استور ہسپتال میں‌حاملہ خاتون کی موت انقلاب اور ترقی کے دعویداروں کے منہ پر طمانچہ ہے، وزیر نعمان

استور (بیورو رپورٹ )استور ہسپتال میں حاملہ خواتین کا انتقال انقلاب کے دعویداروں کے منہ پر تمانچہ ہے۔ محکمہ صحت کے ذمہ داروں کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے۔ یہ ضلع استور کا پہلا واقع نہیں۔ اس سے پہلے بھی بے شمار واقعات رونما ہوئے ہیں۔ حاملہ خاتون کے محکمہ صحت کے عملے کی غفلت سے انتقال کے بعد پارلیمانی سکریٹری صحت برکت جمیل کا سوشل میڈیا پر خبر کو بے بنیاد قرار دینا لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ استور کے ممبران اسمبلی آپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے بے ہودہ انداز تک آپنانے سے گریز نہیں کرتے۔ حاملہ خواتین کے لواحقین کی داد رسی اسوقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ذمہ داروں کو کٹیہرے میں نہیں لایا نہیں جاتا۔
ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی ضلع استور کے ڈپٹی انفارمیشن سکریٹری وزیر نعمان نے آپنے اخباری بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع استور کا ڈی۔ایچ ۔کیو ہسپتال برائے نام ہے۔ جہاں پر آپنڈیکس کے مریضوں کو گلگت ریفر کیا جاتا ہے تو اسکو ڈی۔ایچ۔کیو ہسپتال کا نام دینا عوام استور کیساتھ سنگین مذاق ہے۔ اس سے بہتر تو اے کلاس ڈسپنسری ہے۔ حاملہ خاتون کے انتقال کی خبر پر ممبر اسمبلی کا خبر کو بے بنیاد قرار دینا عوام استور کیساتھ مذاق ہے۔ اور لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ممبر اسمبلی ایسے بیانات دے کر آپنی ناکامی کو نہ چھپائیں۔ بلکہ بحثیت پارلیمانی سکریٹری صحت ضلع استور کے ہسپتال میں بہتری لانے کے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments