غیر معیاری اشیاء خوردنی کی فروخت ۔۔ذمہ دار کون؟

تحریر : دردانہ شیر

پنجاب فوڈ اتھارٹی کی طرف سے تین درجن کے قریب خوردنی آئل کو مضر صحت قرار دے دیا ہے جس پر پنجاب میں تو اس آئل کی فروخت پر پابندی لگ گئی مگر مضر صحت خوردنی تیل اور گھی بنانے والی کمپنیوں نے اس آئل کو ضائع کرنے کی بجائے اس کی ایک بڑی کھپ گلگت بلتستان روانہ کرنے کی اطلاعات موصول ہورہی ہے ویسے بھی گلگت بلتستان میں مضر صحت اشیاء کی فروخت میں دیگر صوبوں سے سب سے آگے ہے اس وقت خطے کے زیادہ تر علاقوں میں وہی خوردنی آئل اور گھی فروخت کیا جارہا ہے جس پر ملک کے دیگر صوبوں میں پابندی لگا دی ہے گلگت بلتستان کے چند ایک اضلاع کو چھوڑ کر دیگر علاقوں میں اب بھی یہ مضر صحت خوردنی آئل کے علاوہ دیگر خوردنی چیزیں فروخت ہورہی ہے جو یا تو غیر معیاری ہے یا پھر زائد المیاد ہوچکی ہے اور اس حوالے سے اب تک متعلقہ ادارے درجنوں کمپنیوں کا یہ آئل جس کو مضر صحت قرار دیا جاچکا ہے کو مارکیٹ سے اٹھوانے میں ناکام نظر آتی ہے البتہ خطے کے ایک یا دو ڈسٹرکٹ میں اس مضر صحت آئل کو ہٹانے کا سلسلہ شروع ہے مگر دیگر علاقوں میں اب بھی وہی تیل فروخت کیا جارہا ہے اس وقت خطے میں ایک طرف خوردنی تیل بڑی مقدار میں موجود ہے تو دوسری طرف ایسے مصالحہ جات بھی مارکیٹ میں پہنچ گئے ہیں جو کسی بھی رجسٹرڈ کمپنی کا نہیں جبکہ ایسا ہی حالت کولڈ ڈرنک کا ہے جو گلگت بلتستان پہنچائے جاتے ہیں اور ان کی قیمت کم ہونے اور کاروباری افراد کو ایسے چیزوں میں منافع زیادہ ملنے کی وجہ سے اس طرح کے غیر معیاری اشیاء خوردنی خرید لیتے ہیں گلگت بلتستان کے بالائی علاقوں میں سب سے زیادہ غیر معیاری اشیاء خوردنی جن میں خوردنی آئل ،مصالحہ جات ،چائے اور بسکٹ شامل ہیں جن میں یا تو زیادہ تر غیر معیاری اور ان کو پنجاب فوڈ اتھارٹی نے مضر صحت قرار دی ہے اس سے قبل گلگت بلتستان میں لاکر پنجاب کی گلی سڑی مچھلیوں کو فروخت کرنے کا سلسلہ بھی زور شور سے جاری تھا اور یہ مچھلیاں فروخت کرنے والے افراد ان کو جگلوٹ میں موجود ہچری سے لانے کا کہہ کر لوگوں کو فروخت کرتے تھے جب اس حوالے سے اصل حقیقت اس وقت سامنے آئی جب یہ لوگ ڈرموں میں بھر کر گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں فروخت کرتے تھے اور جب عوام نے ان کو کھانا شروع کر دیا تو یہ باسی مچھلیاں کھا کر کئی افراد بیمار ہوگئے اور پتہ چلا کہ یہ مچھلیاں جگلوٹ سے نہیں بلکہ بسوں کی چھتوں میں ڈالکر روالپنڈی سے منگوائی جاتی ہے اور پنجاب سے جو لوگ ان افراد کو یہ مچھلیاں بھیجتے تھے وہ ان سے فی کلو ایک سو بیس روپے وصول کرتے تھے اور دو دن بعد جب گلگت پہنچ جاتی تھی تو یہ لوگ ان کو تین سے ساڑھے تین سو میں فروخت کرتے تھے جس پر انتظامیہ نے فوری ایکشن لیا اور ان باسی مچھلیوں کی فروخت پر پابندی لگا دی گئی تعجب کی بات یہ ہے کہ ایک عرصے سے یہ لوگ ان باسی مچھلیاں عوام کو کھلاتے رہے مگر حکومتی اداروں کو اس حوالے سے پتہ نہ چلنا بھی ایک سوالیہ نشان ہے اب ایسی حالت یہاں پر لایا جانے والا وہ خوردنی تیل ہے جس کو پنجاب فوڈ اتھارٹی نے پابندی لگا دی ہے مگر گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں منوں کے حساب سے بعض دکانداروں کے پاس اس کا سٹاک موجود ہے مگر حکومت کے زمہ داران خاموش ہیں جبکہ ضلع غذر میں توانتظامیہ نے اس خوردنی آئل کو پانچ مارچ تک متعلقہ کمپنیوں کو واپس کرنے کے لئے دکانداروں کو احکامات بھی جاری کئے تھے اور کہا تھا کہ اگر اس کے بعد کسی دوکان میں غیر معیاری تیل یا گھی پایا گیا تو سخت کارروائی کی وارننگ بھی دی گئی تھی پانچ مارچ گزر گیا مگر پنجاب فوڈ اتھارٹی کی طرف سے مضر صحت قرار دیا جانے والا خوردنی آئل ایسی حساب سے فروخت ہورہا ہے مگر ان دکانداروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہورہی ہے جو گھی اور آئل کے نام سے انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں دوسری طرف غذر میں اس وقت صورت حال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ہر گاؤں کی دوسری دوکان میں پٹرول اور ڈیذل بلیک میں کھلے عام فروخت ہورہا ہے بعض جنرل اسٹور میں ایک طرف اشیاء خوردنی رکھا ہے تو دوسری طرف پٹرول اور ڈیذل فروخت کیا جارہا ہے جو کسی بی وقت کوئی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے اور جنرل اسٹور میں پٹرول اور ڈیذل کی فروخت ضلعی انتظامیہ کی بے بسی کے علاوہ کچھ نہیں ہے زیادہ منافع کمانے کی خاطر بعض دکانداروں نے عوام کو لوٹنے کا یہ سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے اس حوالے سے گلگت بلتستاں کی صوبائی حکومت کو سخت اقدامات کی ضرورت ہے اور ایسی مضر صحت اشیاء خوردنی فروخت کرنے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لایا جائے جو زیادہ منافع کمانے کے چکر میں عوام کو انسانی جانوں کے لیے مضر قرار دی جانی والی اشیاء خوردنی فروخت کر رہے ہیں اس حوالے سے گلگت بلتستان میں بھی ایسے مضر صحت قرار دئیے جانے والے اشیاء خوردنی کی جانچ پڑتال کے لئے لیبارٹری کا قیام بھی وقت کی ضرورت ہے تاکہ یہاں کے عوام ایسے غیر معیاری اشیاء خوردنی کا استعمال سے پرہیزکریں جوانسانی جان کے لیے مضر صحت ہو

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments