شامی بچے کی فریاد

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

الغوطہ کے ایک ہسپتال میں 7سال کا شامی بچہ الولید زخمی حالت میں زیر علاج ہے ۔ وہ سینکٹروں زخمیوں میں سے ایک ہے۔ شام کے 50ہسپتالوں میں زیر علاج 2ہزار زخمیوں کو معلوم نہیں کہ کہ وہ کس جرم میں زخمی کئے گئے۔ مخبر صادق بنی کریم ﷺ کی حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ قربِ قیامت کی ایک علامت یہ ہے کہ قتل ہونے والے کو معلوم نہیں ہوگا کہ مجھے کیوں قتل کیا جارہا ہے ؟ قتل کرنے والے کو معلوم نہیں ہوگا میں کیوں اس کو قتل کر رہا ہوں ؟ آج پاکستان اور افغانستان سے لیکر شام اور یمن تک اسی طرح کی لڑائی جاری ہے۔ کلمہ گو قتل کر رہا ہے۔ کلمہ گو قتل یا زخمی ہورہا ہے۔ الغوطہ ہسپتال کے سالہ الولید کی جو تصویر شائع ہوئی ہے وہ ان ہی میں سے ایک ہے ۔ مجھے شبقدر چارسدہ کے ایک دوست کی طرف سے واٹس ایپ کے ذریعے جو تصویر اور عبارت ملی ہے اس میں درج ہے کہ شیعوں نے سُنیوں کو مارا ہے ۔اوڈیگرام سوات سے جو تصویر اور عبارت بھیجی گئی ہے اس کا لب لباب یہ ہے کہ سُنیوں نے شیعوں کو مارا ہے۔ امریکی یونیورسٹی ہارورڈ کے روسی نژاد پروفیسر چوسوڈوسکی ( Chussodvosky)نے تحقیق کے بعد یہ بات لکھی ہے کہ یہ روس اور امریکہ کی غائبانہ جنگ ہے ۔امریکہ کا مقصد یہ ہے کہ شام کی زرخیز زمینات اور باغات پر اسرائیل کا قبضہ ہوتا کہ اسرائیل مستقبل میں غذائی قلت سے دوچار نہ ہو۔ نیز شام میں تیل اور گیس کے وسائل امریکی معیشت کے کام آئینگے۔ روس کے تین مسائل ہیں۔ ولادی میر پیوٹن امریکہ سے افغانستان میں شکست کا بدلہ لے رہے ہیں۔جس طرح امریکہ نے ویت نام میں شکست کا بدلہ افغانستان میں لیا تھا۔ روس کا دوسرا موقف یہ ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ روس کی پرانی دوستی ہے۔ اسرائیل کیخلاف روس نے ہمیشہ فلسطینیوں کی مدد کی ہے اب بھی روس فلسطینیوں کی مدد کے لئے شام میں امریکہ اور اسرائیل کا راستہ روکنا چاہتا ہے۔ تیسرا مسئلہ وسائل پر قبضے کا ہے۔ روس کو مستقبل کی عالمی منڈی میں شام کے تیل اور گیس کی اتنی ہی ضرورت ہوگی جتنی آج امریکہ کو ہے۔ سوال یہ ہے کہ ترکی اور سعودی عرب کیا کر رہے ہیں؟ان کی مثال لومڑی اور لکڑ بھکڑ جیسی ہے۔ شیر شکار کرتا ہے۔بچی کھچی ہڈیوں کے لئے یہ بھی پہنچ جاتے ہیں۔ ترکی نے کُردوں کی دشمنی میں اور سعودی عرب نے شیعوں کی دشمنی میں اسرائیل کا ساتھ دیا ہے۔ 7سالہ زخمی بچہ الولید کو یہ معلوم ہے کہ اس کے ماں باپ مرگئے، دو بھائی مرگئے ایک بہن زخمی ہے اور ساتھ والے بستر پر اس کا علاج ہورہا ہے۔ مگر الولید کو یہ معلوم نہیں کہ کس کی لڑائی میں کس کے مفاد کے لئے اُس پر مصیبت کا یہ پہاڑ آگرا ہے۔ اس کو یہ بھی معلوم نہیں کہ 39اسلامی ممالک نے سعودی عراب کی سربراہی میں اتحاد کرلیا ہے کہ شام میں روس کو شکست دے کر شام کے وسائل پرامریکہ اور اسرائیل کا قبضہ کروایا جائے ۔ 7سالہ بچہ الولید اس بات سے بھی لاعلم ہے کہ گذشتہ 50سالوں سے یہ جنگ جاری ہے۔ شاہ فیصل کو اس لئے قتل کروایا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا قتل اسی سلسلے کی کڑی تھی ۔ جمال عبد الناصر اسی مقصد کے تحت قتل کئے گئے۔ صدام حسین، رفیق الحریری اور معمر قذافی کو اس مقصد کے حصول کی خاطر موت کی نیند سلا دیا گیا۔ محمد مُرسی کو اس مقصد کے لئے جیل میں ڈال دیاگیا۔ 7سالہ الولید کو یہ بھی معلوم نہیں کہ 2009ء سے لیکر 2011ء تک شام پر حملے کی منصوبہ بندی واشنگٹن تل ابیب اور ریاض میں ہوئی تھی۔ 2سالوں کی منصوبہ بندی میں یہ بھی دیکھا گیا تھا کہ اگر50 لاکھ یا 60لاکھ شامیوں کو مارنے اور کروڑ ڈیڑھ کروڑ شامیوں کو زخمی یا معذور کرنے کے بعد شام پر قبضہ ہو ا۔ تو امریکہ اور اسرائیل کے لئے خسارے کا سودا نہیں ہوگا۔ برطانوی نژاد امریکی مصنف اور سابق انٹیلی جنس کنٹر یکٹر جارج فریڈمین (G. Fridman)نے موجودہ لڑائی کو تیسری عالمی جنگ کا نام دیا ہے۔ ملیشیاء کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد اور اردن کے موجودہ بادشاہ عبد اللہ ثانی نے اپنی حالیہ تقریروں میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ عالمی طاقتوں نے جان بوجھ کر مسلمانوں کے اوپر دہشت گرد کا لیبل چسپان کردیا۔ آج اگر شاہ فیصل ، ذوالفقار علی بھٹو ، جمال عبد الناصر ، صدا م حسین اور معمر قذافی میں سے دو عالمی لیڈر بھی زندہ ہوتے تو مسلمانوں کی محکومی اور مغلوبیت کا یہ حال نہ ہوتا۔ شمالی امریکہ ، افریقہ اور سیکنڈ نیو یا کے 110ممالک کا بلاک ذولفقار علی بھٹو کو اقوم متحدہ کے سکرٹری جنرل کا عہدہ دینا چاہتا تھا۔ مگر راستہ روکنے والوں نے راستہ روک لیا۔ آج اگر شام میں مسلمان مارے جاتے ہیں تو امریکہ، اسرائیل یا روس کے مفاد میں مارے جاتے ہیں ۔ اس معنی میں وہ شہادت کا درجہ پاتے ہیں۔ کہ معصوم ہیں بے گناہ ہیں۔ دکھ اس بات کی ہے کہ 39مسلمان ممالک اس جنگ میں ریت کی بوری (Sand Bag) کے طور پر استعمال ہورہے ہیں۔ اگر امریکہ جیت گیا تو شام کی آزادی اور خودمختاری غلامی میں بدل جائیگی۔ امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کے اتحادی ممالک کو شکست ہوئی تو شام کی آزادی اور خود مختاری بر قرار رہے گی۔ شامی کُردوں کی قابل فخر تاریخ ہے ۔ صلیبی جنگوں میں مسلمانوں کو فتح سے ہمکنار کرنے والے سلطان صلاح الدین ایوبی کا تعلق کُرد نسل سے تھا۔ آج شامی کرُدوں کے خلاف مسلمانوں کے وسائل استعمال ہورہے ہیں۔فائدہ کسی اور کا ہے۔ 7سالہ شامی بچہ الولید زخمی ہے۔ معذور ہے اس کو امریکہ اور روس کے مفادات کا کوئی علم نہیں۔ پشتو محاورے کی رو سے وہ ’’املوک کے تول‘‘ ہسپتال لایا گیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments