گلگت بلتستان کا نظام تعلیم

تحریر ۔فیروز خان
جاوید چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیراور اس کی اہلیہ سرکاری سکول میں زیر تعلیم اپنے دو بچوں کی تعلیمی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھے انہوں نے سو چا کہ کیوں نہ بچوں کی بہتر رہنمائی کے لئے ٹیوٹر کا انتظام کیا جائے ۔یہی سوچ کر انہوں نے اپنے بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت کے لئے ایک ماہر تعلیم کی خدمات حاصل کر لی۔ وزیر اعظم کے بچوں کے لئے ٹیوٹر رمقرر کرنے کی خبر جب برطانیہ میں پھیل گئی تو برطانوی عوام آپے سے باہر ہو گئے اور ملک بھر میں وزیر اعظم کے خلاف احتجاج کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا احتجاج کرنے والوں کا صرف ایک ہی مطالبہ تھا کہ ایسے وزیر اعظم کو ملک پر حکمرانی کرنے کا کوئی اختیار نہیں جس کو اپنے ملک کے نظام تعلیم پر بھروسہ نہ ہو اسی دوران ٹونی بلےئر نے عوامی احتجاج کو سنجیدہ لیا برطانوی عوام سے معذرت کی اپنے بچوں کے ٹیوٹر کو فارغ کر دیا اور اپنی تمام تر توجہ برطانیہ کے تعلیمی نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے پر مرکوز کر دی اور کچھ ہی عرصے میں برطانیہ کے نظام تعلیم کو دنیا بھر کے لئے مثال بنا دیا ۔اس تمام تر تمہید کو باندھنے کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستان اور بالخصوص گلگت بلتستان میں سرکاری سطح پر تعلیم کے نام پر کھلواڑ کیا جا رہا ہے کروڑوں کی لاگت سے سکول کے نام پر عمارتیں بنائی گئی ہیں لاکھوں میں تنخواہیں دیکر چند ایک کے علاوہ تمام سفارشی اساتذہ بھرتی کئے گئے ہیں یہاں تعلیم کا دوہرا معیار شروع دن سے جاری و ساری ہے اگر گلگت بلتستان میں کوئی بھی شخص غریب نہ ہوتا توسرکاری سکول ویران ہوتے سرکاری سکولوں میں تعینات اساتذہ گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کررہے ہوتے اگر آج سرکاری سکولوں میں رونق ہے تو صرف غریبوں کی وجہ سے ہے وہ اس لئے کہ نہ تو یہاں کسی و زیر مشیر کا بچہ زیر تعلیم ہے نہ کسی بیوروکریٹ کایہاں تک کہ خود ان سکولوں میں تعینات اساتذہ کے بچوں نے شائد ہی کبھی سرکاری سکول کا رخ کیا ہویہ سب اس لئے کہ یہاں کے سرکار کو خود اپنے وضح کردہ نظام تعلیم پر بھروسہ نہیں سرکار اس بات سے باخبر ہے کہ جن لوگوں کو استاد بنا کر غریب کے بچوں کے لئے مقرر کیا گیا ہے اور وہ اس قابل نہیں کہ کسی وزیر، مشیر، اور بیورو کریٹ سمت خودوہ اپنے بچے کی مناسب ذہنی نشونما کرسکے۔یہاں تعلیم کا دوہرا معیار اپنایا گیا ہے یہاں سکول کی وردی سے لیکر سلیبس تک میں تضاد رکھا گیا ہے ہماری تاریخ میں کوئی ایک مثال ایسی نہیں جہاں کسی حکمراں نے اپنے بچے کو سرکاری سکول میں داخل کروایا ہو ۔خود سرکاری سکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذ ہ بھاری بھر کم تنخواہیں سرکار سے وصول تو کرتے ہیں لیکن وہ خوب جانتے ہیں کہ ان کے ہاتھ کے لگائے پودے سے پھلوں کا ملنا ممکن نہیں تو ایسے میں وہ اپنے بچوں کو بھاری فیسوں کے عوض انگلش میڈیم نجی سکولوں میں داخل کروا دیتے ہیں جہاں کسی غریب کا بچہ خواب میں بھی داخل نہیں ہو سکتا ۔ایسے میں سرکاری سکولوں اور وہاں تعینات اساتذہ کی اہلیت مشکوک ہوجاتی ہے ۔اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی سرکاری سکول میں اساتذہ سمت کسی بھی اعلیٰ سرکاری عہدیدار کے بچے زیرتعلیم نہ ہوں تو ایسے میں سرکاری سکولوں پر سرکار توجہ ہی کیوں دے چونکہ وہ تو مطمئن ہیں کہ ان کے بچے تو انگلش میڈیم سکولوں میں زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں رہا غریب کا بچہ جس کو کسی بھی طرح معیاری تعلیم سے دور رکھنا ہے یہ اس لئے ضروری ہے کہ مستقبل میں حکمرانوں کے بچوں کو حکمران بننا ہے اور ان کے حق میں نعرے دلوانے کے لئے سرکاری سکولوں سے غریبوں کے بچوں کو تربیت فراہم کرنا ہے غریب کا بچہ چاہے کتنا ہی قابل کیوں نہ ہواس میں صلاحیتوں کا پے پناہ ذخیرہ موجود کیوں نہ ہو وہ اس ملک اور خطے کی مشنری کا ایک ناکارہ پرزہ ہیوہ اپنی صلاحیتوں سے ملک و قوم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔اس کے برعکس امیرکابیٹانالائق اور نکما کیوں نہ ہو پھر بھی اس کے پاس ترقی کے مواقع موجود ہیں وہ اعلیٰ عہدوں تک با آسانی رسائی حاصل کر لے گا اور بلند منصب پر پہنچ کر منصب کی رسوائی کا سبب بنے گا ۔حاکمو اگر تم اپنی ذات سے نکل کر غریبوں کے لئے کچھ کر گزرنا چاہتے ہو تو اس دوہرے معیار تعلیم کو ختم کر دو ۔سب سے پہلے اپنے بچوں کو سرکاری درسگاہوں میں داخل کروا دو ۔سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو پابند کردو کہ ان کے بچے صرف سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم ہونگے ۔اگرتم نے آج یہ کردیا تو نہ صرف تمہارا نا م تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا جائے گا بلکہ آنے والی نسلیں تم پر فخر کریں گی۔خدائے ذوالجلال حکمرانوں کو ایسے عظیم کارنامے انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments