سی پیک اور گلگت بلتستان 

گلگت بلتستان سی پیک کا گیٹ وے اور انٹری پوائنٹ ہے اس منصوبے کا شمارنہ صرف دنیا کے سب سے بڑے معاشی منصوبوں میں ہوتا ہے بلکہ خطے میں گیم چینجر منصوبہ بھی ہے جو دو اہم اٹامک پاور ملکوں کے مابین ہورہا ہے پاکستان اور چین کے مابین شروع ہونے والے دنیا کے سب سے مہنگے اور انقلابی منصوبے کے بعد پاکستان اور گلگت بلتستان کی تقدیر بدل جائے گی ترقی اور خوشحالی کا دور دورا ہوگا جہاں تک سی پیک میں گلگت بلتستان کو محروم رکھنے کی باتیں چل رہی ہے وہ اپنی جگہ لیکن پاکستان کے دیگر صوبوں کو ملنے والی اقتصادی راہداری کے ثمرات بھی یقیناًگلگت بلتستان پر گہرے اثرات مرتب کریں گے بتایا جاتا ہے کہ سی پیک روڈ سے ہر 25 منٹ بعد کنٹینررز گزرے گی گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کے مطابق سی پیک میں خطے کے اہم پراجیکٹس جن میں انرجی کے قابل ذکر منصوبے جن میں نلتر 16 میگاواٹ ،عطا آباد 27 میگاواٹ ، بلتستان ریجن میں 33 میگاواٹ ،گلگت یونیورسٹی ایریا میں 100 میگاواٹ بجلی کے منصوبے سی پیک کا حصہ ہے جبکہ بابو سر روڈ ،استور ویلی روڈ ،گلگت چترال ایکسپریس وے گلگت بلتستان میں سی پیک کے اہم منصوبوں میں شمار ہے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر اس وقت ملک دشمن طاقتوں کی نظریں ہیں ہمسائے میں تاک میں بیٹھا ہمارا ازلی دشمن بھارت پاکستان اور چین کے مابین ہو نے والے اس اہم قومی منصوبے کو سبوتاز کرنے کے درپے ہے ہندوستان مختلف حربوں اور سازشوں کے زریعے سی پیک کو ناکام بنانے پر تُلا ہوا ہے سی پیک کی کامیابی کے لئے گلگت بلتستان میں امن و امان کا قیام نہایت ضروری ہے جب تک گلگت بلتستان میں امن قائم رہے گا کسی کی مجال نہیں کہ وہ اس منصوبے کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھے بھارت اپنے ناکام عزائم میں ہمیشہ ناکام رہا ہے لیکن وہ اپنے حواری ملکوں کے ساتھ مل کر سی پیک کو ناکام بنانے کی کوشش ضرور کرے گا کبھی ایل او سی پر اپنی جارحیت بڑھائے گا تو کبھی پاکستان کے دشمن ممالک کاسہارا لے کر دوستانہ ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرسکتا ہے سی پیک اور گلگت بلتستان لازم و ملزوم ہیں اہم روٹس اور تجارتی سرگرمیاں گلگت بلتستان میں بھی ہونگی خطے کے عوام سی پیک کو گلگت بلتستان کے لئے ترقی او رخوشحالی کا مظہر سمجھتے ہیں اس اہم قومی منصوبے کی تکمیل کا مرحلہ اور آغاز تو ہوچکا ہے لیکن دنیا کے دیگر ممالک بھی شریک بننے کے خواہاں نظر آرہے ہیں انرجی اور سڑکوں کے بڑے پراجیکٹس کو سی پیک میں شامل کرنے کے بعد گلگت بلتستان کی تقدیر بدل جائے گی خطے میں معاشی انقلاب برپا ہوگی سیاحت اور معدنیات جیسے اہم شعبوں میں ترقی ہوگی اور گلگت بلتستان میں بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا پاکستان اور چین کی ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری دوستی کا مظہر اقتصادی راہداری منصوبہ ہے چین اقتصادی لحاط سے اس وقت دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا ہے لیکن پاکستان ترقی پذیر ممالک میں شامل ہے سی پیک کے بعد پاکستان کی طاقت دنیا میں مزید اُجاگر ہوگی پاکستان عالم اسلام کا قلعہ ہے اس کی مضبوطی اور استحکام اسلام کی بقا کا ضامن ہے ایران بھی سی پیک کا تیسرا فریق بننے کے لئے پر تول رہا ہے جبکہ دیگر عالمی طاقتیں اور بھارت سی پیک سے شدید خوفزدہ ہیں حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ عوام بالخصوص گلگت بلتستان کے عوام کو سی پیک کی اہمیت اور منصوبوں کے بارے میں آگاہی دیں نئی نسل کو اس اہم قومی منصوبے کی اہمیت اور اس سے حاصل ہونے والے ثمرات سے آگاہ کریں تاکہ یہ منصوبہ کامیاب اور عالمی سطح پر ماڈل منصوبہ ثابت ہوسکے ہمیں اپنی قومی سا لمیت سب سے زیادہ عزیز ہے پاکستان ہماری منزل اور شہ رگ ہے ہم نے ہی ایک قوم بن کر اس اہم قومی تعمیر و ترقی کے ضامن منصوبے کو کامیاب کرنا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments