چیونٹیاں کیسے مل جل کر رہتی ہیں؟ 

تحریر: سبطِ حسن

چیونٹیاں مل جل کر رہتی ہیں۔ چیونٹیوں کی بستی میں سینکڑوں ، ہزاروں بلکہ لاکھوں چیونٹیاں رہ سکتی ہیں۔ بستی میں رہنے والی سب چیونٹیاں ہر وقت مصروف رہتی ہیں۔ سب کے ذمے کوئی نہ کوئی کام ہوتا ہے۔ ان میں کوئی چیونٹی فارغ نہیں ہوتی۔ سب مل کر ایک دوسرے کی حفاظت اور کھانے کا بندوبست کرتی ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو مل کر پالتی اور ان کا خیال رکھتی ہیں۔ کچھ چیونٹیاں انڈے دیتی ہیں تو کچھ کھانا اکٹھا کرتی ہیں۔ کچھ کا کام سب کی حفاظت کے لیے دشمنوں کے ساتھ لڑنا ہو تا ہے۔

چیونٹوں کی بستی زمین کے نیچے، کسی ٹیلے پر اور یہاں تک کہ درختوں پر بھی ہو سکتی ہے۔ چیونٹیاں جب اپنی بستی تعمیر کرتی ہی تو بہت سا کچرا ، اس کے داخل ہونے والے راستے پر جمع کر دیتی ہیں۔

چیونٹیوں کی بستی میں کون کیا کام کرتا ہے؟

چیونٹیوں کی بستی کی پوری آبادی تین حصوّں میں بٹی ہوتی ہے۔ ایک بستی میں ملکہ چیونٹیاں ، دوسری میں کام کرنے والی چیونٹیاں اور تیسری میں نر چیونٹیاں۔ ملکہ چیونٹی اپنے نام سے قطع نظر باقی چیونٹیوں پر حکومت نہیں کرتی۔ اس کا کام صرف انڈے دینا ہے۔ اگر وہ انڈے نہ دے تو خدشہ ہے کہ چیونٹیوں کی نسل ہی ختم ہو جائے۔ چیونٹیوں کے خاندان میں صرف ملکہ ہی انڈے دینے کی صلاحیتّ رکھتی ہے۔ اس کی عمر بھی دیگر چیونٹیوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔ وہ دس سے بیس سال تک زندہ رہ سکتی ہے۔ ایک بستی میں ایک یا ایک زیادہ ملکہ چیونٹیاں ہو سکتی ہیں۔

کام کرنے والی چیونٹیاں اپنی جسامت کے اعتبار سے سب سے چھوٹی ہوتی ہیں مگر بستی کے سارے کام انھی کے ذمّے ہوتے ہیں۔ یہ مادہ چیونٹیاں ہوتی ہیں اور ملکہ اور اس کے بچوں کا خیال رکھتی ہیں۔ بستی کی تعمیر اور مرمت کا کام بھی انھی کے ذمے ہوتا ہے۔ وہ بستی میں رہنے والوں کے لیے کھانا اکٹھا کرتی ہیں اور بستی کودشمنوں سے بچا کر رکھتی ہیں۔ کام کرنے والی چیونٹیاں ایک سے پانچ سال تک زندہ رہ سکتی ہیں۔

نر چیونٹیاں صرف چند ہفتوں یا مہینوں کے لیے زندہ رہتی ہیں۔ وہ کوئی کام نہیں کرتیں۔ ان کا کام انڈے پیدا کرنے کے لیے ملکہ چیونٹی کی مدد کرنا ہوتا ہے۔ ان کی مدد کے بغیر ملکہ انڈے نہیں دے سکتی۔ ایسا کرنے کے بعد وہ مر جاتی ہیں۔

چیونٹیوں کی بستی کیسی ہوتی ہے؟

چیونٹیوں کی بستیاں عام طور پر زمین کے نیچے ہوتی ہیں۔ بستیاں بسانے کا کام ، کام کرنے والی چیونٹیاں سر انجام دیتی ہیں۔ وہ زمین کے نیچے سرنگیں بناتی ہیں۔ سرنگوں کے ساتھ ساتھ بڑے اور چھوٹے کمرے تعمیر کرتی ہیں۔ جیسے جیسے بستی پھیلتی جاتی ہے، کام کرنے والی چیونٹیاں مزید کمرے اور سرنگیں بناتی رہتی ہیں۔ ہر کمراکسی ایک کام کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ملکہ کا اپنا کمرا ہوتا ہے جہاں وہ انڈے دیتی ہے۔ کچھ کمروں میں انڈے رکھے جاتے ہیں اور وہیں انڈوں سے بچے نکلتے ہیں۔ کچھ کمروں میں کھانا رکھا جاتا ہے اور کچھ کمروں میں کام کرنے والی چیونٹیاں آرام کرتی ہیں۔

چیونٹیوں کی بستی زمین کے نیچے بیس فٹ ( چھے میٹر ) تک گہری ہو سکتی ہیں۔ گرم اور نمی والے علاقوں میں چیونٹیاں عام طور پر زمین کے نیچے گہرائی میں رہنا پسند کرتی ہیں۔ یورپ کے جنگلات میں رہنے والی چیونٹیاں زمین کے اوپر اپنی بستیاں آباد کرتی ہیں۔ یہاں ان کی بستی ایک ٹیلے کی صورت میں دکھائی دیتی ہے جو زمین سے پانچ فٹ تک بلند ہو سکتا ہے۔ ایسی کئی بستیوں کو چھو ٹی چھوٹی گلیوں کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے۔ اس طرح ان بستیوں کا کل رقبہ پچیس سو مربع فٹ (آٹھ سو مربع میٹر ) تک بڑا ہو سکتا ہے۔ ان بستیوں میں لاکھوں چیونٹیاں رہ سکتی ہیں۔

ایک ملکہ چیونٹی کس طرح ایک نئی بستی آباد کر سکتی ہے؟

کسی بھی بستی میں جب ایک ملکہ چیونٹی پیدا ہوتی ہے تو وہ اگر چاہے تو اس بستی کو چھوڑ کر ایک نئی بستی بسا سکتی ہے۔ جب ملکہ چیونٹی بڑی ہو جاتی ہے تو اس کے پر نکل آتے ہیں۔ چند ہفتوں کے بعد وہ نر چیونٹیوں کے ساتھ رہنے کے لیے اپنی بستی سے باہر آجاتی ہے۔ نر چیونٹیوں کے بھی پر ہوتے ہیں۔ نرچیونٹیوں کے ساتھ رہنے کے بعد ملکہ انڈے دینے کے قابل ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد ملکہ کے پر جھڑ جاتے ہیں۔

نئی بستی میں ملکہ اپنا کمرا بناتی ہے اور پھر اپنے آپ کو اس کمرے میں بند کرلیتی ہے۔ اس کے بعد وہ انڈے دینا شروع کر دیتی ہے۔ ملکہ خود ہی اپنے انڈوں اور پھر ان سے نکلنے والے لاروا اور پیوپا اور پھر ان سے نکلنے والے بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ وہ بچوں کو خوراک کے طور پر اپنے منہ سے نکلنے والا لعاب کھلاتی ہے۔ اس دوران وہ خود کچھ نہیں کھاتی۔ اس دوران ا س کے جسم پرپروں کے جھڑنے کے بعدرہ جانے والے پٹھے، خود اس کا جسم خوراک کے طور پر کھا لیتا ہے۔ اس طرح ملکہ اپنے آپ کو زندہ رکھتی ہے۔

انڈوں سے کام کرنے والی چیونٹیاں پیدا ہوتی ہیں ۔ ان میں سے کچھ ملکہ کو اس کے کمرے میں چھوڑ کر کھانے کا بندوبست کرنے میں مصروف ہو جاتی ہیں۔ کچھ بستی کی تعمیر کا کام شروع کر دیتی ہیں۔ملکہ مزید انڈے دیتی ہے اور ان سے کام کرنے والی چیونٹیوں کے علاوہ کچھ نر چیونٹیاں اور کچھ ملکہ چیونٹیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

کام کرنے والی چیونٹیاں ایک وقت میں ایک یا ایک زیادہ کام بھی کر سکتی ہیں۔ یہ کبھی ملکہ نہیں بن سکتیں ۔ ان کا کام صرف ملکہ ، بچوں اور بستی کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ ان کے بغیر چیونٹیوں کی بستی آباد نہیں رہ سکتی۔کام کرنے والی چیونٹیاں اپنی پوری زندگی میں ایک یا ایک سے زیادہ کام بھی کر سکتی ہیں۔کام کرنے والی کچھ چیونٹیاں کھانا اکٹھاکرنے اور پھر اسے بستی میں کھانے کے لیے مخصوص کمروں میں حفاظت سے رکھتی ہیں۔ کچھ ملکہ کی خوراک ، آرام اور اس کے بچوں کا خیال رکھتی ہیں۔ کچھ بستی کی سرنگوں اور کمروں کی تعمیر کا کام کرتی ہیں۔ جب ضرورت ہو وہ اپنے منہ سے نکلنے والے مواد سے بستی کو مضبوط بنانے کا کام بھی کرتی ہیں۔ کچھ چیونٹیاں بستی کی محافظ ہوتی ہیں۔ یہ عام چیونٹیوں کے مقابلے میں تھوڑی سی بڑی ہوتی ہیں۔ ان کا کام بستی کے قریب آنے والے کیڑوں اور دشمن چیونٹیوں کو مار بھگانا ہوتا ہے۔ اگر خطرہ بڑھ جائے تو یہ مل کر اپنے منہ جوڑ کر بستی میں داخل ہونے کا راستہ بند کر دیتی ہیں۔

چیونٹیاں کیا کھاتی ہیں؟

زیادہ تر چیونٹیاں پھل، پھول اور بیج وغیرہ کھاتی ہیں۔ کچھ چیونٹیاں رس پیناپسند کرتی ہیں۔ ایسا رس مختلف کیڑے یا درخت تیار کرتے ہیں۔ کچھ چیونٹیاں دوسرے کیڑوں کو کھا لیتی ہیں اور کچھ اپنے سامنے آئی ہر چیزچٹ کر جاتی ہیں، خواہ وہ ننھے جاندار ہی ہوں۔

چیونٹیوں کے منہ کے مختلف حصے ہوتے ہیں، جن سے وہ کھانے والی چیزوں کو پکڑتی اور کھانا کھاتی ہیں۔ منہ کے شروع میں جبڑے ہوتے ہیں۔ یہ دائیں بائیں حرکت کر سکتے ہیں۔ چیونٹی ان کی مدد سے خوراک کے علاوہ ننھے بچوں کو اٹھانے کا کام لیتی ہے۔ اس کے علاوہ ضرورت کے وقت وہ ان کی مدد سے دشمن کوکاٹ بھی سکتی ہے۔ جبڑوں کے بعد منہ کا وہ حصہ آتا ہے جس سے چیونٹی چبانے کا کام لیتی ہے۔ چیونٹی اپنی غذا کو سیدھا نہیں نگلتی۔ غذا پہلے منہ کے پیچھے ایک خانے میں جاتی ہے۔ یہاں غذا سے سارا رس نکال لیا جاتا ہے۔ چیونٹی اس رس کو نگل لیتی ہے اور پھوک کو باہر پھینک دیتی ہے۔

چیونٹیوں کے پیٹ دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک پیٹ میں وہ خوراک جاتی ہے جو چیونٹی خود کھاتی ہے۔دوسرے پیٹ میں وہ خوراک جاتی ہے جو وہ اپنی ساتھیوں کے لیے بچا کر رکھتی ہے۔ جب کوئی دوسری چیونٹی بھوکی ہو تو وہ اس چیونٹی کو تھپتھپاتی ہے یا اپنے اینٹینا سے ہولے سے حرکت کرتی ہے۔ دوسری چیونٹی ان کے لیے خوراک کو تھوک دیتی ہے۔ یہ خوراک ضرورت کے وقت لاروں کو بھی دی جاتی ہے۔

جب ملکہ انڈے دے دیتی ہے تو کام کرنے والی چیونٹیاں انھیں بچے نکالنے والے مخصوص کمروں میں لے جاتی ہیں۔ انڈوں کی پرورش کے لیے وہ انھیں مسلسل چاٹتی رہتی ہیں۔ کچھ دنوں میں انڈے لاروے بن جاتے ہیں۔ چیونٹی کے لاروے چھوٹی چھوٹی سنڈیوں جیسے نظر آتے ہیں۔ لارووں کو کسی دوسرے کمرے میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ یہاں چند ہفتوں میں وہ پیوپا بن جاتے ہیں۔ پیوپاکھاتے ہیں اور نہ ہی کوئی حرکت کرتے ہیں مگر ان میں مسلسل تبدیلیا ں رونما ہوتی رہتی ہیں۔ دو تین ہفتوں میں ان میں سے جوان چیونٹیاں نکل آتی ہیں اور یہ کام کرنے کے لیے تیار ہوتی ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments