جنگلاتی علاقوں کے عوام کے دشمن شہزادہ سراج الملک نے لاکھوں مکعب فٹ لکڑی غیرقانونی طور پر حاصل کی، پریس کانفرنس

چترال (بشیر حسین آزاد) چترال کے جنگلاتی علاقوں شیشی کوہ، ارندو، ارسون اور دمیل کے عمائیدیں شیر محمد، حاجی محمد شفا، حاجی شیر زمین، محمد عثمان، عبدالستار، سکندر خان، کریم خان، ولی الرحمن اور دوسروں نے کہا ہے کہ جنگلاتی علاقوں کے عوام کا دشمن شہزادہ سراج الملک ہیں جوکہ ماحولیات کا چیمپین بن کر خود لاکھوں مکعب فٹ لکڑی کی غیر قانونی استعمال اور سمگلنگ میں ملوث ہے اور چور مچائے شور کے مصداق اپنی غلطی چھپانے کے لئے ایسے ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں۔ بدھ کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے شہزادہ سراج الملک سے سوال کیا کہ چترال میں اپنی عالی شان ہوٹل کی تعمیر میں لاکھوں فٹ لکڑی انہوں نے کہاں سے حاصل کیا جبکہ عام آدمی گھر تعمیر کرنے کے لئے 50فٹ لکڑی کے لئے تین سال تک دربدر کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر ماحولیات کے اس چیمپین نے کسی سرکاری ڈپو سے یہ لکڑی حاصل کی ہے تو اس کی رسید اور ثبوت پیش کرے ۔ انہوں نے کہاکہ اتنی بڑی مقدار میں غیر قانونی لکڑی جنگل سے حاصل کرکے دراصل انہوں نے جنگلاتی علاقوں کے غریب عوام کے منہ سے نوالہ چھین لیا ہے لیکن اپنی دولت کے بل بوتے ہوئے حاصل اثرورسوخ کو استعمال میں لاتے ہوئے اپنا جرم چھپارہا ہے کیونکہ عمران خان سمیت ہر اعلیٰ ذمہ دار شخص اس کے ہوٹل میں قیام کرتا ہے اور ان سے لکڑی کی اتنی مقدار میں استعمال کے بارے میں کوئی نہیں پوچھتا ۔ جنگلاتی علاقوں کے عمائیدین نے رپورٹروں کو ایک آرا مشین کی تصویر دیکھاتے ہوئے کہاکہ جنگلات کی تحفظ کے لئے مگرمچھ کے آنسو بہانے والے اس شخص نے اپنے ہوٹل کے احاطے میں لکڑیوں کی کٹائی کے لئے مشین بھی لگادی ہے ۔اور دوسرے اضلاع کوتعمیراتی لکڑی سپلائی کرتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ شہزادہ سراج الملک کبھی غیر جنگلاتی علاقوں کے لوگوں کو ان کے خلاف پریس کانفرنس کرواکر انہیں بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کبھی سوشل میڈیا پر مختلف لوگوں کے ذریعے ان کے خلاف زہر افشانی کرتا رہتا ہے اور گزشتہ دنوں بیلہ ششی کوہ کے جن افراد کو ان کے خلاف پریس کانفرنس کیلئے بھیجا تھا ،وہ مقامی حاکم خاندان کے مزارع ہیں جن کے کوئی جائداد نہیں جس کااُن کا خود بیان حلفی موجود ہے ۔ انہوں نے نیب سمیت دوسرے اداروں سے اپیل کی ہے کہ شہزادہ سراج الملک کی ملکیتی ہوٹل میں استعمال شدہ غیر قانونی لکڑی کی تحقیقات کرائی جائے۔ انہوں نے ڈی سی چترال کی طرف سے جنگلات کی رائیلٹی کے رقوم کی تقسیم سے متعلق نئی فارمولے کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ خواتین کو حصہ دینے کا ڈرامہ رچاکر انہوں نے کوئی نیا کام نہیں کیا ہے جبکہ خواتین کو پہلے سے رائیلٹی میں حصہ دیا جاتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments