حرام گوشت

عبدالکریم کریمی

حرام گوشت بیچنے کی افواہیں ایک دفعہ پھر گردش میں ہیں۔ آج گوشت لینے مارکیٹ گیا لیکن حرام گوشت بیچنے کی باتیں بھی ذہن میں تھیں۔ اس لیے پریشانی تھی کہ کہیں حرام گوشت ہاتھ نہ لگے۔ میں ایک قصاب سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے کے پاس چکر لگاتا رہا، گوشت کو ٹٹول کر دیکھا۔ اب بھلا ایسے ٹٹونے سے حرام حلال کا کونسا پتہ لگنا تھا۔ پریشانی کے عالم میں ایک قصاب سے پوچھنا ہی پڑا۔

بابا! یہ گوشت حلال جانور کا ہی ہے ناں؟

بابا خاموشی سے گاہکوں سے پیسے لینے اور گوشت دینے میں مصروف تھا۔ بابا نے مجھے سنا نہیں یا میری بات ان سنی کر دی۔ ان کی طرف سے خاموشی پاکر میں نے مکرر سوال کیا۔ بابا! یہ گوشت حلال جانور کا ہی ہے ناں؟ اس دفعہ سوال پوچھتے ہوئے قدرے میری آواز اونچی ہوگئی تھی۔

بابا نے میری طرف دیکھا نظروں سے اشارہ کرتے ہوئے کہا صاب! یہ بکری کا سر اور پیر پڑے ہیں ابھی ابھی ذبح کیا ہے۔ بالکل حلال ہے۔

یہ کہتے ہوئے وہ میرے کہنے پر ایک کلو گوشت طول کے مجھے دیدیا پھر مجھ سے گوشت کی قیمت وصول کرتے ہوئے جو سوال بابا نے کیا وہ مجھے شرمندہ کرنے کے لیے کافی تھا۔

بابا نے میرے ہاتھ سے نوٹ لیتے ہوئے بے ساختہ پوچھا تھا۔

صاب! یہ نوٹ بھی حلال ہی ہے ناں؟

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments