آرڈر 2018 بادشاہی نظام، حکومت نے گلگت بلتستان میں اظہارِ‌رائے پر پابندی لگادی ہے، سعدیہ دانش

گلگت (پ۔ر) پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی صوبائی سکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ آرڈر 2018 جمہوری لبادے میں بادشاہی نظام ہے۔پرامن مظاہرین پر تشدد غیر جمہوری طرز عمل ہے حکومتی طاقت کا غیر ضروری استعمال آمرانہ ذہنیت کا عکاس ہے۔حفیظ سرکار اپنے سیاسی آقاؤں کی ڈگر پر عمل پیرا ہو کر عوام سے پرامن احتجاج کا جمہوری,آئینی اور بنیادی انسانی حق چھین رہی ہے۔آمریت کی پیداوار جماعت نے اپنے عوام دشمن اقدامات کے ذریعے اپنا چہرہ مسخ کر دیا۔نواز لیگ کی حکومت نے گلگت بلتستان میں اظہار رائے کی آزادی پر پابندی لگادی ہے اور پر امن مظاہرین پر جس طرح پولیس گردی کی گئی وہ پنجاب حکومت کے نقش قدم پر چل رہے ہیں گلگت بلتستان میں مظاہرین پر فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم ڈھائے گئے اور صوبائی حکومت کی اس بربریت کو گلگت بلتستان کی تاریخ میں سیاہ حروف میں لکھا جائے گا۔وزیر اعظم کے دورے کو گلگت بلتستان کے عوام نے مسترد کر دیا اور انہوں سے نواز لیگی اراکین اسمبلی سے خطاب کیا۔اس آرڈر کی کڑیاں مسئلہ کشمیر نہیں وزیر اعظم آزاد کشمیر سے جڑی ہیں۔جب تمام تر اختیارات وزیر اعظم کو سونپ دئے ہیں تو برائے نام اسمبلی کا ڈرامہ رچانے کی کیا ضرورت ہے۔گورننس آرڈر 2009 کو قاتل پیکیج کہنے والوں نے خودکش پیکیج دیا ہے۔جب گلگت بلتستان کے عوام اس آرڈر کو مسترد کر چکے ہیں تو حکومت زبردستی نفاذ کے ذریعے عوام کو اشتعال دلا کر اور بے یقینی کی صورتحال پیدا کر کے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے لگتا ہے نواز لیگ کی وفاقی حکومت جاتے جاتے اس حساس خطے کو کسی بڑے بحران میں ڈالنا چاہتی ہے۔اب گلگت بلتستان کے عوام کو نام نہاد لولی پاپ سے نہیں بہلایا جاسکتا۔ خصوصاً یہاں کی نوجوان نسل آئینی حقوق کے حوالے سے احساس محرومی اور تشویش کا شکار ہے۔وفاقی حکمرانوں کو اب نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے اور مزید کسی تاخیر کے بغیر یہاں کے عوام کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے قومی اسمبلی اور سینیٹ سمیت تمام آئینی اداروں میں نمائندگی دی جانی چاہئے۔سی پیک اور عالمی حالات کے تناظر میں گلگت بلتستان میں مزید بے یقینی کی صورتحال کسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments