مادرذادے ۔۔۔

تحریر: حاجی سرمیکی!
منصوبہ بندی ، انتظام کاری اور جدت پسندی کے ملے رجحانات سے لیس ایک گورے سے ہماری ملاقات ہوئی ۔ بالمشافہ اور بالمصافحہ اس مفصل ملاقات میں اس گورے کی صلاحیتوں کو دیکھ کر عش عش کرتے رہ گئے۔ کھانے کی میز پر جب بات کا بتنگڑھ بننے لگا تو بر سبیل تذکرہ فی زمانہ ہماری نوجوان نسل کی جدت پسندانہ لبرل سوچ پر گپ شپ ہوئی۔ گورے کی اپنی باتوں سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ ان کے ہاں اچھے تعلیمی اداروں کے اچھے طلبہ یا تو استاد بنتے ہیں یا پھر طالب علم ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔ اکثر عالم و فاضل لوگ تادم مرگ تلامذہ ہی رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ اور جو روزگار ، کاروبار یا پھر ملازمت کے پیچھے دگرگوں دیار غیر میں سرپٹختے پھرتے ہیں وہ بلحاظ ، عقل، دانست اور شعور ہمارے دیسی ملازمین کی قبیل سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں دیسی ملازمین کی توہین مقدور نہیں البتہ ولایتی منیجرز کی اہلیت کو اجاگر کرنا مقصود ہے۔ کیونکہ درون دیس تعلیمی قابلیت اور اہلیت ، حتی کہ بڑی کامیابی کا راز ہی کسی اچھے گریڈ کا نوکر ہونے میں ہی مضمر ہیں ۔ اور تو اور ہمارے ہاں صنف نازک اورشہہ خرچیوں کے درمیان رشتہ بھی اچھے گریڈ کے ملازم سے شادی رچا نے کی عمومی و عوامی خواہش کا رہین ہے۔ دیس بدیس کے اچھے لوگوں میں بلحاظ خوبی کوئی فرق نظرنہیں آتا اورہردو جا پڑھے لکھے لوگ اچھے ہی دیکھے گئے ہیں۔ البتہ برخلاف ولایتی شعار ہمارے ہاں جو بہت اچھے ہیں ،وہ کم پڑھے لکھے ہیں ۔شاید اسی لئے ہمارے ہاں کم تر شرح خواندگی کے باوجود بھی حالات مفید ر اور غیر مزاحمتی حد تک بہتر ہے۔ خواندگی کی اہمیت اپنی جگہ لیکن خاوندوں کا آدم شناس ہونا بھی امر معروف ہے ۔خداجانے اس میں تاریخ لکھنے والوں کا ہنر مانع ہے یا کچھ قدامت پسندوں کی ساہوکاری ، کہ جب بھی تاریخ لکھی گئی ہے اس میں رفت کو بود پر ترجیح ہی دیاجاتارہا ہے ۔ یعنی ہمارے سامنے جس دور کی تعریفیں لکھی گئیں ہیں اگر ہم اسی دور کے لوگوں کے مصنفین ، نقاد اور تاریخ دانوں کا مطالعہ کریں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس دور کے لوگ بھی اپنے حال پر ماتم کناں اور گزشتہ ادوار کے معترف ہی رہے ہیں۔ جانے کس دور سے تاریخ کی سوئی زمانہ مخالف رخ پر گھومنے لگی تھی۔ تاریخِ معاشرت آئین نو کو طرز کہن سے متضاد اور متصادم قرار دیتی رہی ہے۔ جو بھی ہو۔ جیسا بھی ہو۔ ہماری نوجوان نسل میں پنپتی انفرادی اصول پسندی ، خودساختہ اصول و قوائد سماج کے اندر ایک گومگو کی کیفیت پیدا کردے گی۔ نہ صرف سماج رہنمائی سے محروم رہے گی بلکہ اتحاد کا فقدان رہے گا ۔ کچھ اسی طرز کی تمہید کے ساتھ بات گورے کے اپنے دیس کی جانب بڑھی۔ انہوں نے بھی معاشرتی اصولوں کے کچھ ایسے اچھوتے نمونے بتلائے کہ وہاں جس طرز پر ریاستی انتہا پسندی ہے ہمارے ہاں اسے مذہبی انتہا پسندوں کے مذہبی نظریات کی مانند کڑک اور کرخت کہی جاسکتی ہے۔ کہنے کو تو وہاں ہر طرح کی آزادی ہے، یعنی یہ آزادی صرف فرد کو اپنی ذاتی نوعیت کے معاملات میں حاصل ہیں۔ یعنی ان ذاتی نوعیت کے معاملات میں ریاست ومذہب کی اس قدر بے دخلی ہے کہ کچھ معاملات میں ہمارے ہاتھ خودبخود کانوں کو چھو لیتے ہیں۔ وہاں دو فرد کی رضامندی میں ہی معاملات طے ہوتے ہیں اور ریاست اگر فریق ہے تو صرف اور صرف اس حد تک کہ کیا ریاستی وسائل کے استعمال کی وجہ سے کوئی محصولات تو نہیں بنتی؟ یا کسی دوسرے براہ راست یا بالواسطہ طور پر معاملے سے متعلقہ فرد کو شکایت تو نہیں؟ یا ان کے باہمی دلچسپی کے امور ریاستی استحکام سے متصادم تو نہیں؟۔وگرنہ میاں بیوی راضی تو کیا کرے قاضی۔ البتہ ریاستی معاملات کی سختی اتنی شدت سے موجود ہیں کہ کوئی ٹریفک سگنل توڑتے ہوئے بھی سوبار سوچے۔ اکثر ترقی یافتہ ممالک میں تو خفیہ اداروں کی اتنی سخت گرفت ہے کہ ریاستی مفاد کو زک پہنچانے والی سرگرمیوں اور قول وقرار پر ایسی سخت سرزنش ہوتی ہے کہ خدا کی پناہ۔ یہی باتیں تھیں ، جو گفتگو کے دوران زیادہ تر زیر غور رہیں ۔ مگر جس اہم نکتے پر یہ ظہرانہ اور گفتگو انجام کو پہنچی اس سے قبل یہ بات بھی ہوئی کہ اس جدت پسندانہ روش کے پس پردہ عالمی سطح پر متحرک آگہی کی وہ تحریکیں ہیں جن کے زیر اثر مختلف موضوعات پر عالمی سطح کی تقاریب منعقد ہوتی ہیں ۔گورے نے اس جدت پسندانہ روش کی توضیحات بیان کیں۔ قصہ مختصر ۔ مغرب اور ترقی یافتہ ممالک میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قائم اداروں کی خدمات پر باتیں ہوئی جو نہ صرف اپنے اپنے ممالک میں سرگرم عمل ہیں بلکہ وطن عزیز جیسے ترقی پذیر ممالک میں بھی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایسے اداروں کے قیام کے لئے خطیر سرمایہ بھی عطیہ کرتا ہے۔ بات جب ہمدردی کی آئی تو گورے نے صاف صاف کہا کہ کیسی ہمدردی؟۔ ہمارے ہاں تو سب کو اپنے اپنے پلے سے کماکر اپنی خوشیاں پانا ہوتا ہے۔ کوئی کسی پر محتاج نہیں ۔ پوچھا پھر خاندان اور رشتوں کا فائدہ؟۔ اس پر وہ بولے ۔ کسی سے رشتے کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ کسی کی خوشیوں کے ذمہدار آپ ہیں؟۔جب وہ ہم سے پہلے دنیا میں آئے ہیں وہ انہیں اپنی خوشیاں خود ڈھونڈلینی چاہیئے تھی۔ پھر ان سے ماں باپ کے بارے میں پوچھا۔تو بولا ، میرے باپ کا معلوم نہیں ۔ سنا ہے کہ وہ تو اس وقت فوت ہوچکا تھا جب میں بہت چھوٹا تھا۔ ہمارے ہاں تو بیشتر لوگوں کو اپنے باپ کو ڈھونڈنے کی حاجت نہیں ہوتی۔ البتہ میری ماں نے مجھے پالا پوسا اور میں جب اپنے پیروں پر کھڑا ہوگیا تو اپنا نان نفقہ ڈھونڈنے نکل پڑا۔اب ان سے ملے بغیر مجھے بارہ سال سے زیادہ کا عرصہ گزرچکا ہے۔ اب میں یہ بھی نہیں جانتا ہے کہ وہ کہاں اور کیسی ہے؟۔ پھر پوچھا ۔ کوئی رابطہ نہیں؟۔ اس پر بولے، میں کیونکر اس سے کوئی رابطہ رکھوں؟۔ ہاں اس سے میرا رشتہ ضرور ہے لیکن وہ میرا نتخاب نہیں ، وہ رشتہ ایک مجبوری ہے۔ باقی رشتے ، میری دوست ، میرے احباب اور دیگر جن سے میری سلام دعا و شناسائی ہے ان سے ملنے کے لئے میں کئی ملکوں کا سفر طے کرکے جاتا ہوں۔ ان سے فون پر دن میں دو تین بار باتیں نہ ہو تو چین کہاں ملتاہے۔ کیونکہ یہ ہیں میرے اصل رشتے اوریہ میرا اپنا انتخاب ہیں۔یہ سن کر جب ہمارے اندر ایثار و انسیت کامشرقی جذبہ ٹھاٹھیں مارنے لگا تو بر سبیل تذکرہ یہ بھی پوچھ ڈالا کہ خدانخواستہ آپ کی ماں کو کچھ ہوجاتا ہے تو؟۔ اس پر بھی اس جدت پسند سوچ کے حامل نوجوان گورے نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے بولا” تو” ۔۔۔ ہماری روح نے اس بات پر ایک بار ایسی جھری جھری لی کہ پھر اس سے آگے ایک بھی سوال مزید کرنے کی ہمت بھی جواب دے گئی۔ وہ مزید دلائل دیتے ہوئے بولتے گئے۔ کہا کہ یہ رشتے ہیں ایک دوسرے کے نام پر جیتے جیتے اپنی زندگی گنوانے کے ضابطے ہیں یہ دراصل آدمی کی راہ میں ایسی رکاوٹیں ہیں جو انہیں آگے بڑھنے سے روک لیتی ہیں۔ یہ ہاتھوں میں بندھی وہ زنجیریں ہیں جو مشکلات سے دودو ہاتھ ہونے نہیں دیتی ۔ وہ قسم کھا کر کہنے لگا کہ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ اب تک ہمارے کتنے بہن بھائی ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ہاں ماں کے نام سے اندارج پیدائش ہوتی ہے ۔ وہ مادر ذادے ہیں اور باپ کے بارے میں جاننا کوئی ضروری بات نہیں۔ بوڑھے ہونے پر ہر کسی کو سرکار خود یا پھر بہت سے فلاحی ادارے انہیں کسی اولڈ ہوم میں منتقل کردیتے ہیں “. یہ سوچ کر ترس آتا ہے ، ہماری نوجوان نسل پر نہیں بلکہ ان کی ماوں پر ، اگر ان کے ذہنوں میں بھی خدانخواستہ ایسی ہی دلائل کی روشنی میں ایسی جدت پسندی کے جرثومے پائے جاتے ہوں۔ ہمارے ہاں پھیکی پڑتی معاشرتی اقدار کے پس پشت ایسی نقالی ، دیکھا دیکھی اور فیشن پرستی موجود ہیں جو انفرادی آزادی اور انفرادیت پسندی کی داغ بیل ڈال رہی ہے۔ مذہب کو نہ ماننے کی دلیل تو بہتیرے لیکن کسی مذہبی لبادے میں گھس کر جو ذاتی اختراع اور من مانیاں کرنے کی خواہش رکھتے ہیں جن کی برآوری نہ ہونے پر دین کو انتہا پسند اور قدامت پسندی کے طعنے دینے لگ جاتے ہیں۔ خدا انہیں کسی طوفان سے آشنا کردے کہ ان کی موجوں کو اضطراب نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments