چیک پوسٹ اور بے صبری

چیک پوسٹ انگریزی ترکیب ہے ۔ اس کا اردو متبادل چونگی تھا ۔ راستے میں ایسا مقام جہاں مسافروں کی تلاشی لیکر کسی سے محصول لیا جاتا ہے۔ کسی کوآگے جانے کی اجازت نہیں ملتی۔ کوئی یفت خواں طے کرکے منزل مقصود کی طرف روانہ ہوجاتاہے۔ افغانستان میں خانہ جنگی کو اب 40سال ہوگئے ہیں ۔ اس خانہ جنگی کے نتیجے میں پاکستان عمومی طور پر اور خیبر پختونخوا خصوصی طور پر دہشت گردی کا نشانہ بن گیا۔ دہشت گردوں کو روکنے کیلئے چیک پوسٹ قائم کئے گئے۔ سول حکومت کی درخواست پر چیک پوسٹوں کا انتظام پاک فوج کے ہاتھ میں دیدیا گیا۔ اگرچہ ان چیک پوسٹوں کی وجہ سے امن قائم کرنے میں مدد ملی مگر ایک نہ ایک دن چیک پوسٹوں کا انتظام سول انتظامیہ کو سونپ دینا تھا ۔ جنرل باجوہ نے اس کام کی ابتدا ملاکنڈ ڈویژن سے کی ہے۔ ہمارے گروپ نے چترال سے پشاور تک ایک ہفتے کا سفر کیا۔ چترال ٹاؤن سے درگئی تک چیک پوسٹوں پر دو گھنٹے رکنا پڑتاتھا ۔ صرف 4مقامات پر ڈرائیور کا شناختی کارڈ چیک کیا گیا۔ مسافروں سے مختصر پوچھ گچھ ہوئی ۔ اس عمل میں کل ملا کر 10منٹ کا وقت لگا۔ کوئی لمبی قطار دیکھنے میں نہیں آئی۔ کسی بھی مقام پر عزت نفس کے مجروح ہونے کااحساس نہیں ہوا۔ ہم لوگ فطری طور پر بے صبر واقع ہوئے ہیں ۔ ہم سے صبر نہیں ہوتا۔ جس طرح دہشت گردی کے دوران چیک پوسٹوں پر بے صبری دکھاتے تھے ۔ اسی طرح پشاور شہر میں میٹرو بس کی شاہراہ کے تعمیراتی کام کی وجہ سے ٹریفک کے متبادل نظام کو بھی ہم قبول نہیں کرتے۔ ہر کوئی شکایت کرتا ہے کہ ٹریفک کا نظام برباد ہوا۔ فارسی میں ایک شعر ہے ؂

ہر بنائے کہنہ راکباداں کنند

پیش ازاں بنائے را ویراں کنند

جس عمارت کی جگہ نئی عمارت بنانی ہو، پہلے پرانی عمارت کو گرانے کی ضرورت پڑتی ہے ۔ اردو میں حفیظ جالندھری کا مشہور مصرعہ ہے ۔

’’ بستی بسانا کھیل نہیں،بستے بستے بستی ہے‘‘انگریزی میں ایک ڈرامے کا کردار کہتا ہے ’’ روم کا شہر ایک دن میں تعمیر نہیں ہوا تھا‘‘ پشاور کے میٹرو بس کا نام بڑا مشکل ہے۔پشاور کے باسی اس کا کوئی آسان سا نام خود رکھ لینگے۔ لوگوں نے بہت سے مشکل ناموں کا آسان اور عام فہم متبادل ڈھونڈلیا ہے ۔ مثلاََ جوڈیشیل کمپلیکس کیلئے کچہری کالفظ استعمال ہوتا ہے۔ حیات محمد خان شیر پاؤ ٹیچنگ ہسپتال کو شیر پاؤ ہسپتال کہا جاتا ہے۔ اس طرح ’’ پشاور سسٹین ایبل بس ر یپڈ ٹرانزٹ کو ریڈور پراجیکٹ‘‘ کو بھی کوئی آسان اور عام فہم نام دیا جائے گا۔ پشاور شہر کی قدیم تہذیب کے حوالے سے ارزان میٹرو، خیبر میٹرو، قصہ خوانی لائن ، کوچوان میٹرو، زرکہ میٹرواور مَکیز بس بھی کہہ سکتے ہیں۔ احمد خان کی آواز میں ایک ٹپہ مشہور ہے ؂

سر سالو پہ سر کہ پہ مکیز باندی روانہ شہ

بیاد ڈیرہ نازہ لکہ زاکہ خرامانہ شہ

میرے محبوب ! سُرخ چادر سر پہ رکھو اور نازک قدموں کے ساتھ آگے بڑھو، پھر نازو ادا دکھاتے ہوئے چکور کی طرح تیز رفتاری دکھاؤ۔ پشاور کے عوام کے لئے موجودہ حکومت کا یہ بہترین تحفہ ہے۔ اگر 2014ء میں اس پرکام شروع ہوجاتا تو 2017ء کے وسط تک مکمل ہوچکا ہوتا۔یہ ایک طرف شہر کی خوبصورتی میں اضافہ کرے گا۔ دوسری طرف سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرے گا۔ نیز پشاور کے شہریوں کو پرانے ویگنوں، ٹیکسیوں ، رکشوں اور دیگر مہنگے یا نامناسب سواریوں سے نجات دلائے گا۔ آپ تصور کریں 2020ء میں منصوبہ مکمل ہوا تو پشاور کے شہری حاجی کیمپ سے وی آئی پی بس میں 30روپے کرایہ دیکر کارخانہ مارکیٹ تک جائیں گے۔ خیبر روڈ ، شعبہ ، ڈبگری، صدر ،تہکال اور دیگر سٹاپوں پر اترنے اور سوار ہونے کا لطف آئے گا۔ پشاور کو اسلام آباد ، لاہور، بنکاک ، لندن اور بیجنگ ، فرینکفرٹ یا ماسکو کی طرح صاف ستھری ، آسان ، ارزان اور بہترین بسوں میں سفر کرنے والوں کا شہر بنادیاجائے گا۔ پشاور کے باسی کسی اور شہر میں جاکر افسوس نہیں کریں گے کہ کاش ہمارے شہر میں بھی یہ سروس ہوتی۔ اس سروس کو حاصل کرنے کیلئے ڈھائی تین سالوں کی تکلیف یا مشقت اور زحمت کوئی بڑی قیمت نہیں ۔ پشاور کا ایک مسئلہ شاید کسی نے اب تک جنرل باجوہ کی نوٹس میں نہیں لایاہوگا۔ 10سال پہلے کسی آفیسر نے حکم دیا ہوگا کہ ’’ پیلے رنگ کی ٹیکسی میں دہشت گردوں کے آنے کا اندیشہ ہے۔ ان کو صدر اور یونیورسٹی میں آنے مت دو ۔‘‘ 10سال گذر گئے ۔ اس حکم پر عمل ہورہا ہے۔ردہشت گردوں کو بھی اس حکم کا پتہ ہے۔ اب سفید ، کالا، سرخ یا سبز اور بھورا رنگ ہو تو ٹیکسی چیک پوسٹ سے آگے جاسکتی ہے۔ رنگ پیلا ہو تو نہیں جاسکتی چاہے اس کے اندر خاتون بیٹھی ہو ، بیمار ہو یاجانا پہچانا معروف شخص ہو۔ جنرل باجوہ کو اس طرف بھی توجہ دینی ہوگی کہ دہشت گردی کو رنگ کے ساتھ کس طرح جوڑا جاسکتا ہے ؟ ؂

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن

خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments