مراعات اور بھاری تنخواہوں کے باوجود سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی غیر تسلی بخش

سکردو ( خصوصی رپورٹ ،رجب علی قمر ) گلگت بلتستان میں اساتذہ بھاری تنخواہیں ،مراعات اور پُرکشش سہولیات سے مستفید ہونے کے باوجود سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے اساتذہ سرکاری تنخواہوں اور مراعات لینے کے باوجود تعلیمی اداروں میں وضع کردہ نظام تعلیم کی بہتری اور سکولوں کی حالت پر ٹھیک سے توجہ دینے سے قاصر ہیں جس کے باعث اساتذہ کی من مانیاں اور موجیں ہی موجیں ہے بالائی علاقوں تعلیمی نتائج اور نظام تعلیم حکومتی دعوؤں کے برعکس سامنے آرہے ہیں گلگت بلتستان جعرافیائی لحاظ سے دس اضلاع پر مشتمل ہے صوبے کے تمام اضلاع میں سرکاری سکولوں میں تعینات پرنسپل ،اساتذہ اپنے فرائض منصبی کو احسن طریقے سے نبھانے میں ناکام ہیں حکومتوں کی جانب سے تعلیم کے لئے بھاری بجٹ اور خاص کر موجودہ حکومت کی طرف سے بھی تعلیم کے لئے زیادہ بجٹ مختص کرنے کے باوجود تعلیمی اداروں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے جبکہ پرائیوٹ تعلیمی ادارے دن رات ترقی کی طرف جارہے ہیں لیکن سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی سوالیہ نشان بن رہا ہے جبکہ حالیہ دنوں قانون ساز اسمبلی سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی فدامحمد ناشاد نے بھی سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان میں اساتذہ بھاری تنخواہیں لینے کے باوجود کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments