ہنزہ کے گاوں‌مایون میں‌ووکیشنل تربیتی پروگرام کی اختتامی تقریب منعقد

ہنزہ،( پ ر) ڈپٹی سیکرٹری سوشل ویلیفر پاپولیشن احمد خان نے مایون گاؤں میں سنٹرل ایشیاء انسٹوٹ گلگت کے زیر اہتمام خواتین کے وکیشنل ٹرینگ کے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو امپاورمنٹ دینے میں سنٹرل ایشیا انسٹیوٹ کا کردار قابل ستائش ہے۔ اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ خواتین کو گھروں کے اندر قید کر کے رکھا جائے پہلے زمانے میں خواتین کو غربت کے باعث تعلیم حاصل نہیں کرسکتے تھے اب خواتین نے بھی مرودں کے شانہ بشانہ معاشرے میں تعمیرو ترقی میں ہاتھ بٹھانا شروع کیا ہے کو کہ قابل تحسین ہے ۔ سنٹرل ایشیاء انسٹیوٹ نے سماجی ترقی کو فوکس کر کے خواتین تو اُن کے حقوق کے لئے آواز بلند کیا ہے ۔ ڈپٹی سیکرٹری نے کہا کہ مستقبل میں گلگت بلتستان ایشیاء کا تجارتی مقام ہو گا۔سی پیک کی وجہ سے گلگت بلتستان میں ترقی ہو گا۔ اس کے لئے خواتین کو بھی تیار رہنا ہو گا۔ خواتین وکیشنل ٹرینگ کے علاوہ اپنے تعلیم پر بھی توجہ دے تو معاشرہ ترقی کے منازل طے کرئیگا۔ اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلیفر پالولیشن اینڈ ویمن امپاور منٹ سلمہ عزیز نے کہا کہ سوشل ویلیفر اور سنٹر ایشیا انسٹیوٹ کے مشترکہ تعاون سے گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں میں خواتین کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کے لئے مختلف تربیت کا انعقاد کر تا ہے ۔ تاکہ خواتین باصلاحیت ہو سکے۔ گلگت بلتستان کے کواتین میں وہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی تعمیر وترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ایڈمن فنانس سنٹرل ایشیاء انسٹیوٹ گلگت کریم لدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سنٹرل ایشیاء انسٹیوٹ گلگت بلتستان اور چترال میں خواتین کی تعلیم صحت اور خواتین کو اپنے پاوں پر کھڑا کر نے کے لئے کام کر رہی ہے۔ اب تک 5ہزار خواتین کو وکیشنل کی تربیت دی گئی ہے اور 23وکیشنل سکول مکمل کت کے کمیونٹی کے حوالے کیا جاچکا ہے ۔ اس طرح صحت کے حوالے سے بھی سنٹرل ایشیاء انسٹیوٹ خواتین کی صحت کے لئے اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔ تقریب سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کرتے ہوئے سنٹرل ایشیاء انسٹیوٹ کے کاوشوں کو سراہا۔ تقریب کے آخری میں مہمانوں نے تربیت حاصل کرنے والے خواتین میں اسناد بھی تقسیم کئے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments