غیر قانونی تقرریوں کے خلاف ہنزہ میں‌احتجاجی مظاہرہ

ہنزہ ( اجلال حسین )ناانصافی سے تنگ ہنزہ کے سیاسی پارٹیاں بلااخر شاہراہ قراقرم پر نکل آئے، محکمہ صحت ہنزہ میں ہونے والی غیر قانونی بھرتیوں کے خلاف آل پارٹیز الائنس کا ہنزہ کالج چوک پر دھرنا، شاہراہ قراقرم 5گھنٹوں سے زائد بند رہا، ماہ صیام میں مسافروں اور روزہ داروں کو سخت مشکلات کا سامنا، قائمقام ڈی سی ڈاکٹر انس ، یو ٹی اے سی کپٹن(ر) شہریار شیرازی کی جانب سے پانچ دن کی مہلت پر دھرنا اختتام پزیر صوبائی حکومت ، وزیراعلیٰ سیکرٹری صحت اور ڈائریکٹرکے خلاف شدید نعرہ بازی ،ڈی ایچ او ہنزہ کا دھرنہ شرکاء سے معذرت ،بھرتیوں کی منسوخی میری بس کی بات نہیں ۔

محکمہ صحت گلگت بلتستان کے اعلیٰ حکام کی جانب سے گزشتہ دنو ں محکمہ صحت ہنزہ میں ہونے والی غیر قانونی بھرتیوں کے خلاف  آل پارٹی الائنس کے عہدیداروں اور کارکنوں نے شاہراہ قراقرم کالج چوک ہنزہ میں دھرنا دیا۔ جس کی وجہ سے شاہراہ قراقرم پانچ گھنٹے سے زیادہ تک مکمل طور پر بند رہا۔ جس کے باعث ماہ صیام میں مسافر و روزہ داروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

آل پارٹیز دھرنے میں غیر قانونی بھر تیوں کے خلاف صوبائی حکومت ، وزیر اعلیٰ علاقے کے نمائندے ، محکمہ صحت گلگت بلتستان کے اعلیٰ حکام ، سکرٹری صحت اور دائریکٹرکے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ دھرنے کے شرکاء نے حکومت وقت اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جب تک غیر قانونی بھرتیوں کو منسوخ نہیں کرتے دھر نا ختم نہیں ہوگا ، انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی عوام ہنزہ کے ساتھ نہ صحت صحت بلکہ محکمہ پولیس میں بھی حالیہ بھرتیوں میں کوٹہ انتہائی کم دیا گیا ہے جس پر ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کی مرکزی سڑک ہنزہ کے اڑھائی سو کلومیٹر سے زائد رقبے سے گزرتا ہے، لیکن اس کے باوجود ضلع کو صرف 14 پوسٹیں دے کر زیادتی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سپیشل پروٹیکشن یونٹ میں پوسٹس کی تعداد بڑھائی جائے اور محکمہ صحت میں غیر قانونی تقرریاں ختم کرکے ضلع سے ہی اہل افراد کو ملازمت دی جائے، ورنہ عوام شاہراہ کو بند کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

اس موقع پر ڈی ایچ اور ہنزہ نے دھرنا شرکاء سے ملاقات کی جہاں پر حالیہ ہونے والے بھرتیوں کو منسوخ کرنے کو کہا جس پر ڈی ایچ اور ہنزہ نے دھرنا شرکاء سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ میری بس کی بات نہیں جس پر دھر نا شرکاء نے ڈی ایچ او ہنزہ کو دھرنے سے باہر نکال دیا۔

جبکہ دوسری جانب ضلعی انتطامیہ ہنزہ کی جانب سے قائمقام ڈی سی ہنزہ ڈاکٹر انس اور یو ٹی اے سی ہنزہ کپٹن (ر) شہریار شیرازی نے دھرنا شرکاء سے وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت کی جانب سے جو بھرتیاں کی گئی ہے ان کی جگہ مقامی افراد کو لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پانچ روز کے اندر متعلقہ تجربہ رکھنے والے امیدوار ڈی ایچ اور آفس میں درخواستیں جمع کریں، جس کے بعد محکمہ صحت گلگت بلتستان اُن امیدواروں کو ٹیسٹ اور انٹریو کے لئے بلائے گا۔  میرٹ کے تحت پاس ہونے والے امیدواروں کی بھرتیاں عمل میں لائے جائے گے جس پر شرکاء دھرنا نے ضلعی حکومت کی جانب سے کی جانے واللی یقین دہانی پردھرنا کو موخر کر دیا۔

شرکاء دھرنا نے ضلعی حکومت سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پانچ ورز کے اندر غیر قانونی بھرتیوں کو منسوخ اور مقامی افراد کو نہ لینے کی صورت میں ہنزہ کو مکمل طور پر جام کریں گے۔ دھرنے میں پاکستان مسلم لیگ ن کے سواء تمام سیاسی پارٹیوں بشمول پی پی پی ہنزہ، پی ٹی آئی ، بزنس ایسوسی ایشن ، ٹرانسپورٹ ایوسی ایشن، عوامی ورکر پارٹی کے عہداداران اور کارکنان کے علاوہ دیگر سول سوسائٹی کے افراد نے شرکت کی۔

یاد رہے کہ 4مئی 2018کو ڈائریکٹر ہیلتھ ڈاکٹر اسرار کے دستخط سے سکیل 9کے دو ایکسرے ٹیکنسیشن کے علاوہ دو لیب ٹیکنشین سیکیل 6اور 9کے ایپائمنٹ لیٹر جاری ہو چکے تھے۔جن کا تعلق گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع سے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments