لینڈ ریفارمز کی تجویز کی شدید مخالفت، دیامر میں‌عوام ایک ہوگئے

چلا س ( ڈسٹرکٹ رپورٹر ) دیامر میں لینڈ ریفارمز کی مخالفت،دیامر کے عوام ایک ہوگئے، لینڈ ریفارمز کمیشن کی پارلیمانی کمیٹی کے سامنے دیامر کے عوام نے لینڈ ریفارمز کی سخت مخالفت کی اور واضح الفاظ میں اس عمل کو دیامر کے اجتماعی مفاد کے خلاف قرار دیا۔چلاس سرکٹ ہاوس میں تانگیر سے لیکرگوہر آباد تک کے تمام عوام نے متفقہ طور پر لینڈ ریفارمز کی مخالفت کی اور دیامر کے عوامی اراضیات سے متعلق اصلاحات کو دیامر کی تشخص کے خلاف قرار دیا۔چلاس میں تانگیر ،داریل،تھور گوہر آباد ،بٹوگاہ اور تھک کے نمائندوں سابق سپیکر ملک محمد مسکین،حاجی امیر جان،ضیائ اللہ تھکوی، مولانا مزمل شاہ ،رحمت خالق،گلبر خان،مولانا سرور شاہ، نمبردار زبیر حاجی جمشید، نمبردار شکور رحمت ،ناشاد عالم نجیب اللہ و دیگرنے کہا کہ 1952کے معاہدہ اور اُس کے بعد کے عدالتی فیصلوں کے روشنی میں دیامر کے عوام کی تمام زمینوں کے مالک یہاں کے عوام ہیں اور جنگلات و معدنیات پر دیامر کے عوام کی ملکیت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیامر میں کوئی زمین خالصہ سرکار نہیں ہے اور جنگلات پرائیوٹ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ دیامر کے عوام اُس ایکسیشن ڈھیٹ اور اُس کے بعد آنے والے عدالتی فیصلوں کے پابند ہیں اور حکومت کو بھی چاہے کہ وہ اُن فیصلوں کا احترام کرے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے 1978کے ناتوڑ رول کے تحت دیامر کی اراضیات کے ساتھ چھیڑنے کی کوشیش کی جس کے خلاف دیامر کے عوام عدالتوں میں گئے اور اللہ کے فضل و کرم سے عدالتوں میں دیامر کے لوگ سرخرو ہوئے۔ ۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان بھر میں یکسانیت کیلئے قوانین بنانے ہیں تو حکومت اُن لوگوں کو بھی وہ حقوق دیں جو دیامر کے لوگوں کو حاصل ہیں ،ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے،لیکن ہمارے حقوق بھی چھین کر کہیں اُن کے برابر نہ کر دیں ۔

دیامر کے عوام نے مزید کہا کہ حکومت لینڈ ریفارمز سے پہلے لوگوں کے دیگر ضروریات پوری کرے ،دیامر میں لینڈ ریفارمز کی ضرورت نظر نہیں آرہی ہے

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments