علاقے کی ثقافت اور ہماری زمہ داری

تحریر:۔ دردانہ شیر

گلگت بلتستان جو اپنی ثقافت کی وجہ سے پورے ملک میں مشہور ہے اور ہر سال لاکھوں کی تعداد میں سیاح گلگت بلتستان آتے ہیں اور اس جنت نظیرے خطے سے اچھی یادیں لیکر واپس چلے جاتے ہیں اور ہر سال یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے گلگت بلتستان کا خوبصورت ترین خطہ غذر جس کو شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے یہ ضلع اپنے نیلگوں آسمان ،سرسبز وشاداب ،چراگاؤں اونچی اونچی چوٹیوں اور وسیع و عریض میدانوں کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کامرکز رہا ہے سالانہ ہزاروں کی تعداد میں سیاح اس خوبصورت علاقے کا رخ کرتے ہیں ایک طر ف اس جنت نظیرخطے کی قدرتی خوبصورتی تو دوسری طرف یہاں پر انگریزوں کے زمانے میں بنائے گئے تعمیرات بھی یہاں آنے والے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے مگر دو سو سال قبل تعمیر ہونے والے ان قیمتی فن تعمیر کی مناسب دیکھ بال نہ ہونے سے اب آہستہ آہستہ یہ آثار قدیمہ مہندم ہوتے چلے جارہے ہیں دوسری طرف اس علاقے میں آنے والے سیاحوں کو آمدورفت کے سلسلے میں بھی سخت مشکلات کا سامنا ہے گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت سالانہ خطے میں آنے والے سیاحوں کو اگر سہولتیں فراہم کر دیں تو یہ خطہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے اخباری بیانات تک تو صوبائی حکومت ٹورازم کے فروغ کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کرتی ہے مگر عملی طور پر دیکھا جائے تو یہاں آنے والے سیاح خطے کی خستہ حال سڑکیں اور رہائش کی سہولتیں نہ ہونے پرسخت پریشان ہیں اور عوام بھی گلگت غذر روڈ کی خستہ حالی کا رونا روتے ہیں مگر حکمران کبھی اس کو سی پیک میں شامل کرنے اور کبھی اس کو تاجکستان سے لنک کرنے کی نوید سناتے ہیں اور یہ نوید ابھی سے نہیں ہم1990سے سنتے ارہے ہیں مگر کوئی بھی حکومت برسر اقتدار آئی کسی نے بھی گلگت غذر روڈ کی تعمیر پر عملی طور پر کام نہیں کیا اب یہ شاہراہ دنیا کا ایک عجوبہ بن گیا ہے اور اس شاہراہ کی حالت دیکھ کر نہ صرف یہاں کے عوام بلکہ یہاں اںے والے سیاح بھی سخت پریشانی کا شکار ہوتے ہیں مگر حکومت خاموش ہے اور یہاں کے عوام کی خاموشی کا تماشا دیکھ رہی ہے دوسری طرف محکمہ ٹورازم یہاں آنے والے سیاحوں کومعلومات تک فراہم نہیں کرتی اگر یہاں انفارمیشن سینٹر کا قیام عمل میں لایا جائے اور یہاں کے پرٖفضا مقامات اور آثار قدیمہ کے حوالے سے یہاں آنے والے سیاحوں کو آگاہ کیا جائے تو گلگت بلتستان کا یہ خوبصورت خطہ دیکھنے لاکھوں کی تعداد میں سیاح اس علاقے کا رخ کرسکتے ہیں صوبے کے دیگر علاقو ں کی طرح غذر میں بھی ٹورازم کے حوالے سے حکومت کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے اس وقت صورت حال یہ ہے کہ غذر میں انگریزوں کے زمانے میں بنائے گئے فورٹ کھنڈرات میں تبدیل ہوگئے ہیںیہ آثار قدیمہ حکومت کی عدم توجعی کی وجہ سے لاوارث ہوگئے ہیں انگریزوں کے دور میں تعمیر ہونے والا گوپس فورٹ بھی کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے جبکہ یاسین فورٹ اور گاہکوچ فورٹ کی بھی مناسب دیکھ بال نہ ہونے سے یہ قیمتی آثاثے آہستہ آہستہ مہندم ہورہے ہیں اگر ان کی مناسب دیکھ بال نہیں ہوئی تو ہمارے یہ قمیتی اثاثے اہستہ اہستہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائینگے جو کسی بھی زندہ قوم کے لئے نیک شگون نہیں سینگل میں انگریزوں کے دور میں تعمیر کیا جانے والا ہسپتال جوکہ علاقے کا قیمتی آثاثہ تھا محکمہ تعمیرات عامہ نے اس قیمتی آثاثہ کو بچانے کی بجائے اس کونامعلوم وجوہات کی بنا پر مسمار کر دیا اور یہ قیمتی اثاثہ صفحہ ہستی سے ہی مٹ گیااور اب اس کاکوئی نام ونشان تھا موجود نہیں اخر وہ کیا وجہ تھی کہ راتوں رات اس قیمتی اثاثے کو مسمار کرنے کی نوبت آئی اس اہم اثارقدیمہ کو مسمارکرنے سے یہاں کے عوام اور یہاں آنے والے سیاح ایک یادگار فن تعمیر کو دیکھنے سے محروم ہوگئے دوسری طرف گوپس فورٹ جس کی تعمیر1805میں برٹش دور حکومت میں ہوئی تھی اب اس قیمتی آثاثے کی بھی دیواریں گر گئی ہیں جبکہ فورٹ کے اندر تعمیرات بھی کھنڈرات کامنظر پیش کر رہی ہے اس طرح یاسین اور گاہکوچ فورٹ بھی خستہ حالی کا شکار ہیں اگر حکومت نے ہمارے یہ تاریخی آثاثوں کو نہیں بچایا توعلاقے کی تاریخ ہی مٹ جائیگی جبکہ یاسین کو ملانے والے انگریزوں کے دور میں تعمیر کیا گیا لکڑی کے پل کو بھی گرانے کے لئے بعض افرادنے سازشیں شروع کر دی ہے اگر اس کی بھی مناسب دیکھ بال نہ ہوئی تو راتوں رات اس یادگار کو بھی مسمار کر دیا جائے گا دوسری طرف علاقے کے تینوں ممبران قانون سازاسمبلی کی خاموشی بھی حیران کن ہے وہ بھی ان قیمتی اثاثوں کو بچانے کے لئے کوئی اقدامات نہیں اٹھا رہے ہیں علاقے کے یہ قدیم اثاثے آہستہ آہستہ زمین بوس ہورہی ہے جبکہ سینگل گاؤں میں انگریزوں کے دور میں تعمیر ہونے والا ہسپتال کی پوری بلڈنگ ہی محکمہ تعمیرات نے مسمار کرکے علاقے کی تاریخ کو ہی مٹانے کی کوشش کی اس حوالے سے علاقے کے عوام نے احتجاج بھی کیا مگر متعلقہ حکام خاموش رہے اس طرح علاقے کے اس قیمتی آثاثہ کو چندآفراد نے مٹی کا ڈھیر بنا دیاجبکہ آغاخان کلچربورڈ کی جانب سے سینگل ہسپتال میں ڈاکٹروں کے رہائشی مکانات کی مرمت کرکے اس قیمتی اثاثے کو بچایا ہے مگر ہسپتال کی بلڈنگ نامعلوم وجوہات کی بنا پر محکمہ تعمیرات عامہ نے مسمار کر دیا مگر اعلی حکام کو اسبارے میں پتہ ہونے کے باوجود بھی خاموش ہیں اس طرح اگر اس قیمتی ورثے کی حفاظت نہ کی گئی تو علاقے میں موجود دیگر ایسے قیمتی تعمیرات جن میں گوپس فورٹ ،یاسین فورٹ ،گاہکوچ فورٹ اور ہاکس پل کے علاوہ درجنوں ایسے فن تعمیر ہیں جن کو انگریز دور میں بنایا گیا آج اس قیمتی آثاثے کو نہیں بچایا گیا تو علاقے کی تاریخ ہی مٹ جائیگی غذر میں ایسے تاریخی مقامات تھے جوکہ یہاں کی تاریخ کا ایک اہم حصہ رہے ہیں جس میں ہر ایک مقام کی پوری ایک تاریخ ہے مگر ہم آہستہ آہستہ اپنی اس تاریخ کو زندہ کرنے کی بجائے اپنی تاریخ کو مٹانے میں مصروف ہوگئے ہیں چونکہ کسی بھی قوم کی اگر ثقافت ختم ہوتو ایسی قومیں مٹ جاتی ہے ہمیں اپنے اس قیمتی ورثہ کو بچانا ہوگاہم سب کو غذر میں موجود ہمارے ان قیمتی اثاثوں کو بچانے اور ان کو ان کی اصلی شکل میں دوبارہ لانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا گلگت بلتستان کی حکومت کے پاس ان تاریخی مقامات کو آصلی شکل میں لانے کے لئے پیسوں کی کمی ہے تو ان کی مرمت کاکام آغاخان کلچر بورڈ کے حوالے کردیں تاکہ یہ ادارہ ہمارے ان قیمتی آثاثے کو بچا سکے چونکہ ہمارے یہ قیمتی اثاثے تقریبا منہدم ہونے کو ہیں اور ان قیمتی اثاثوں کی حفاظت کو مناسب دیکھ بال حکومت وقت کی زمہ داری ہے اورحکومت اس طرح خاموشی رہی تو غذر میں موجود یہ آثار قدیمہ کا نام ونشان مٹ جائیگا اور تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔چونکہ کسی بھی قوم کی پچان اس کی ثقافت سے ہوتی ہے ہم سب کو مل کر اپنے ان قیمتی اثاثوں کی حفاظت وقت کی ضرورت ہے اگر اج ہم کو نہ بچا سکے تو ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کرئیگی

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments