آرڈر پہ آرڈر

بات گلگت بلتستان کے عام انتخابات اور 2015تا 2020 حکومت سے باہر نکل گئی ہے۔ یہ بات اس سطح سے کیوں اور کیسے باہر نکل گئی ہے اس کے لئے ارباب اختیار سر جوڑیں۔ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے دورہ گلگت اور اسمبلی و کونسل کے مشترکہ اجلاس سے قائد حزب اختلاف نے انتہائی پرمغز خطاب کیا ۔ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے قائد حزب اختلاف غلطی سے اس جانب آگئے ہیں۔ کیونکہ چند روز قبل تک کیپٹن (ر) محمد شفیع کہہ رہے تھے کہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کچھ بھی نہیں صرف 2009کے آرڈر کا لبادہ تبدیل کردیا گیا ہے ۔ بعد ازاں مختلف غیر حتمی ڈرافٹ کے پبلک ہونے پر انہوں نے دوبارہ موقف تبدیل کرلیا اور ’مبینہ طور پر ‘ اختیارات وزیراعظم کو منتقل کے معاملے پر حسب روایت اختلاف شروع کردی ۔پھر اپوزیشن نے قرارداد پیش کی کہ جی بی آرڈر 2018کو منظوری سے قبل قانون ساز اسمبلی میں پیش کردیا جائے ۔ جس روز اسمبلی میں پیش کردیا گیا اس روز پھر اسمبلی سے بائیکاٹ کردیا۔اور مسلسل پریس کانفرنس کرتے رہے ۔ گلگت میں معمول کا جلسہ کیا۔ تن تنہا (اراکین اپوزیشن )اسلام آباد پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے علامتی دھرنے کیمپ لگائے بیٹھے ۔ یہاں تک کوئی بھی بات حزب اختلاف کی حمایت میں نہیں جارہی تھی ۔ کمال کی بات یہ ہے کہ حکومت نے اس دوران بھی اور اب بھی اپوزیشن کو زرہ برابر بھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ گلگت بلتستان کونسل اور قانون ساز اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میں پہنچنے سے قبل اراکین حزب اختلاف کو کھٹن مرحلے سے گزرنا پڑا۔ یہ بات ناقابل فہم ہے کہ 26مئی کے دھرنے میں لاٹھی چارج اور آنسو گیس شیلنگ کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی تھی ۔ اس آنسو گیس شیلنگ اور لاٹھی چارج نے حالات کا رخ یک دم موڑ لیا۔ آنسو گیس شیلنگ میں اپوزیشن رکن راجہ جہانزیب، عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین مولانا سلطان رئیس سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے ۔ اور احتجاجی مظاہرے کو اسمبلی پہنچنے سے روکا اور ڈومیال اور ریورویو روڈ کے سنگم کی اترائی تک محدود رکھا ۔ اس پر تشدد واقعہ نے غصے کی لہر کو بڑھکا دیا ۔ اترائی اور چڑھائی کے بیچ میں بیٹھ کر انجمن تاجران نے شٹرڈاؤن ہڑتال کی کال دیدی ۔اس دوران سپیکر فدا محمدناشاد کی سربراہی میں حکومتی وفدنے اپوزیشن ممبران سے مذاکرات کئے حکومتی وفد میں سینئر وزیر اکبرتابان، وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ، اورو زیر زراعت حاجی جانباز خان موجود تھے ۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں اپوزیشن نے اپنے بائیکاٹ کا اعلان واپس لیتے ہوئے اسمبلی اجلاس میں آنے کی حامی بھرلی اور اسمبلی میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کا فیصلہ کرلیا ۔

27مئی کو وزیراعظم پاکستان کے دورہ گلگت کے موقع پر کامیاب شٹرڈاؤن ہڑتال کا مظاہرہ ہو ا۔ یقیناًیہ تمام باتیں دورہ سے قبل وقت ہی وزیراعظم کے علم میں لائی جاچکی تھی ۔ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب سے قبل قائد حزب اختلاف نے اجازت لیکر اپنی تقریر شروع کردی ۔ خلاف توقع کیپٹن (ر) شفیع نے نہ صرف تحمل اور مہذب انداز میں تقریر کی بلکہ وزیراعظم پاکستان پر واضح کردیا کہ ہم گلگت بلتستان آرڈر 2018کی مخالفت نہیں کررہے ہیں مگر ہم بار بار آرڈرز کے زریعے نظام چلانے کے اس سلسلے کے خلاف ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کے نتیجے میں تین علاقے متنازعہ قرار پائے ہیں ۔جن میں مقبوضہ کشمیر آف انڈیا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان شامل ہیں۔ ان میں اول الذکر کے پاس تمام بنیادی سہولیات کے علاوہ مکمل آئین اور انڈین قومی اسمبلی (لوک سبھا) میں نمائندگی موجود ہے ۔ثانی الذکر کے پاس اپنا آئین موجود ہے اور تمام معاملات وفاقی حکومت کے ساتھ ایک طے شدہ اصول کے مطابق چل رہے ہیں مگر گلگت بلتستان کو70سالوں سے صرف ’آرڈرز ‘پر چلارہے ہیں لہٰذا آپ(وزیراعظم) سے بحیثیت مختار اپیل ہے کہ اس آرڈر کو روکنے کا حکم دیدیں۔ کیپٹن (ر) شفیع نے حکومتی بینچ کی طرف نازیبا الفاظ کا استعمال بھی کیا جنہیں سپیکر کو چاہئے تھا کہ حذف کردیتا مگر نہیں کیا ۔ ان نازیبا الفاظ کے جواب میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے اپنی تقریر شروع کردی ۔ اور کہا کہ اپوزیشن کے اہم سنجیدہ اور معزز اراکین ہمارے ساتھ ہیں کل چار اراکین کو اس آرڈر پر اعتراض ہے اور ان چار اراکین کے ساتھ 200لوگ بھی احتجاج میں موجود نہیں ہیں۔ وزیراعلیٰ کا اتنا کہنا کافی تھا کہ آرڈرکی کاپیاں پھاڑ کر سپیکر کی جانب اچھالی گئی اور بائیکاٹ کا اعلان کردیا اس بائیکاٹ پر جلتی پہ تیل کا کام میجر (ر) امین نے کردیا اور راجہ جہانزیب کے ساتھ الجھ پڑا۔ اگر سپیکر کیپٹن (ر) شفیع کے نازیبا الفاظ کو ہذف کردیتا یا پھر وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جوابی تقریر نہیں کرتا تو کم از کم صورتحال اتنی نہیں بگڑتی جتنی آج بگڑگئی ہے ۔ وزیراعلیٰ کی تقریر سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ انہوں نے اپوزیشن کو اب بھی سنجیدہ نہیں لیا ۔ وزیراعلیٰ غور کریں کہ تین سال طویل اور مسلسل ہوم ورک کرنے کے بعد متعارف کردہ آرڈر کے خلاف سوشل میڈیا میں انتہائی جاندار مہم کیوں چلی؟ اس مہم میں شاید ہی اپوزیشن کا زیادہ کردار تھا ؟ اس آرڈر کے نفاز کے لئے اپوزیشن پر تنقید کرنا کس حد تک ضروری تھا؟ اس آرڈر کے مبہم اردو ترجمے کے جواب میں اب تک اردو ترجمہ کیوں نہیں لایا گیا؟ کئی دنوں سے عوامی جلسے اور احتجاجی مظاہرے جاری تھے اس دوران اگر حکومت کا کوئی بھی رکن مظاہرے میں شرکت کرکے اپنا مدعا پیش کرتا تو کونسی قیامت آنے تھی۔ مگر حکومتی ارکان اس بات کا سراغ لگانے کے پیچھے پڑگئے کہ احتجاجی جلسوں اور مظاہروں سے قبل کس کس مسجد کا دورہ کیا گیا ہے ۔

گلگت بلتستان آرڈر 2018 کسی بھی صورت آئینی حقوق کی طرف قدم نہیں ہے مگر گلگت بلتستان میں موجود کئی بنیادی مسائل اور بنیادی حقوق کو بہترین انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔ 2009 کے آرڈر کی اگلی شکل ہے مگر دونوں آرڈرز ہیں۔ اس موجودہ آرڈر کے حوالے سے اتنے غلط فہمیاں پیدا کی گئیں ہیں کہ ان کا جواب دینا بھی ممکن نہیں ہے ۔ قارئین کی جانب سے بھی اس پر ردعمل کرتے ہوئے اپنے سوالات پیش کئے گئے اور مبہم سوالات کی بنیاد پر اپنے تحفظات کااظہار کردیا ۔ جو اردو ترجمہ سوشل میڈیا میں وائرل کردیا گیا ہے میں آج بھی اس کی تصدیق نہیں کرسکتا ہوں اورا س آرڈر کے تقابلی جائزہ میں اس کو گزشتہ آرڈر کی بہتر شکل قرار دیتا ہوں۔ گزشتہ آرڈر میں بھی واضح مقصد بیان کیا گیا تھا کہ گلگت بلتستان کو امپاورمنٹ دیتے ہوئے سیلف گورننس متعارف کرائی جائے موجودہ نئے آرڈر میں اس مقصد کو قبول کرتے ہوئے اسے دوسرے صوبوں کے مساوی لانے کو مقصد قرار دیا گیا ہے ۔ اور دوسرے صوبوں کے مساوی لانے کے اس عمل پر ہندوستان نے میڈیا پر اپنا غلیظ پروپیگنڈہ جاری رکھا ہے۔

گلگت بلتستان میں باجماعت سیاسی سرگرمیوں کے ابتداء کے ساتھ ہی انتہائی ’انجینئرڈ‘مائنڈ سیٹ نے یہاں پر یہ بات پھیلادی کہ گلگت بلتستان کے پسماندگی کا واحد حل ’پانچواں آئینی صوبہ ‘ہے ۔ اس خوبصورت مگر زہر قاتل نعرے نے یہاں جدوجہد ، سوچ ،فکر اور تخلیق کے دروازے بند کردیتے ہوئے یہاں کے نوجوانوں میں مایوسی پھیلانا شروع کردیا جو ہنوز جاری ہے ۔ اب جاکے لوگوں کو کسی حد تک سمجھ آرہا ہے کہ پاکستان کا موقف گلگت بلتستان کے عوام اور جی بی کے بہتر مفاد میں ہے ۔ پاکستان نے اپنا موقف انڈین متعصب میڈیا کے جواب کالے پروپیگنڈے کے جواب میں دیدیا ہے ۔ گلگت بلتستان آرڈر 2018 اپنی موجودہ شکل میں یا پھر کچھ ترامیم اور اضافی اختیارات کے ساتھ ہر صورت نافذ ہوکررہے گا اور اس کے نفاز سے موجودہ حالات حاضرہ کے تناظر میں بہتر ی کی امید ہے ۔ اپوزیشن نے جس اہم نکتے کو وزیراعظم کے سامنے اٹھایا ہے وہ پہلی بار مبہم اور ناقابل عمل نعروں اور مطالبوں سے ہٹ کر پیش کئے گئے ہیں اور یہ صوبائی حکومت کے دائرہ کار سے باہر نکل گئے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کو گزشتہ کالم میں بھی تجویز دی تھی کہ دونوں اپنے اندر لچک پیدا کریں ۔ آرڈر 2018 صدارتی آرڈر کے طور پر قابل عمل اور قابل قبول ہے اس آرڈر میں موجود اپوزیشن کے تحفظات کو ضرور دور کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments