گلگت بلتستان میں‌عوامی خواہشات کے مطابق لینڈ ریفارمز ہونگے، وزیر تعمیرات اور وزیر قانون کا پریس کانفرنس سے خطاب

سکردو (ایس ایس ناصری سے) مسلم لیگ ن کےمخالفوں نے ہماری حکومت کو بدنام کرنے کے لیے حکومت کے خلاف لینڈ ایشو بنائےاور لوگوں میں موجودہ حکومت کو بد نام کرنےکے لیے مختلف حربے استعمال کیے جارہے ہیں ان خیالات کا اظہار وزیر تعمیرات عامہ گلگت بلتستان ڈاکٹر محمد اقبال اور وزیر قانوں اورنگ زیب نے سکردو میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا ۔وزیر تعمیرات کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں لیںنڈ ریفامز عوامی خواہشات اورامنگوں کے عین مطابق ہوگا اور اس سلسلے میں بہت جلد قانوں سازی کی جائیے گی اور گلگت بلتستان کے عوام کو خوشخبری ملے گی۔انہوں نے کہا کہ لینڈ ریفارمز کے زیعے پورے گلگت بلتستان میں ایک ہی قانوں ہوگا اور یہ فارمولا گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں برابری کے بنیاد پر ہوگا اور گلگت بلتستان کے عوام سے صلاح ومشورہ کے زریعے یہ اقدام کیئے جائیں گے انہوں نے کہا کہ بلتستان کی صحافیوں نے ہمیشہ خطے کی تعمیر وترقی اور امن وامان کی بحالی اور قائم رکھنے کیلے مثبت صحافت کی ہے جوکہ پورے گلگت بلتستان کیلے ایک مثال ہے انہوں نے صحافیوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ سکردو کے صحافی گواہ رہیں کہ موجودہ حکومت گلگت بلتستان کی عوام کو ایک اور اہم تحفہ دینے جارہء ہے لیکن اس اقدام کے بعد ہمارے مخالفیں یہ افواہ نکالیں گے کہ اس اقدام کو عمل در آمد کرانےمیں  جنرل کا ہاتھ ہے لیکن ایسے حال سے بچنےبکیلے آج آپ لوگوں کو گواہ بنارہا ہوں ۔وزیر قانوں گلگت بلتستان ایڈوکیٹ اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ارضیات کا مسئلہ صرف دیامر اور سکردو کا نہیں بلکہ پورے گلگت بلتستان کا ہے اسی مسئلہ کو مدونظر رکھ کر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے اس مسئلے کی حل کیلے ایک کمیشن بنائی ہے اور اس کمیشن کے ممبران نے مختلف طریقوں سے گلگت بلتستان کے تمام زمینوں کے حوالے سے معلومات لی ہیں اور اس مسئلے کو حل کرنے کیلے بھر پور کوشش کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ دیامر، غذر، سمیت چار اضلاع میں کوئی ریوینیو ریکارڈ موجود نہیں جبکہ دیگر چھے اضلاع میں مکمل ریکارڈ موجود ہے جس سے آسانی پیدا ہورہی ہے انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کی تعاؤں سے سکردو، گلگت، گانچھے سمیت چھے اضلاع میں تمام تر ریوینیو ریکارڈ کو مکمل کمپیو ٹرائزڈ  کر رہی ہے اس سلسلے میں اقدامات کیے جارہے ہیںاوراس منصوبے کیلے میں کثیر رقم مختص کر لی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایفاد منصوبے کے زریعے بنجر زمینوں کو آباد کیے جارہے ہیں اور آبادی کے بعد
 بنجر زمینوں کو عوام کی ملکیت میں دے گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں اس وقت نوتوڑ رول موجود ہے لیکن اس کو اب ختم کر کے نئے قانوں سازی کر کے عوام کی خواہشات پوری کریں گے انہوں نے کہا یہ کام مشکل ضرور ہیں لیکن اس مشکل کو حل کرنے کیلے کمیشن کےممبران براہ راست عوام سے رابطہ کر رہے ہیں اور عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے ان کو بھی ڈرافٹ بنانے کیلے شامل کر رہے ہیں اس سلسلے میں بلتستان سے عوامی رابطہ مہم شروع کیا ہے اور پورے اضلاع میں سٹیک ہولڈر سے ملاقات کر کے ان کی رائے لیے جائیں گے اور عوام کو بہت جلد خوشخبری دیں گے۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments