کیاشیر کاتعلق بلی کے خاندان سے ہے؟ 

تحریر: سبطِ حسن

ہم گھروں میں بلیاں پالتے ہیں۔ انھیں پالتوں بلیاں کہا جاتا ہے۔ بلی کے خاندان(Cat Family)میں ہی کچھ ایسی بلیاں ہیں جنھیں گھروں میں پالتو جانوروں کی طرح رکھنا ممکن نہیں۔ انھیں جنگلی بلیاں(Wild Cats) کہا جاتا ہے۔ بلی کے خاندان میں مادہ بلیاں بچے دیتی ہیں اور اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں۔ انھیں ممالیہ کہا جاتا ہے۔

جنگلی بلیاں، جنگلوں میں رہتی ہیں۔ شیر اسی خاندان میں سے ہے۔ جنگلی بلیوں کا خون دیگر ممالیہ جانوروں کی طرح گرم ہوتا ہے اور ان کے جسم پر بال ہوتے ہیں۔ ان کے پنجے پیچھے کی طرف مڑ سکتے ہیں ہیں۔بلی کے خاندان کے تمام جانور گوشت خور(Carnivore)ہوتے ہیں۔ ان کے چار دانت لمبے اور تیز ہوتے ہیں۔ ان دانتوں سے وہ اپنے شکار کو کاٹتے ہیں اور اپنی پکڑمیں لاتے ہیں ۔شیر، اپنا زیادہ تر وقت زمین پر گزارتے ہیں۔ تا ہم وہ درختوں پر بھی چڑھ لیتے ہیں۔ بلی کے خاندان کے سب جانورجسمانی حرکات اور بو کے ذریعے اپنی بات دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ تاہم ضرورت پڑنے پر شیر پیغام رسانی کے لیے دھاڑتے یا اس سے ملتی جلتی آوازیں نکالتے ہیں۔ پیغام رسانی کے لیے بلی میاؤں یا اس سے ملتی جلتیکی آوازیں نکالتی ہیں۔

جنگلی بلیوں کا خاندان ماسوائے آسٹریلیا اور انٹار کٹکا کے پوری دنیا میں پایا جاتا ہے۔ اس خاندان کے جانوروں کے مساکن(Habitats)مختلف طرح کے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر چیتا گرم اور کھلے میدانوں میں رہتا ہے۔ تیندوا(Leapard)برساتی جنگلوں میں رہتا ہے۔ کچھ جنگلی بلیاں پہاڑوں اور وادیوں میں پھرتے رہتے ہیں۔ شیر صرف افریقہ اور ایشیا میں رہتا ہے۔ یہ ان جنگلوں میں رہتا ہے جہاں درخت اور گھاس ہو۔ یہ زیادہ تر ان علاقوں میں رہتا ہے جہاں موسم گرم اور خشک ہو۔ گرمی سے بچنے کے لیے شیر جھاڑیوں اور درختوں کی چھاؤں میں چھپا رہتا ہے۔

جنگلی بلیوں کے خاندان کے اکثر جانور اپنی ساری زندگی اکیلے ہی گزارتے ہیں۔ شیر ایسا نہیں کرتے۔ وہ ایک کنبے میں رہتے ہیں۔ ایک کنبے میں سات نر شیر، بہت سی مادہ شیر نیاں اور بچے ہو سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر ایک کنبے میں40 شیر ہو سکتے ہیں۔کنبے میں رہنے والے شیر ایک دوسرے کے رشتے دار ہوتے ہیں۔ وہ اپنی ساری عمر ایک ساتھ گزارتے ہیں۔ تا ہم نر شیر ، ایک کنبے میں اپنی ساری زندگی نہیں گزارتے ۔ کافی سال کنبے کے ساتھ رہنے کے بعد وہ کسی اور کنبے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ نوجو ان نر شیرچار پانچ سال کے لیے آوارہ گردی کرتے رہتے ہیں۔ جب وہ کافی طاقتور بن جائیں تو اپنا ایک کنبہ بنا لیتے ہیں۔ایک کنبے کی علاقائی حدود80مربع میل(210مربع کلومیٹر) ہو سکتی ہے۔ کنبے کے لیے وہ علاقہ چنا جاتا ہے جہاں پانی اور شکار وافر ہو۔ شیر اپنے علاقے کی نشاندہی ، اس کی سرحدوں پر اگی جھاڑیوں اور درختوں پر پیشاپ کر کے کرتے ہیں۔ دوسرے کنبوں کے شیر، پیشاپ کی بو سونگھ کر، اس سے دور رہتے ہیں۔شیر دھاڑ کر اپنی موجودگی کا اعلان کرتے ہیں۔ ان کے دھاڑنے کی آواز5میل(8کلو میٹر) تک کے فاصلے پر سنی جا سکتی ہے۔ جو کوئی دوسرا جانور اس دھاڑ کو سنتا ہے ، فوراً سمجھ جاتا ہے کہ اس کے اردگرد کوئی شیر موجود ہے۔ وہ شیر کے علاقے میں داخل ہونے سے کتراتا ہے اور دوسری سمت میں بھاگ جاتا ہے۔ شیر، عام طور پر صبح اور شام کے وقت دھاڑتے ہیں۔ وہ اکثر شکار کرنے کے بعد بھی دھاڑتے ہیں۔ جب کبھی شیروں کا ایک کنبہ ، کسی دوسرے کنبے کے شیر کی دھاڑ سنتا ہے تو وہ بھی دھاڑ نے کا جواب دھاڑنے سے دیتے ہیں۔

پالتو بلیوں اور شیر کا جسمانی ڈھانچہ ایک جیسا ہوتا ہے۔ ان کا جسم دبلا اور دم لمبی ہوتی ہے۔ ایک عام شیر، پالتو بلی کے مقابلے میں30گنا بڑا ہوتا ہے۔جنگلی بلّیوں کے خاندان میں جسامت کے اعتبار سے شیر سب سے بڑا ہوتا ہے۔ اس کا وزن 180-160 کلوگرام تک ہو سکتا ہے۔ اگر دُم کو بھی شامل کر لیں تو ایک شیر عام طور پر 2.7 میڑ(9فٹ) لمبا ہوتا ہے۔زمین سے کندھوں تک اس کی اونچائی 1.2 میٹر(4۔فٹ) ہوتی ہے۔ اتنی بڑی جسامت کے باوجود شیر شکار کا پیچھاکرتے وقت 56کلو میٹر

( 35میل)کی رفتار سے دوڑ سکتا ہے۔ بہت سے پرندے بھی اس رفتار سے نہیں اڑ سکتے۔

ببر شیر کی گردن کے ارد گرد بال ہوتے ہیں۔ ان بالوں کی وجہ سے اس کی شکل میں رعب آجاتا ہے۔جنگلی بلیوں کے خاندان میں صرف ببر شیر کی گردن پر بال ہوتے ہیں۔ جس ببرشیر کی گردن کے ارد گرد زیادہ بڑے بال ہوتے ہیں، دوسرے شیر اس سے اتنا ہی زیادہ ڈرتے ہیں۔ وہ ایسے ببر شیر سے لڑنے سے بھی کتراتے ہیں۔

عام طور پر ، شیر رات میں شکار کرتے ہیں۔ رات کو وہ اچانک حملہ کرتے ہیں اور اس طرح ان کا شکاران کے سامنے بے بس ہوجاتا ہے۔ رات میں شیر تو دیکھ سکتا ہے مگر اس کا شکار نہیں دیکھ سکتا۔ شیر عام طور پراپنے وزن سے دوگنا بڑے جانور کا شکار کرسکتا ہے۔ ایسی بڑی جسامت والے جانوروں کا شکار کرنا ایسا آسان نہیں ہوتا۔ اس لیے شیر کا کنبہ مل کر ایک ٹیم کی طرح شکار کرتا ہے۔ بھوکے شیر ، شکار کے لیے سب سے پہلے جانوروں کے ریوڑ کو تلاش کر تے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ بڑی خاموشی اور احتیاط کے ساتھ رینگتے ہوئے وہ اپنے شکار کے قریب تر ہو جاتے ہیں۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ اچانک اور تھوڑے فاصلے سے حملہ کرکے اپنے شکار کو دبوچ لیں۔ اگرچہ شیر کافی رفتار سے دوڑ سکتے ہیں مگر ان کے شکاربننے والے جانوران سے بھی تیز بھاگتے ہیں۔ جب شیر مل کر شکار کرتے ہیں تو وہ ایک دائرے میں اِدھر اُدھر پھیل کر اپنے شکار کو گھیرے میں لے لیتے ہیں۔ پھر شکار کی طرف بڑھتے ہیں ا ور شکار کو اپنے مضبوط جبڑوں میں پکڑ کر نیچے گرا دیتے ہیں۔

کوئی بھی شیرنی 4-3 سال کی عمر میں ماں بن سکتی ہے۔پیدائش کے وقت شیر کے بچے دیکھ نہیں سکتے۔ پیدائش کے بعد کچھ روز ان کی آنکھیں بند رہتی ہیں۔ بچے، خوراک اور تحفظ کے لیے مکمل طور پر اپنی ماؤں کے محتاج ہوتے ہیں۔ پیدائش کے بعد ، مائیں اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلاتی ہیں ۔ جب بچے چھے ہفتوں کے ہو جائیں تو انھیں شکار کا گوشت کھانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ اس طرح ، بچے زندگی میں پہلی مرتبہ گوشت کا ذائقہ چکھتے ہیں۔ ایک کنبے میں شیرنیاں ، عام طور پر ایک ہی وقت پر بچوں کوجنم دیتی ہیں۔ اس طرح شیرنیاں مل جل کر اپنے بچوں کی حفاظت کرتی ہیں اور انھیں دودھ پلاتی ہیں۔ شیر کے بچے اپنا سارا دن سونے اور دودھ پینے میں گزارتے ہیں۔ آہستہ آہستہ ان کی خوراک میں گوشت کی مقدار بڑھتی رہتی ہے۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتے رہتے ہیں۔ انھیں ایک دوسرے سے کشتی کرنا ، ایک دوسرے کے پیچھے بھاگنابہت اچھا لگتا ہے۔ کھیل کھیل میں وہ ایسے ہنر سیکھ لیتے ہیں جو بعد میں انھیں شکار کرنے اور اپنی حفاظت کے لیے بہت کام آتے ہیں۔ ایک سال کی عمر میں شیر کے بچے خاصے بڑے ہو جاتے ہیں اور ان کا وزن 45 گرام ہو جاتا ہے۔ مادہ بچے اپنی ساری زندگی کنبے کے ساتھ گزارتی ہیں۔ تاہم کنبے کے بڑے شیر،3-2 سال کے نوجوان نرشیروں کو کنبے سے نکال دیتے ہیں۔ کنبے سے نکالے گئے یہ شیر چار، پانچ سال کی عمر تک جنگل میں آوارہ گردی میں گزارتے ہیں۔ جب وہ کافی طاقتو رہو جائیں تو پھر وہ کسی کنبے اور اس کے علاقے پر قبضہ جمانے کی کوشش کرتے ہیں۔

بالغ نر شیر ، کنبے کے علاقے کی حفاظت کرتے ہیں اور کسی بھی بن بلائے مہمان کو داخل نہیں ہونے دیتے۔ ان بن بلائے مہمانوں میں عام طور اجنبی نر شیر، لگڑ بگڑاور دیگر جانور شامل ہیں۔ عام طور پرکنبے میں شامل شیرنیاں ہی اپنے کنبے کی خوراک کے لیے شکار کا بندوبست کرتی ہیں۔ وہ بہت اچھی شکاری ہوتی ہیں۔ مارے گئے جانور کو کھانے کے بعدجوحصّہ بچ جائے شیر اور شیرنیاں مل کر اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ شیر اور اس کا کنبہ ایک دن میں بیس گھنٹے آرام کرنے اور سونے میں گزارتا ہے۔ شیر کے دانت چبانے کی بجائے گوشت کو پھاڑنے کے لیے بنے ہیں۔ اسی لیے وہ اپنے شکار کا گوشت کاٹتے ہیں اور اس کے بڑے بڑے ٹکڑے نگل لیتے ہیں۔ شیر کی زبان ریگ مال کی طرح کھردری ہوتی ہے۔ اس کی مدد سے شکار کیے گئے جانور کی ہڈیوں سے گوشت اور اس کی جلد سے بالوں کو آسانی سے الگ کیا جاسکتا ہے۔ اگر شکار کافی زیادہ ہو تو کنبے کے سب لوگ مل کر اسے کھاتے ہیں۔ اگرایسا نہ ہو تو سب سے طاقتور نر شیر سب سے پہلے شکار کو کھاتا ہے۔ ایک نر شیر ایک وقت میں 34 کلوگرام گوشت کھا سکتا ہے۔ نر شیر کے بعد شیرنیوں کی باری آتی ہے۔ سب آخر میں بچوں کی باری آتی ہے۔ شیروں کو جب بھی موقع مل جائے وہ خوب جی بھر کے کھاتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اس کے ایک ہفتے تک انھیں کھانا نہ ملے۔ اگر شکار کی کمی ہو جائے تو شیر کسی بھی جانور کا شکار کرکے اسے کھا لیتے ہیں۔ ان میں چھوٹے جانور، پرندے اور رینگنے والے جانور بھی شامل ہیں۔

چیتا، جنگلی بلّیوں کے خاندان میں سب سے تیز بھاگنے والا جانور ہے۔ وہ زمین پر رہنے والے تمام جانوروں میں سب سے تیز بھاگ سکتا ہے۔ چھوٹے فاصلوں پر اس کی رفتار70 میل (110کلو میٹر ) فی گھنٹہ ہوسکتی ہے۔ چیتے کا جسم تیز بھاگنے کے لیے ہی بنا ہے۔ اس کا جسم لمبا اور پتلا ہوتا ہے اور سر چھوٹا ہوتا ہے۔ اس کی لمبی ٹانگیں ، لمبی جست لگانے میں اس کی مدد کرتی ہیں۔ بھاگتے ہوئے اس کے پنجے تھوڑے سے پیچھے کی طرف مڑ جاتے ہیں۔ جب چیتا بھاگتا ہے تواس کے پنجے کھلے رہتے ہیں۔ اس طرح اس کی زمین پر گرفت بنی رہتی ہے۔ چیتا ، تیز بھاگتے ہوئے ، ضرورت پڑنے پر اچانک مڑ سکتا ہے۔اس طرح مڑنے میں اس کی مدد اس کی دم کرتی ہے۔ ایسا کرتے ہوئے اس کا توازن نہیں بگڑتا۔ تیز رفتاری کے باعث ، چیتا بہت تیز بھاگنے والے جانوروں مثلاََہرن یا غزال کا شکار کرسکتا ہے ۔ چیتا ، اگرچہ بہت تیز رفتار ہوتا ہے مگر وہ لگاتار چند سو میٹر سے زیادہ نہیں بھاگ سکتا۔اگر اس دوران وہ اپنے شکار کو نہ پکڑ سکے تو وہ رک جاتا ہے۔ تھکاوٹ کے باعث وہ زیادہ دیر تک شکار کا پیچھا نہیں کر پاتا۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments