بلتستان میں لینڈ ریفارمز خدشات کے گرادب میں

تحریر: فدا حسین

ریفامز کا اردو ترجمہ اصلاحات ہے جو اصلاح کا جمع ہے اور یہ اصلاحات معاشروں کو جمود سے نکالنے کے لئے ضروری ہے تاہم ان اصلاحات کو ثمرآور بنانے کے لئے ضروری ہے کہ معاشرے کے تمام طبقوں سے مشاورت کی جائے ورنہ ایسی اصلاحات فسادات کا بھی پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ اسی اصلاحات زمینوں کے حوالے سے ہوتو معاملہ اور زیادہ حساس شکل اختیار کر جاتا ہے کیونکہ زمین بھائی کو بھائی سے جد ا کرنے والی اشیاء کی فہرست میں شامل ہے اور ممکنہ طور پر گلگت بلتستان میں ہونے والی لینڈ ریفامز اس صورتحال سے ماورا نہیں ہے۔بلتستان کے پس منظر میں یہ مشاورت اور بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ بلتستان کو اب تک پاکستان میں سب سے پرامن علاقہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے مبادا کہ اس طرح کے اصلاحات کے نتیجے میں علاقہ امن کی دولت سے محروم ہو جائے۔

بلتستان اپنی تاریخ ،جغرافیہ ،بندوبستی کاغذوں اور رسم راج کے اعتبار سے انتہائی پیچیدہ علاقہ ہےکیونکہ پرانے بندوبستی کاغذات میں ضلع لداخ تحصیل سکردو لکھا ہوا ملتا ہے جس سے پتہ چلتاہے کہ جغرافیائی اعتبار سے بلتستان کافی بڑا علاقہ ہے (لداخ اس وقت بھارت کے پاس ہے) اس وقت گلگت بلتستان عملا پاکستان کا حصہ ہونے کے باوجود آئینی طور پرپاکستان کا حصہ نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کو آئین پاکستان میں دیئے گئے بنیادی حقوق مکمل طور حاصل نہیں ہیں جس کی طرف اب تک کسی نے عملی طورپر توجہ نہیں دی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار بھٹو نے اپنے دور میں وہاں سے جاگیرداری نظام کے خاتمے کا اعلان تو ضرور کیا مگر اس کے قانونی تقاضے پورے نہ ہونے کی وجہ سے کافی پیچیدگیاں موجود ہیں ،ان پیچیدگیوں میں زمینی تنازعات کو مرکزی مقام حاصل ہے جن کو ختم کرنے کے لئے اگر نیک نیتی سے بامقصد اصلاحات کئے جائیں تو یہ نہ صرف موجودہ لوگوں پر بلکہ آنے والی نسلوں پر احسان عظیم سے کم نہ ہوگا اور اس مطلوبہ اصلاحات کے لئے بلتستان کے عوام کو مندرجہ ذیل طبقوں میں تقسم کیاجا سکتا ہے ۔ ( الف) راجگان /مالکان۔ (ب) کاشتکار یا مزارع ۔ (ج )عام رعایائ۔(د) علمائ۔تاریخی طور پر بلتستان ڈوگرہ کے زیر تسلط میں آنے تک چھوٹی چھوٹی آزاد ریاستیں تھیں جہاں پر مقامی راجا حکومت کرتے تھے تاہم مقامی راجاؤں کے زوال(1840) کے بعد انہوں نے ڈوگرہ کا باج گزار ہونے میں اپنی عافیت جانتے ہوئے ڈوگرہ سرکار کو مالیہ(ٹیکس)ادا کرنے کی حامی بھری جس کے بعد جناب محمد یوسف حسین حسین آبادی کی کتاب تاریخ بلتستان  کے مطابق بلتستان میں پہلی بار قانونی بندوبست 1902میں اور دوسری بار 1916میں ہوا جس میں عوام پر نقد مالیہ اور اجناس کی لگان کی شرح متعین کر نے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں پر بیگار کا بھی بوجھ ڈالا گیا ۔(بیگار کا لغوی مطلب اجرت کے بغیر زبردستی کام لینا ہے جبکہ مقامی اصطلاح میں کسی علاقے میں راجا یا ،پٹواری یا کسی پولیس والے کی آمد کے موقع پر ان کے قیام و طعام کے بندوبست کے لئے مقامی لوگوں سے وصول کیا جانے والا اشیاء خرودنوش اور مقامی لوگوں سے کرائی جانے والی خدمت وغیرہ کو کہا جاتا تھا)  اور مقامی لوگوں کے مطابق اس زمانے میں غربت کے وجہ سے جو مالیہ ادا کرنے کی اسطاعت نہیں رکھتے وہ اپنی پوری جائداد (زمین)یا بعض حصہ راجہ  کے نام کرواتے تھے اور راجا اس شخص کی طرف سے مالیہ ادا کرتے تھے جس کی وجہ سے راجاؤں کی زمین میں اضافہ ہو تا چلا گیا ۔اس کے علاوہ مقامی طور پر سینہ در سینہ چلنے والی راویتوں کے مطابق اولاد نرینہ سے محروم لوگوں کی زمینوں کی ملکیت بھی راجا کو مل جاتی تھی  جسے مقامی زبان میں ناں جینگ کہا جاتا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کا حصہ بننے کے باوجود بھی 1972میں ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے جاگیرداری نظام اور بیگار رسم کے خاتمے کے اعلان تک جاری رہی۔ اس کے بعد نقد مالیہ اور  بیگار کا تو خاتمہ ہوگیا کیونکہ بیگار کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 10کے شق نمبر2 میں ممنوع قرار گیاتھا تاہم اس کے باجوود آج بھی بیگار کی مختلف شکلیں وہاں کے معاشرے میں دکھائی دیتی ہیں۔اس کے بعد مالکوں اور کاشتکاروں کا نمبر آتا ہے مالکوں میں راجا خاندان کے لوگوں کے ساتھ دیگر لوگ بھی شامل ہیں  جنہوں نے اپنی زمینوں کو کاشتکاروں کو دی تھی تاہم کاشتکاروں کی بھی دو قسم مستقل اور غیر مستقل ہیں ۔ یہاں پر قابل ذکر بات یہ ہے ان میں سے اکثر کاشتکاروں نے زمین خود آباد کی تھی اور ان کی کئی نسلیں بھی گزر چکی ہیں۔ اس کے باوجود” مزارع تابعِ مرضی ِ مالک ” کا اصول رائج کرنے کے لئے کئی دہائیوںسے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ۔ بھٹو کے ان اعلانات کے باوجود بھی  کاشتکاراپنے مالکوں کو لگان بدستور ادا کر رہے ہیں ۔ اور آج حد تو یہ ہے کہ راجاخاندان کے لوگوں کو لگان ادا کرنے والوں میں سے اکثر یت تو اس لگان کی وجوہات سے ناواقف نظر آتے ہیں ۔ اس کے بعد عام رعایا کا نمبر آتا ہے  جن کی کافی زمینیں ہیںان کی زمینوں کے بعض حصے بندوبستی ہیں اور بعض حصے بندوبستی نہیں ہے ۔ مقامی افراد اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ ماضی میں نمبر دار، معتبر اور ڈوگرہ حکومت کی بیورو کریسی میں شامل لوگوں نے غیر آباد زمینوں کو خاموشی سے اپنے نام کروا لئے اگرچہ وہ زمین اس زمانے میں آباد کرنے کے قابل نہیں تھی ۔اور بعض مورخیں کے نزدیک بعض علاقوں کے لوگ مختلف وجوہات کے بنا پر نقل مکانی کر کے دوسری وادیوں میں چلے گئے تھے اس لئے قوی امکان ہے کہ ان زمینوں پر بھی وہاں رہ جانے والوں نے قبضہ کیا ہو گا ۔ اور بعض مقامات پرزمینوں کی ملکیت کے حوالے سے گاؤں کے سطح پر تنازعات ہیں کریس اور غواڑی کے درمیاں موجود تنازعہ اس کی اہم مثال ہے۔اس کے علاوہ اکثر مقامات پر مقامی لوگوں کے مابین کے حریم کے مسئلے پر کافی تنازعات پاے جاتے ہیں  اور حریم کے مسئلے پر تنازعہ ڈوگرہ دور میں ہونے بندوبست کے تناظر میں ہی ہے یہ تمام پہلو اصلاح طلب ہیں مگر خاکم بدہن اس مجوزہ لینڈ ریفامز کا سرکار کا مقصد ان مسائل کا کوئی محطاط حل نکالنے کے بجائے” لڑاؤ اور حکومت کرو “کی پالیسی عمل کرتے ہوئے ان تنازعات کے آڑ میں مقامی لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کرنا معلوم ہوتاہے  شائد اسی وجہ سے یہ  لینڈ ریفارمز خدشات کے گرداب میں نظر آتا ہے کیونکہ اکثر مقامات کو خالصہ سرکار قرار دے کر سرکار نے قبضہ کر رکھا ہے اور جو غیر آباد مقامات کو اگر مقامی لوگ آباد کرنا شروع کردے تو سرکار ان کو نوٹس جاری کرتی ہے اس سلسلہ میں راقم کے اپنے گاؤں سلینگ کے سرکردگان کے نام سرکار کی نوٹس اس گنہگار آنکھوں نے خود دیکھا ہے جو کہ بنیادی طور پرمقامی لوگوں کے درمیاں موجود اختلافات کا شاخسانہ ہے ورنہ سرکار میں اتنی ہمیت بھی نہ ہوتی۔ یہاں پر جملہ معترضہ کے طور پر عرض ہے کہ افسوس کہ گانچھے میں اس لینڈ ریفامز کے حوالے سے لوگوں نے چب سادھ اخیتار کر رکھی ہے۔ اس سارے معاملے میں علما کرام کو فریق کے طور پر پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان تمام باتوں کی شرعی حیثتت کا فیصلہ انہی علماء کرام نے ہی کرنا ہے اگر یہاں پر بھی وہ صرف اپنے فقہی اختلاف کا شکار ہو جائیں تو قیامت کو امت کا ہاتھ ان کے گریبانوں میں ہوگا ۔ان سب مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے بلتستان کے تمام مسالک کے علماء کرام پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی یا بورڈ تشکیل دیا جائے جو ان تمام پہلوؤں کا  جائزہ لے کر شرعی نقطہ نگاہ سامنے لائیں ۔تاکہ عوام آپس میں دست و گریبان ہونے کے بجائے اتفاق واتحاد اور پیار و محبت سے رہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہے اس حوالے سے حکومت کو پورے وسائل فراہم کرنے ہوں گے ۔ گلگت بلتستان میں عوامی ایکشن کمیٹی کی کاردگرگی کو دیکھتے ہوئے تسلی سے کہہ سکتا ہوں کہ بلتستان کے علماء اس معاملے میں بھی اپنے مسلکی اختلافات کو بالا ے طاق رکھتے ہوئے آگے آئیں گے ۔کیونکہ اس سارے مسائل کا حل تلاش کرنا کسی ایک مسلک کے علماء کے لئے نہ تو ممکن ہوگا اور نہ ہی تمام مسلکوں کے لوگوں کے قابل قبول ۔ اس لئے ہماری دانست میں اس وقت اس سے بڑا اجتہاد کوئی نہیں ہوگا۔ہم یقین سے کہ سکتے ہیں کہ بلتستان میں غربت اپنے عروج پر ہونے باوجود ایسے دانشواراور علماء کرام کم ہی سہی مگر موجود ضرور ہیں جو اس سلسلے پوری دیانت داری کے ساتھ حکومت کی معاونت کریں گے۔ ضروری وضاحت اس میں یہ خدشات بلتستان تک محدود رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ راقم نے بلتستان ڈویژن سے باہر کسی علاقے میں زمین کے حوالے سے بندوبستی کاغذات نہیں دیکھا ہے ہو سکتا ہے یہ صورتحال پورے گلگت بلتستان کا ہو ۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments