہی ہیں ان کو دوبارہ زندہ کرنے سے جہاں علاقے کا مثبت چہرہ سامنے آئے گا وہاں نوجوان نسل کو مثبت اورصحت مند مواقع میسرآئیں گے۔حکومت نوجوانوں کیلئے مثبت اورصحت مند سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کے مواقع پیداکرے۔
بے روزگاری اور دینی تعلیمات سے دوری بھی ایسے واقعات کی ایک وجہ بن رہی ہے۔حکومت علاقے میں زیادہ سے زیادہ روزگارکے مواقع پیداکرنے کیلئے سنجیدگی سے کام کرے اس کے علاوہ دینی تعلیمات کے بارے میں آگاہی دلانے کیلئے بھی نظام وضع کرے۔اب تک پیش آنے والے واقعات پرسنجیدگی کا مظاہرہ نہ کرنے سے اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہورہاہے۔دراصل حکمرانوں کو اقتدارکی کرسی عزیز اور اس سے دلچسپی ہے غریب روزاول سے مصائب وآلام کی چکی میں پس رہے ہیں اور مجبوریوں کے پہاڑ تلے دبے ہوئے ہیں اہل اقتدارکو عوام اس وقت یاد آنا شروع ہوتاہے جب وہ خود کسی مشکل میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔آخر میں ایک نامعلوم شاعرکی نظم نذرقارئین ہے۔
نصیحت روزبکتی ہے عقیدت روزبکتی ہے
تمہارے شہرمیں لوگو!محبت روزبکتی ہے
امیرشہرکے در کا ابھی محتاج ہے مذہب
ابھی ملاکے فتوئوں میں شریعت روزبکتی ہے
ہمارے خون کو  بھی وہ کسی دن بیچ ڈالے گا
خریداروں کے جھرمٹ میں عدالت روزبکتی ہے
نجانے لطف کیا ملتا ہے ان کو روزبکنے میں
طوائف کی طرح لوگو!قیادت روزبکتی ہے
کبھی مسجد کے منبرپرکبھی حجرے میں چھپ چھپ کر
مرے واعظ کے لہجے میں قیامت روزبکتی ہے
بڑی لاچارہیں جاناں،جبینیں ان غریبوں کی
کہ مجبوری کی منڈی میں ضرورت روزبکتی ہے
وماعلنا الا البلاغ
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments