علاقائی زبانین ،نصاب سازی اور انسانی حقوق

تحریر: فدا حسین

مساوات انسانی حقوق کا وہ محور ہے جس کے گرد دیگر تمام حقوق گھومتے ہیں اس وجہ سے اشرفیہ طبقہ اس پر عمل در آمد روکنے کے لئے اپنے تئیں بھرپورکوشش کرتے ہیں جس میں اب تک وہ (پاکستان کی حدتک ہی سہی)کامیاب بھی ہیں ۔مساوات لفظ کے اعتبار سے جتنا آسان ہے اس قدر مطلب کے اعتبار سے مشکل ہے تاہم ہم اس لفظ کو تعلیم کے میدان تک محدود رکھنے کی کوشش کریں گے۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25کے شق الف میں بنیادی تعلیم کو بچے کا حق تسلیم کیا گیا ہے مزید یہ آرٹیکل 28کے تحت رسم الخط اور ثقافت کو فروغ دینے کیلئے ادارئے قائم کرنے کا حق دیا گیا ہے،اسی طرح آرٹیکل 251کے شق 3کے ذریعے صوبائی زبان کی تعلیم کے لئے اقدامات تجویز کرنے بھی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم اس کے لئے شرط یہ ہے قومی زبان کی حیثیت کو متاثر نہ کیا جائے اور اسی طرح آرٹیکل 25کے شق نمبر 1میں تمام شہریوں کو مساوی قرار دیا گیا ہے۔ان سب کو اگر ملا کر پڑھا جائے تو جو بات ہماری سمجھ میں آتی ہے یہ ہے کہ یکسان نظام تعلیم آئین کا بنیادی تقاضا ہے جو آگے چل کر علاقائی زبانوں اور ثقافتوں کے تحفظ کے لئے معاؤن ثابت ہوگا ۔ یکسان نظام تعلیم کے فوائد سے انکار تو شایدکسی نہیں ہوگا مگر اس سے چند مخصوص طبقے کے مفادات کو بھی زک پہنچنے کے اندیشے نے اس پر عمل در آمد ہونے نہیں دیا جاتا ہے ۔اس وقت کچھ ماہریں مادری زبانوں میں نصاب سازی کے بارئے میں سوچ رہے ہیں اس حوالے سے گزشتہ مہینے میں مادری زبانوں کے عالمی دن کے مناسبت سے اسلام آباد لوک ورثہ میں منعقد ہونے والے ادبی میلے کے ایک مذکرے کا عنوان ہی اسی موضوع پر رکھا گیا تھا اس وقت ہم نے بھی ان ماہریں کے سامنے یہی سوال رکھا کہ ملک میں یکسان نظام تعلیم کی عدم موجودگی میں مادری زبانوں میں نصاب تیار کرناکیسے ممکن ہو گا مگر جواب ندارد۔ہماری نگاہ میں یکسان نظام تعلیم بنیادی انسانی حقوق کے بحالی کے بہت ہی اہم ہے کیونکہ آئین نے تمام شہریوں کو برابر قرار دیا ہے اور اس آئین کے آرٹیکل 27 میں ملازمتوں میں امتیاز کے خلاف تحفظ بھی دیا گیا ہے تاہم ملازمتوں کے حصول کے لئے یکسان مواقعوںکی فراہمی کا کہیں ذکر نہیں ہے اس وجہ سے عملی طور پر ملازمتوں کے حصول کیلئے پوری طرح امتیاز برتا جاتا ہے کیونکہ یکسان مواقعوں کی فراہمی اور یکسان نظام تعلیم میں چولی دامن کا ساتھ ہے یعنی ایک ہی پوسٹ کیلئے مدرسے،  بیکن ہاوس ،سٹی سکول سسٹم ، اور  عام کالج کے گریجویٹس درخواست دیتے ہیں ایسے میں کسی مدرسے یا کسی عام کالج سے پڑھے ہوئے شخص کیلئے وہ پوسٹ حاصل کرنا جوئے شیر لانے کا ہی مترادف ہوگا ۔جب میں ان الفاظ کو ضبط تحریر میں لا رہاہوں تو اِس وقت چیف جسٹس آف پاکستان کی طرف سے” ایک سکول ، ایک نصاب اور یونیفارم ہونا چاہیے” کے بیان پر سینئر صحافی و براڈکاسٹر استاد محترم مرتضیٰ سولنگی صاحب کا” خدا حافظ آٹھارویں آئینی ترمیم” کا تنزیہ تبصرہ بھی قابل غور ہے کیونکہ استادِ محترم اسے آٹھارویں آئینی ترمیم سے متصادم کے طورپر دیکھ رہے ہیںلیکن اگر ایسا ہے تو پھر خاکم بدہین آٹھاویں ترمیم کا بنیادی حقوق سے متصادم ہونابھی لازم آئے گا۔ہم نے پہلے عرض کیا تھا کہ مساوات انسانی حقوق کا وہ محور ہے جس کے گرد دیگر تمام حقوق گھومتے ہیں تاہم یہاں پر یہ بات بھی یاد رکھنے والی ہے کہ مساوات عدل کے بغیر ممکن نہیں اور عدل کا تصور یکسان مواقع کی فراہم کے بغیر ممکن نہیں اوریکسان مواقع کی فراہمی کیلئے یکسان نظام تعلیم بنیادی شرط ہے اس لئے یونیسکو نے مادری مادری زبان میں تعلیم ملنے بچے کا بنیادی حق تسلیم کیا ہے کیونکہ ماہریں کا ماننا ہے کہ بچہ سب زیادہ مادری زبان میں ہی سیکھتا ہے اس طرح آئین کے آرٹیکل 28پر بھی عمل درآمد ہو جائے گاکیونکہ کیسی علاقے کی زبان ہی اس علاقے کی رسم الخط اور ثقافت کو بچانے میں کردار ادا کر سکتی ہے مگر افسوس کہ ہمارئے ملک کا اشرفیہ طبقہ علاقائی زبانوں میں تعلیم دینا تو دور کی بات وہ تو اپنی قومی زبان میں ہی گفتگو کرنے کو  عار سمجھتا ہے اس حوالے سے معاصر انگریز ی اخبار روزمہ ایکسپریس ٹریبون میں چھنے والا ایک فیچر رپورٹ بھی کافی دلچسپ تھی جس میں ہمارئے ملک کے اشرفیہ طبقے کی طرف سے اردو بولنے والوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھنے کا احوال قلمبند کیا گیا تھا، حالانکہ آئین کے آرٹیکل 251کی رو سے اب تک تو ملک میں اردو دفتر ی زبان کے طور پر رائج ہونا تھی مگر مجال ہے کہ ہمارئے اشرفیہ اس پر عمل ہونے دیں ۔ آئین اور جمہوریت کی بالادستی کے دعویداروں کو  1973کے آئین کا یہ شق کبھی یاد نہیں آیا تاہم یہاں پر یہ مقام شکر بھی ہے کہ انہوں نے اسے ختم بھی نہیں کرایا،تب ہی 8اگست2015 کو  سپریم کورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس جسٹس جواد ایس خواجہ نے اسی قانون کی روشنی میں فوری طور پر اردو کو دفتر زبان کے طور پر رائج کرنے کا حکم دینے کے باوجود اس پر ابھی تک عمل درآمد کے آثار نظر نہیں آرہے ایسے میں علاقائی زبانوں میں نصاب تیار کر کے نئی نسل کو پڑھانے کی باتین تو بہت اچھی لگتی ہیں مگر اِس کے قابل عمل ہونے کے بارئے میں وثوق سے کہنا تو”ناممکن” کے سرحدوں کو چھو رہا ہے۔ان تمام باتوں کا یہ مطلب ہر گزیہ نہیں ہے کہ انگریزی نہیں سیکھنی چاہے کیونکہ بین الاقوامی زبان ہونے کی وجہ سے اس کی اہمیت اپنی جگہ مگر اپنی زبان کو چھوڑ کر محض انگریزی  سیکھنے میں زندگی صرف کرنے میں کوئی عقل مندی نہیں ہے۔ان تمام باتوںکا حاصل کلام یہ ہے علاقائی زبانوں میں نصاب سازی کو ثمر آور بنانے کے لئے ضروری ہے نظام تعلیم میں بھی یکسانیت لائی جائے ۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ یکسانیت سے مراد انسانی سوچوں پر تالا لگانا ہرگز نہیں ہے بلکہ نصاب سازی کرتے وقت اس میں نوجوان نسل کو زیادہ سے زیادہ غور و فکر کی طرف مائل کرنے والے مواد شامل کرنا ضروری ہے تاہم اسی نصاب کو ملک کے طول عرض کے تمام تعلیمی ادارو ں میں پڑھائے جائیں اسی میں انسانی حقوق کی بحالی اور احترام مضمر ہے۔

برائے رابطہ کالم

 فیس بکfmusinpa@yahoo.com

ٹویٹر  @fmusinpa

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments