سپریم اپیلیٹ کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں‌کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کیا جائے،گلگت بلتستان پروفیسر ایسوسی ایشن

گلگت(خصوصی رپورٹ) سپریم اپیلیٹ کورٹ کی واضح ہدایات موجود ہیں لہذا تمام کنٹریکٹ ملازمی کو ریگولر کیا جائے۔گلگت بلتستان پروفیسر ایسوسی ایشن لیکچراروں سمیت تمام کنٹریکٹ ملازمین کی ریگولارائزیشن کی مکمل حمایت کرتی ہے کئی سالوں سے یہ آفیسران علاقے کی خدمت کررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار گلگت بلتستان پروفیسرایسوسی ایشن کے صدر ارشاد احمد شاہ نے کیا ۔ کنٹریکٹ ملازمین کی طرف سے گھڑی باغ میں دیا گیا دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے صدر نے مزید کہا کہ ان تمام آفیسران کو ٹیسٹ انٹرویو کے بعد نوکری دی گئی ہے میرٹ پر لہذا ڈاکٹروں کی انہیں بھی ون ٹائم ریگولرائزیشن ایکٹ میں شامل کیا جائے۔گلگت بلتستان کی عدالت عالیہ نے بھی حکومت کو واضح احکامات جاری کیے ہیں ۔ پہلے بھی بہت سارے آفیسروں کو ریگولر کیا گیا ہے۔ان کا کیا قصور ہے۔ یہ بھی بڑی یونیورسٹیوں سے پڑھ کر آئے ہیں اور ٹیسٹ انٹرویو کے مراحل سے گزر چکے ہیں اور تجربہ بھی رکھتے ہیں اپنے کام میں۔ گزشتہ حکومت کی طرح اس حکومت نے بھی بہت سارے کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کیا ہے لہذا ان کو بھی ریگولر کیا جائے، ہم ایسوسی ایشن والے وزیراعلی گلگت بلتستان، گورنر، چیف سیکرٹری ، عدالت عالیہ اور فورس کمانڈر سے اپیل کرتے ہیں کہ ان ملازمین کو بنیادی حق دیتے ہوئے انہیں فوری طور پر ریگولر کیا جائے۔ ملک کے دوسروں صوبوں بالخصوص پنجاب اور کے پی کے میں بھی ہزاروں کنٹریکٹ آفیسران کو ریگولر کیا جاچکا ہے۔لہذا حکومت اور ارباب اختیار خواتین اور مرد حضرات کو یوں دھرنے دینے پر مجبور مت کریں بلکہ ان کی داد رسی کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments