التر لینڈ سلائیڈنگ کے بعد لاپتہ تین افراد کی تلاش میں ناکامی، تلاش اور بچاو کی کوششیں‌تیسرے روز بھی جاری رہیں‌گی

ہنزہ (بیورو رپورٹ) ہنزہ کے سیاحتی مقام التر میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے لاپتہ 3افراد کی تلاش دوسرے دن بھی ڈی سی ہنزہ کی سربراہی میں جاری رہی، آپریشن ریسکیو میں پاک فوج کے جوانوں کے علاوہ مقامی افراد، فوکس پاکستان کے تربیت یافتہ رضاکاروں، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس ،جی بی پولیس اور GBDMA کی ٹیموں نے بھرپور انداز میں حصہ لیا۔

لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں تقریباً60فٹ اونچا اور 5سو فٹ سے زائد طویل ملبہ گرا ہوا ہے جس کے نتیجے میں تین افراد لاپتہ ہوگئے ہیں، جبکہ دو افراد معجرانہ طور پر بچ گئے تھے۔

لینڈ سلائیڈنگ وقفے وقفے سے کل شام 6بجے تک جاری رہی۔ اندھیرا ہونے کی وجہ سے ریسکو آپریشن بند کرنا پڑا۔

سیکریٹری داخلہ جواد اکرام نے میڈیا کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئےمقامی رضاکاروں  اور سرکار کے اداروں کا شکریہ ادا کیا، جو مشکل حالات میں تلاش اور بچاو کا کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل صبح سے ریسکیو کوششیں دوبارہ شروع کر دی جائینگی۔ انہوں نے امید ظاہر کیا کہ وہ لاپتہ افراد کو زندہ نکال سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حادثے کے مقام تک بھاری مشینری لے جانا تقریباً ناممکن ہے، اس لئے سینکڑوں مقامی افراد سمیت انتظامیہ کے اہلکار ہلکے اوزاروں کی مدد سے ملبے کو کھود رہے ہیں۔ آپریشن تیسرے روز بھی جاری رہے گا۔

سیکرٹری داخلہ نے میڈیا گفتگو میں مزید کہا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور چیف سیکرٹری کی خصوصی احکامات پر نہ صرف ضلعی انتظامیہ بلکہ گلگت بلتستان کے ریسکو اداروں کے سربراہان ہنزہ میں قیام پزیر ہے۔ انہوں نے پاک فوج کے جوانوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے آپریشن ریسکو کو کامیاب کرنے میں ہمارے شانہ بشانہ کام کررہے ہیں اور جو بھی دستیاب وسائل کرنے فراہم کرنے میں پنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ریسکو اپریشن میںGBDMAنے ڈروان کیمرے کی مدد سے بھی لاپتہ افراد کی تلاش کی۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments