قومی عصبیت کا زہر اور نوجوان نسل

عمر حبیب

’’ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا،پھر تمہیں قومیں اور قبیلے بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔’’(حجرات: 13)

حضرت فسیلہ رحمتہ اللہ علیہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنے والد کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے دریافت کیا، کیا اپنی قوم سے محبت کرنا بھی عصبیت میں داخل ہے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ارشاد فرمایا، اپنی قوم سے محبت کرنا عصبیت نہیں بلکہ عصبیت یہ ہے کہ قوم کے ناحق پر ہونے کے باوجود آدمی اپنی قوم کی مدد کرے۔ (مسنداحمد)

ایک اور روایت حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ارشاد فرمایا، جو عصبیت کی دعوت دے وہ ہم میں سے نہیں، جو عصبیت کی بناء پر لڑے وہ ہم میں سے نہیں اور جو عصبیت (کے جذبے) پر مرے وہ ہم میں سے نہیں۔ (ابوداوء د)

تعصب ایک ایسا زہر ہے جو انسان کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کو محدود کردیتا ہے یا پھر بالکل ہی ختم کردیتا ہے۔ اس کے زیرِ اثر آنے والا سب کچھ دیکھ کر بھی کچھ نہیں دیکھ پاتا اور سب کچھ سننے کے باوجود کچھ نہیں سمجھ پاتا۔ دنیا میں پھیلی ہوئی تباہی اسی زہر کا نتیجہ دکھائی دیتی ہے۔آج ہمارے ملک پاکستان میں بھی عصبیت کا زہر تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے اور اسے روکنے کی اشد ضرورت ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب آپ کو اس زہر کے نقصانات کا علم ہوگا۔دشمن نے نظر یاتی ریاست پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے علاقائی عصبیت اور قومی عصبیت کا زہر قوم کی رگوں میں ایسے اتاراہے کہ پاکستان کی وحدانیت پر حرف آ رہا ہے پاکستان کے چاروں صوبوں میں عصبیت کا زہر کچھ اپنوں کی نادانیوں اور کچھ دشمن کی سازشوں سے پھیل چکا ہے لیکن گلگت بلتستان ہی ایک ایسا خطہ ہے جہاں رنگ نسل اور زبان کی وجہ سے آج تک کسی سے نفرت نہیں کی گئی بدقسمتی سے اب دشمن بہت ہی محتاط اور غیر محسوس انداز میں سوشل میڈیا کی مدد سے یہ زہر گلگت بلتستان میں پھیلا رہا ہے ،ظلم ظلم ہوتا ہے ،ظالم ظالم ہوتا ہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی علاقے اور قوم سے ہو ،ایک ظلم اور ایک ظالم کی وجہ سے کسی علاقے اور قوم سے نفرت کرنا جہالت کی انتہا ہے ،لاہور میں گلگت بلتستان کے طالب علم دلاور کی شہادت کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے لیکن اس کی شہادت کے بعد کچھ عناصر نے سوشل میڈیا میں جس طرح کی عصبیت پھیلانے کی کوشش کی وہ بھی قابل مذمت اور قابل نفرت ہے ،دشمن تو یہی چاہتا ہے کہ پاکستان میں قوم اور علاقے کی بنیاد پر تقسیم عمل میں آئے ،دلاور کی شہادت پر سوشل میڈیا میں کچھ لوگوں نے سمجھ کر یہ عمل کیا یا ناسمجھی بھی کیا ،یا دشمن کی چال تھی ،بہر حال گلگت بلتستان کی نوجوان نسل کو ایک خطرناک آگ کی طرف بڑھانے کی کوشش کی گئی ،دلاور شہید کی شہادت پر یہ اچھا عمل تھا کہ گلگت بلتستان کے نوجوانوں نے دنیا بھر میں قاتلوں کی گرفتاری کیلئے آواز بلند کی گلگت بلتستان کی حکومت نے بھی جدو جہد کی ،پنجاب کی حکومت بھی حرکت میں آئی اور قاتل گرفتار ہوئے ،اس ظلم کی کسی ایک پنجاب کے فرد نے حمایت نہیں کی سب نے مذمت کی پھر کیا دلیل تھی کہ جس کی بنیاد پر کچھ عناصر نے گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو عصبیت کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی ،گلگت بلتستان کی پہچان یہ نہیں ،گلگت بلتستان کے عوام کی پوری دنیامیں پہچان اگر ہے تو وہ ہے ہر انسان سے محبت اور مہمان نوازی ۔یہی پہچان باقی رہے تو ہماری نسلیں بھی ترقی کی منزلیں طے کرتیں رہیں گی ،اس لئے ضروری ہے کہ اہل دانش نوجوان نسل کو عصبیت سے دور رکھیں ،نفرتیں قوموں کی بناتیں نہیں بلکہ تباہ و برباد ضرور کرتیں ہیں ۔تعصب ہی وہ زہر ہے جو انسانوں میں نفرتیں اور دوریاں پیدا کرتا ہے ۔دنیا میں موجود خطے بھی اسی تعصب کے نتیجہ میں وجود میں آئے ہیں۔ کسی کو یہودی ہونے پر فخر ہے تو کسی کو عیسائی ہونے پر اور کسی کو مسلمان ہونے پر، کسی کو گورا ہونے پر فخر ہے تو کسی کو کالا ہونے پر۔ کسی کو زبان پر فخر ہے تو کسی کو قومیت پر فخر ہے، کسی کو ایک فرقہ ہونے پر فخر ہے تو کسی کو ایک مسلک ہونے پر۔ کسی کو اپنی ذات پر فخر ہے تو کسی کو اپنے علاقہ پر، یہ تقسیم در تقسیم کا عمل ہے جسے اگر پھیلاتے جائیں تو ایک نہ رکنے والا سلسلہ ہے جو انسان کو محدود کرکے اِس وسیع کائنات سے تعصب کے تنگ و تاریک خول میں بند کردے گا۔

دنیا کے بڑے بڑے مفکرین، دانشور، سیاستدان اور علماء دین اِسی تعصب کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ جان بوجھ کر اپنے مقاصد کیلئے اور کچھ انجانے میں اس زہر کے پیالے کو آب حیات سمجھ کر پیتے ہیں۔ لیکن یہ بات تو طے ہے کہ جس نے بھی اِس زہر کو پیا وہ تعصب کے ان تنگ و تاریک گلیوں کی بھول بھلیوں میں اس طرح بھٹک گیا کہ پھر اِسے واپسی کا راستہ نہیں ملا۔کسی بات پر فخر کرنا کسی بھی درجہ میں غلط نہیں ہے لیکن دوسروں کو حقیر جاننا دراصل بیماری کی اصل جڑ ہے۔ جہاں فخر ہوگا وہیں غرور بھی پایا جائے گا۔ اسی غرور نے ابلیس کو شیطان بنا دیا اور وہ جانتے بوجھتے بھی یہ کہہ بیٹھا کہ ’’میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے مٹی سے۔‘‘ پھر ایک انسان سے پیدا ہونے والی نسل خود کو ایک دوسرے سے افضل کیونکر سمجھنے لگی۔ملک کے اہل دانش اور اہل سیاست کی یہ زمہ داری ہے کہ نوجوان نسل میں پاکستانیت پیدا کرنے کیلئے اور علاقے اور زبان کی بنیاد پر تقسیم کو روکنے کیلئے اپنا موثر کردار ادا کریں نہیں تو دشمن اس زہر سے ہی ہماری نسلوں کو برباد کرے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments